چکن گنیہ وائرس کا شبہ، تصدیق کے لیے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ AP

پاکستان کے کراچی کے علاقوں میں ان دنوں شدید بخار اور جوڑوں کے درد کے ساتھ مریضوں کی بڑی تعداد ہپستالوں میں لائی جا رہی ہے، جن کے بارے میں چکن گنیہ وائرس کا شبہ ظاہر کیا جارہا ہے تصدیق کے لیے ان کے ٹسیٹ کیے جا رہے ہیں۔

پاکستان میں چکن گنیہ وائرس کی علامات 2015 سے پائی گئی تھیں اور ماہرین نے متنبہ کیا تھا کہ ڈینگی کے علاوہ چکن گنیہ بھی پھیل سکتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق چکن گنیہ ایک وائرل بیماری ہے جو متاثرہ مچھر کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہوتی ہے، جس کی وجہ سے بخار اور جوڑوں میں شدید درد ہوتا ہے۔ اس کی کچھ علامات ڈینگی سے مشہابت رکھتی ہیں۔

کراچی کے علاقے ملیر، سعود آباد اور آس پاس کے ہسپتالوں میں یہ مریض لائے جا رہے ہیں۔ لوگوں کی بڑی تعداد اس بیماری کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں لیکن خود ڈاکٹر بھی اس سے لاعلم ہیں۔

حکام کے مطابق صرف سعود آباد ہپستال میں ایک ماہ کے اندر 4800 مریض لائے جاچکے ہیں جن میں سے 49 کی علامات ڈینگی سے مشابہت رکھتی ہے۔

سعود آباد ہسپتال کی ایم ایس ڈاکٹر ریحانہ کا کہنا ہے کہ 103 سے 104 سینٹی گریڈ بخار کے ساتھ مریض لائے جا رہے ہیں جنہیں جوڑوں میں درد بھی ہے، اور وہ انھیں صرف پیرا سیٹامول دے رہے ہیں۔

صحت کے عالمی ادارے ڈبلیو ایچ او اور آغا خان فاونڈیشن کی ٹیموں نے بھی متاثرہ مریضوں کا معائنہ کیا ہے اور ٹیسٹ کے لیے نمونے حاصل کیے ہیں۔

ڈاکٹر ریحانہ کا کہنا ہے کہ اس وقت کچھ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ کونسا وائرس ہے۔ اس بارے میں تحقیقات کی جاری ہیں اور آٹھ سے دس روز میں رزلٹ آجائے گا پھر حتمی طور پر کچھ کہا جاسکتا ہے۔

آغا خان ہپستال کی ڈاکٹر ارم خان گذشتہ چند سالوں سے چکن گنیہ وائرس پر تحقیق کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ملیر میں مریضوں میں جو علامات پائی جا رہی ہیں کلینک ڈائیگنوز میں تو چکن گنیہ کی ہی لگ رہی ہیں لیکن حتمی طور پر تو ٹیسٹ کا نتیجہ آنے کے بعد کہا جاسکے گا۔

چکن گنیہ کے وائرس کی شناخت کا ٹیسٹ خصوصی لیبارٹری میں کیا جاتا ہے اور ایسی لیبارٹریز کی پاکستان میں تعداد انتہائی محدود ہے۔ آغا خان نے محکمہ صحت کو پانچ ٹیسٹ مفت میں کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

ڈاکٹر ارم خان کا کہنا ہے کہ چکن گنیہ ڈینگی سے مختلف بھی ہے اور کچھ حد تک ملتا بھی ہے جیسے کہ شدید بخار اور جسم میں درد ہونا دونوں میں ہی ہوتا ہے۔ لیکن چکن گنیہ میں جوڑوں میں درد بہت زیادہ ہوتا ہے، خاص طور پر چھوٹے جوڑوں میں یعنی ہاتھوں کے جوڑ، انگلیوں اور پیروں کے جوڑ وہاں تکلیف زیادہ ہوتی ہے اور انسان چلنے پھرنے سے معذور ہوجاتا ہے۔

کراچی کے سب سے بڑے نجی ہپستال آغا خان ہپستال میں چکن گنیہ کی علامات کے مریضوں کی آمد 2015 سے شروع ہوئی تھی۔ ڈاکٹر ارم خان کا کہنا ہے کہ 'مریضوں میں ہم نے دیکھا کہ اس وائرس کے اثرات ہیں۔ اس وقت بھی ہم نے پیشن گوئی کی تھی کہ جہاں جہاں ڈینگی ہوتا ہے وہاں چکن گنیہ یا اس طرح کے وائرس کے بھی اثرات نظر آئیں گے۔'

کراچی واٹر اور سیوریج بورڈ کے اعداد و شمار کے مطابق گھروں اور صنعتوں سے یومیہ 417 ملین گیلن پانی کی نکاسی ہوتی ہے اسی طرح آٹھ ہزار ٹن کوڑا اکٹھا کیا جاتا ہے۔ تاہم گذشتہ کچھ عرصے سے شہر کی کئی علاقوں میں گندگی میں اضافہ ہوا ہے اور صفائی کے لیے نو منتخب میئر وسیم اختر نے ایک ماہ کی مہم بھی شروع کی ہے۔

ڈاکٹر ارم کا کہنا ہے کہ چکن گنیہ پھیلنے کی ایک وجہ گندگی بھی ہوسکتی ہے۔ 'جگہ جگہ گندگی ہے جہاں مچھر کے پنپنے کے مواقع موجود ہیں، اب کچرا پھیل رہا ہے تو ساتھ میں ڈینگی اور چکن گنیہ بھی پھل پھول رہے ہیں۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں