کوئٹہ کمیشن رپورٹ بدھ کو سینیٹ میں زیرِ بحث لائی جائے گی

تصویر کے کاپی رائٹ AAMIR QURESHI
Image caption ایوانِ بالا میں قانونی پیشہ واران و مجلس وکلا ترمیمی بل 2016 بھی منظور کر لیا گیا جسے وزیرِ قانون زاہد حامد نے پیش کیا تھا

پاکستان کے ایوانِ بالا یعنی سینیٹ میں آٹھ اگست کو کوئٹہ کے سول ہسپتال میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعے پر کمیشن کی رپورٹ کو زیرِ بحث لائے جانے کی تحریکِ التوا منظور کر لی گئی ہے جس پر بدھ کے روز ایوان میں بحث کی جائے گی۔

سینیٹ کا اجلاس منگل کے روز چیئرمین سینیٹ سینیٹر رضا ربانی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں شیری رحمان، اعتزاز احسن اور اسلام الدین شیخ سمیت دیگر 14سینیٹرز نے کوئٹہ کے واقعے پر تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ پر بحث کے لیے تحریک پیش کی۔

اِس کے علاوہ ایوانِ بالا میں قانونی پیشہ واران و مجلس وکلا ترمیمی بل 2016 بھی منظور کر لیا گیا جسے وزیرِ قانون زاہد حامد نے پیش کیا تھا۔ اِس ترمیمی بل کا مقصد قانونی پیشہ واران اور مجالسِ وکلاء و بار کونسلوں میں بے قاعدگیوں کو صحیح کرنے کے سمیت بار کونسلوں اور ایسوسی ایشنوں کو وفاقی عطیات کے دائرے میں لانا ہے۔

وقفہ سوالات کے دوران وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ایوانِ بالا کو تحریری طور پر بتایا کہ جون 2013 سے اکتوبر 2016 تک ملک میں ایک لاکھ 65 ہزار 652 شناختی کارڈز بلاک کیے گئے جبکہ اِنھی تین سالوں کے دوران 6 ہزار 667 شناختی کاردز کلیر بھی قرار دے دیے گئے ہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں وزارتِ داخلہ نے بتایا کہ ’ری ویریفکیشن‘ کے عمل کے دوران ستمبر 2016 تک ملک بھر سے 48331 جعلی یا مشکوک شناختی کارڈز کی نشاندہی کی گئی ہے جس میں متعلقہ ادارے یعنی نادرا کے 18 ملازمین ملوث پائے گئے ہیں جن کے خلاف مقدمات درج ہیں۔

سینیٹر نہال ہاشمی کے سوال کے جواب میں وزیرِ داخلہ نے تحریری طور پر سینیٹ کو بتایا کہ ملک بھر سے انسانی سمگلنگ کو روکنے کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے نے غیر قانونی تجارت میں ملوث افراد کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کیا ہے جس کے دوران اب تک دو ہزار 982 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

اُدھر منگل کے روز پاکستان کے ایوانِ زیریں یعنی قومی اسمبلی میں وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے انتخابی اصلاحات کی ذیلی کمیٹی کی تیسری عبوری رپورٹ پیش کی جس میں تجویز دی گئی ہے کہ الیکشن سے متعلق نو مخلتف قوانین کو یکجا کر کے ایک مـجوزہ قانونی مسودہ تیار کیا جائے جسے بحث اور متعلقہ اداروں سے منظوری کے بعد الیکشن بل2017 کا نام دیا جائے۔

اسحاق ڈار نے بتایا کہ مجوزہ مسودہ تیار کر لیا گیا ہے اور اُسے الیکشن کمیشن کے پاس نظرِ ثانی کے لیے 30 دن کی مہلت کے ساتھ بھیج دیا گیا ہے۔

اُنھوں نے درخواست کی کہ اِس مجوزہ مسودے کو قومی اسمبلی کی ویب سائٹ پر بھی جاری کر دیا جائے اور عوام سے اِس پر رائے مانگی جائے تاکہ اِس میں کسی بھی ممکنہ خامی کو دور کیا جا سکے۔

پوائنٹ آف آڈر پر بات کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے نوید قمر نے ایوان کی توجہ پانچ مخلتف نگراں اداروں کو وزارتوں کے ماتحت کیے جانے کی جانب مبزول کرائی اور کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل سے منظوری کے بغیر یہ احکامات جاری کرنا غیر قانونی ہے۔

شاہ محمود قریشی نے اِن احکامات کو 'تمام ریگولیٹرز کو تابوت میں دفن' کیے جانے سے تعبر کیا۔

اِس کے جواب میں حکمراں جماعت کے رہنما خواجہ محمد آصف نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل میں یہ معاملہ گیا تھا اِس پر تمام صوبوں سے مشاورت جاری ہے اور اگلے اجلاس میں یہ معاملہ ایجنڈے کا حصہ ضرور ہوگا۔

اُنھوں نے واضح کیا کہ اِن اداروں کا انتظامی کنٹرول وزاتوں کو دیا گیا ہے جبکہ نگرانی (ریگولیٹری) کنٹرول اُن کے پاس ہی ہے۔

پوائنٹ آف آڈر پر بات کرتے ہوئے پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اسد عمر نے جوں بات شروع کی تو وہ وزیرِ اعظم کی پارلیمان میں کی جانے والی تقریر پر بات کرنے لگے جس پر اسپیکر ایاز صادق نے اُنھیں صرف جسٹس ریٹائرڈ فائز عیسیٰ کے کمیشن کی رپورٹ تک بات کو محدود رکھنے کا کہا۔ کچھ دیر ایوان میں اِس بات پر بحث رہی جس پر اسپیکر نے قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں