’بلوچستان میں خواتین کو احترام تو ملتا ہے، حقوق نہیں‘

بی بی سی مباحثہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں خواتین کا احترام تو کیا جاتا ہے مگر انھیں ان کے حقوق نہیں دیے جاتے ہیں،یہاں غیرت کے نام پر قتل اس لیے ہوتے ہیں کیونکہ ایسا کرنے والوں کو معاف کر دیا جاتا ہے۔

اس رائے کا اظہار کوئٹہ میں بی بی سی اردو کی خصوصی سیریز قتل و غیرت کے تحت ہونے والے مباحثے میں کیا گیا۔

خودکشیاں یا غیرت کے نام پر قتل

غیرت کے نام پر قتل: جرگے کے حکم پر ملزمان کی رہائی

قتل و غیرت: بی بی سی اردو کے خصوصی مباحثے

قتل و غیرت کی اصل وجہ، عورت کو کنٹرول کرنے کی خواہش

یہ مباحثہ بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ مینجمنٹ سائنسز کے کیمپس میں منعقد ہوا۔

مباحثے کے پینلسٹ میں سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال، سابق رکن قومی اسمبلی عبد الرؤف مینگل اور غیر سرکاری تنظیم وومن ٹوڈے کی سربراہ ثنا درانی شامل تھیں۔

مباحثے کا آغاز کرتے ہوئے ثنا درانی نے کہا کہ بلوچستان اور ملک کے دیگر علاقوں میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے کوئی خاص فرق نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ بلوچستان میں خواتین اپنے حقوق اور عزت کے فرق کو کو سمجھ نہیں پا رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا 'مجھے محسوس ہوتا ہے کہ بلوچستان میں جس چیز کو خواتین حقوق سمجھتی ہیں وہ دراصل عزت و احترام ہے جو بلوچستان میں انھیں سب سے زیادہ ملتی ہے لیکن جہاں تک خواتین کے حقوق کی بات ہے بلوچستان اس میں بہت پیچھے ہے۔'

ثنا درانی نے عورت فاؤنڈیشن کی جانب سے سنہ 2016 میں خواتین پر تشدد کے حوالے سے مرتب کردہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے مطابق 38 خواتین کو نام نہاد غیرت کے نام پر ہلاک کیا گیا جب کہ تشدد کے دیگر 220 واقعات رپورٹ ہوئے۔

ان کا کہنا تھا 'ان اعداد و شمار پر شاید میں بھی اتفاق نہیں کروں گی کیونکہ بلوچستان کے دور دراز کے علاقوں میں خواتین پر تشدد کے واقعات کی رپورٹنگ کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔'

سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال نے خواتین کے حقوق کو یقینی بنانے کے لیے ان میں تعلیم کی شرح کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایک مرد کے لکھے پڑھے ہونے سے معاشرے میں تبدیلی نہیں آتی لیکن جب ایک خاتون لکھی پڑھی ہوتی ہے تو اس سے ماحول اور رویوں میں تبدیلی آتی ہے ۔

انھوں نے کہا کہ ہم شریعت کو قبائلی رسم و رواج کے ساتھ کنفیوز کرتے ہیں۔

زبیدہ جلال کا کہنا تھا 'میں یہ سمجھتی ہوں کہ بلوچستان میں قبائلی روایات اور رسم و رواج اسلامی و شرعی قوانین سے زیادہ مضبوط ہیں۔'

سابق رکن قومی اسمبلی راؤف مینگل کا کہنا تھا کہ قبائلی اور مذہبی پابندیاں اپنی جگہ موجود ہیں لیکن ان کی رائے کے مطابق اگر خواتین کو ان کے حقوق نہیں ملتے تو اس میں ریاست کی کمزوریاں زیادہ ہیں۔

انھوں نے کہا اس کی ایک مثال یہ ہے کہ بلوچستان میں 25 لاکھ بچے سکول نہیں جاتے ہیں۔

ثنا درانی نے بتایا کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے بہت سے قوانین ہیں لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ ان تمام پر لکھا ہوتا ہے کہ ان کا نفاذ قبائلی علاقوں پر نہیں ہوتا جب کہ کوئٹہ کے علاوہ بلوچستان کے باقی تمام علاقے قبائلی ہیں۔'

ان کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان قوانین کا بلوچستان کے زیادہ تر علاقوں میں نفاذ نہیں ہوتا ہے۔

راؤف مینگل کے مطابق ’قبائلی نظام کی موجودگی کی بڑی وجہ پسماندگی اور روابط کی کمی ہے۔ موجودہ دور گلوبلائیزیشن کا دور ہے۔ سائنس کی ترقی نے فاصلوں کو قریب کیا تاہم بلوچستان اس حوالے سے بہت پیچھے ہے۔

ان کا کہنا تھا 'میں قبائلی نظام کو فرسودہ نظام کہتا ہوں۔ قبائلی نظام ہو یا کوئی اور فرسودہ نظام ہو وہ آپ کو آگے بڑھنے نہیں دے گا۔'

سابق رکن قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ ملک میں اور بالخصوص بلوچستان میں تعلیم کو زیادہ سے زیادہ وسعت دی جائے جو ہمیں ہر قسم کے فرسودہ نظاموں اور روایات سے نجات دلا سکتی ہے۔

راؤف مینگل کے مطابق ’قبائلی نظام کی موجودگی کی بڑی وجہ پسماندگی اور روابط کی کمی ہے۔ موجودہ دور گلوبلائیزیشن کا دور ہے۔ سائنس کی ترقی نے فاصلوں کو قریب کیا تاہم بلوچستان اس حوالے سے بہت پیچھے ہے۔

ان کا کہنا تھا 'میں قبائلی نظام کو فرسودہ نظام کہتا ہوں۔ قبائلی نظام ہو یا کوئی اور فرسودہ نظام ہو وہ آپ کو آگے بڑھنے نہیں دے گا۔'

سابق رکن قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ ملک میں اور بالخصوص بلوچستان میں تعلیم کو زیادہ سے زیادہ وسعت دی جائے جو ہمیں ہر قسم کے فرسودہ نظاموں اور روایات سے نجات دلا سکتی ہے۔

مباحثے کے شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خواتین کے حقو ق کو یقینی بنانے اور ان پر تشدد کے خاتمے کے لیے مردوں کی سوچ اور ذہنیت کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

مباحثے کے دوران جب شرکا سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا مردوں کی سوچ اور رویے میں تبدیلی آئی ہے تو ثنا درانی کا کہنا تھا کہ کہا جاتا کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہے۔

انھوں نے کہا ' ہمیں ایسے مردوں کی ضرورت ہے جو اس روایت کو تبدیل کریں اور وہ یہ روایت سامنے لائیں کہ فلاں کامیاب خاتون کے پیچھے مرد کا ہاتھ ہے۔'

ثنا درانی کا کہنا تھا کہ ہم اپنے معاشرے میں رہتے ہوئے ترقی کر سکتے ہیں لیکن اس کے لیے مردوں کی مدد کی ضرورت ہے جب تک ہمیں ہمارے گھروں سے مردوں کی سپورٹ نہیں ملتی چیزوں کا آگے بڑھنا بہت مشکل ہے۔

غیر سرکاری تنظیم وومن ٹوڈے کی سربراہ نے کہا کہ قانون اور تعلیم کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے رویے اور مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے جس کے تحت ہم خواتین کو پابند کرتے ہیں کہ وہ گاڑی نہیں چلاسکتی ہیں بلکہ ان کا کام صرف باورچی خانے تک محدود ہے۔

یونیورسٹی کی ایک طالبہ سہالہ اچکزئی کا کہنا تھا کہ تعلیم حاصل کرنا اتنا ضروری نہیں جتنا کہ مردوں کی سوچ اور ذہنیت کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ سوچ اور ذہن بنانا چاہیے کہ خواتین مردوں کے برابر ہیں لیکن اس وقت جو سوچ ہے وہ یہ کہ خواتین میں سمجھ نہیں ہے۔ ہمیں مردوں کی اس سوچ اور ذہنیت میں لانی ہوگی۔

ایک اور طالبہ علیزہ اشرف کا کہنا تھا 'میرے خیال میں غیرت مند مرد وہ ہے جو ایک دوستانہ ماحول کے مطابق اپنے گھر کو لے کر چلتا ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں غیرت ایک گن ہوتی ہے اور حیا کو ایک پہنے ہوئے برقعے تک محدود کر دیا گیا ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

ایک اور طالبہ شرمین ہاشمی کا کہنا تھا کہ قوانین بہت سارے ہیں لیکن غیرت کے نام پر قتل اس لیے ہوتے ہیں کہ ان کو کرنے والوں کو معاف کر دیا جاتا ہے۔

'جو لڑکی کے گھر والے ہوتے ہیں وہ بھی اپنے قتل کرنے والے مرد رشتہ دارکو معاف کر دیتے ہیں۔ اس طرح جو مجرم ہے اس کو سزا نہیں دی جاتی ہے جس کی وجہ سے یہ قتل ہوتے رہتے ہیں'۔

ایک طالبہ ماریہ محمود کا کہنا تھا کہ یہاں مردوں کی ذہنیت اور سوچ کی بات کی جاتی ہے مرد کی ذہنیت بناتا کون ہے یہ اس کی ماں بناتی ہے اگر اتنی تعلیم کے باوجود ایک خاتون اپنے بیٹے کو یہ نہیں سمجھا پا رہی ہے کہ اسے خواتین کے ساتھ کس طرح سلوک کرنا ہے تو پھر ہم کس سے گلہ کریں۔؟

خواتین کی حقوق نہ ملنے کی ایک وجہ بتاتے ہوئے ایک اور طالبہ نائلہ کا کہنا تھا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ مرد عورت کو زیر دست رکھ کر تمام وسائل اور اختیارات پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔

اسی بارے میں