قطری خاندان کو بلوچستان کے علاقے میں شکار کی اجازت

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption درجنوں گاڑیوں پر مشتمل شکاری قافلے لوگوں کی فصلوں کو روند دیتے ہیں اس وقت فصلیں کٹائی کے لیے تیار ہیں: یار محمد رند

بلوچستان میں تحریک انصاف کے رہنما اور مقامی سردار یار محمد رند نے قطری خاندان کو اپنے علاقے میں تلور کے شکار کی مشروط اجازت دے دی ہے۔ کچھی کے لوگوں نے گزشتہ روز قطری خاندان کے خلاف احتجاج کیا تھا۔

سردار یار محمد رند نے بی بی سی کو بتایا کہ قطری خاندان ان کے ذاتی دوستوں کو لے کر ان کے پاس آئے تھے اور معذرت کی۔ ’انھوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ آبادیوں میں نہیں جائیں گے اور فصلوں میں شکار نہیں کریں گے انہیں جو علاقے الاٹ کیے گئے ہیں ان تک محدود رہیں گے۔ یہ ذاتی مسئلہ نہیں تھا، اس وجہ سے ہم نے حامی بھر لی۔‘

سردار یار محمد رند کے مطابق ان شکاری قافلوں کے پاس پچاس سے سو گاڑیاں ہوتی ہیں اور جہاں تلور جاتی ہے وہ اس کا پیچھا کرتے ہیں اس دوران لوگوں کی فصلوں کو روند دیتے ہیں اس وقت فصلیں کٹائی کے لیے تیار ہیں۔

٭ تلور کا شکار: پنجگور میں شاہی خاندان پر فائرنگ

٭ خیبر پختونخوا: قطری شہزادوں کو تلور کے شکار کی اجازت نہیں

٭ شاہی شکاریوں کی آمد سے کسان پریشان

پاکستان میں ہر سال سعودی حکمران خاندان کے علاوہ خلیجی ممالک کے حکمران اور ان کے رشتے دار شکار کے لیے آتے ہیں۔ رواں سال قطر کے حکمرانوں کو پاکستان میں 8 علاقے دیئے گئے ہیں جبکہ 2014 میں چاروں صوبوں کے 14 اضلاع دیئے گئے تھے۔

تحریک انصاف کی خیبر پختونخوا میں حکومت نے قطری خاندان کو شکار کی اجازت دینے سے انکار کیا جبکہ بلوچستان میں مسلح گروہوں کی جانب سے بھی ان عرب شکاریوں کو مزاحمت کا سامنا ہے۔ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سربراہ ڈاکٹر الہ نذر نے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ تلور کا تحفظ کیا جائے۔ اس پیغام کے ساتھ ان کی تصویر بھی سوشل میڈیا پر ریلیز کی گئی جس میں ان کے گود میں تلور موجود ہے۔

سردار یار محمد رند کا دعویٰ تھا کہ’ قطر کا خاندان ہر سال نہیں آتا اور پاناما لیکس کی وجہ سے شریف خاندان قطر کے حکمرانوں پر مہربان ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے تلور کے شکار کے لیے دبئی کے لوگ بھی آتے تھے جو بیس تیس ہزار تلور رہا کرتے ہیں جو انھوں نے پالے ہوئے ہوتے ہیں۔’اگر وہ شکار کرتے ہیں تو تحفظ بھی فراہم کر رہے ہوتے ہیں۔‘

Image caption تحریک انصاف نے کراچی میں ایک عوامی عدالت کا انعقاد کرکے قطری حکمران کو سزا سنائی

پاناما لیکس سکینڈل میں قطر کے شہزادے کی جانب سے عدالت میں خط پیش کیا گیا تھا، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ لندن میں شریف خاندان کو انھوں نے فلیٹ تحفے میں دیا تھا۔ جس کے بعد تحریک انصاف کا احتجاج سامنے آیا جس میں بظاہر تلور کے تحفظ کی بات کی گئی ہے۔

کراچی میں بھی تحریک انصاف کی جانب سے احتجاج کیا گیا تھا، جس میں ایک عوامی عدالت کا انعقاد کرکے قطری حکمران کو سزا سنائی گئی، تنظیم کے رہنما حلیم عادل صدیقی کا کہنا ہے کہ اس قطری حکمران نے پاکستان کے حکمرانوں کی کرپشن کو چھپانے کے لیے جو تحفظ دیا ہے اس کی وجہ سے لوگوں کے دل میں نفرت ہے ۔

’تحریک انصاف کا یہ اصولی فیصلہ ہے کہ مہمان پرندے ہیں ان کے شکار کی اجازت نہیں دینی اور دوسرا یہ کہ اس قطری خاندان کو ٹف ٹائیم دینا ہے، کیونکہ اگر یہ ہمارا دوست ملک ہے تو اس معاملے میں نہیں آنا چاہیے تھا۔ انہوں نے اپنے ذاتی مقاصد کے لیے انہیں جھوٹا خط دیا اور بدلے میں پورا پاکستان کھول دیا گیا۔‘

اسی بارے میں