سینیٹ میں 5000 روپے کے نوٹ منسوخ کرنے کی تجویز

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption وزیرِ قانون زاہد حامد نے اس قرارداد کی مخالفت کی اور ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدام سے تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوں گی

پاکستان کے ایوانِ بالا میں پانچ ہزار روپے کے کرنسی نوٹ کو منسوخ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

حکومتی مخالفت کے باوجود ملک میں پانچ ہزار روپے کے کرنسی نوٹ کو منسوخ کرنے کی ایک قرارداد منظور کر لی ہے۔

پیر کو حکومت کو تجویز دی گئی ہے کہ غیر قانونی رقوم کے لین دین کو روکنے کے لیے ان کرنسی نوٹوں کو سرکیولیشن سے نکال دیا جائے تاہم حکومتی ارکان نے اس تجویز کی مخالفت کی۔

دو ماہ قبل ہمسایہ ملک انڈیا میں بھی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی کرپشن کے خاتمے کے مقصد سے ملک میں 1000 روپے اور 500 روپے کے کرنسی نوٹوں کی فوری منسوخی کا غیر متوقع اعلان کیا تھا۔

اس اقدام کی وجہ سے انڈیا میں کرنسی نوٹوں کی شدید کمی پیدا ہو گئی تھی۔

ٹیکس معافی کی سکیم

مقامی اخبار پاکستان ٹوڈے کے مطابق پاکستانی سینیٹ میں 5000 روپے کے کرنسی نوٹوں کو ختم کرنے کی تجویز سینیٹر عثمان سیف اللہ خان نے پیش کی جن کا کہنا تھا کہ اس نوٹ کو غیر قانونی لین دین کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس نوٹ کو ایک دم نہیں بلکہ تین سے پانچ سال کے عرصے میں ختم کیا جانا چاہیے۔

وزیرِ قانون زاہد حامد نے اس کی مخالفت کی اور ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدام سے تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوں گی۔

پاکستانی معیشت کا ایک بڑا حصہ غیر رسمی ہے۔ حکومت نے ملک میں ٹیکس جمع کروانے والوں کی شرح میں اضافے کے لیے ٹیکس معافی کی سکیمیں بھی متعارف کروائی ہیں۔

پانچ ہزار روپے کا مذکورہ کرنسی نوٹ ملک میں موجود 3.3ٹریلین روپوں کا تقریباً ایک تہائی حصہ ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں