’غیرت کے نام پر قتل خیانت کا ردعمل‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption غیرت کے نام پر قتل پورے خطے میں مسئلہ ہے

’بنیادی طور پر یہ نام نہاد غیرت کے نام پر قتل ایک سماجی اور نفسیاتی مسئلہ ہے۔ مثلا اگر آپ پاکستان کے پینل کوڈ کی شق تین سو کو دیکھیں جو اکسانے سے متعلق ہے۔ کہ کوئی بھی آدمی ردعمل کے طور پر کچھ بھی کرسکتا ہے۔ اب اگر یہ واقعات بلوچستان میں ہو رہے ہیں تو یہ دنیا کے دوسرے حصوں میں بھی ہورہے ہیں اور میری نظر میں یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں جتنا کہ اسے کچھ این جی اوز نے بنا دیا ہے۔‘

عزت یا غیرت ہے کیا؟

یہ الفاظ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پاکستان پیپلزپارٹی کے سابق سنیٹر نوابزادہ لشکری رئیسانی کے ہیں جو کہ ماضی میں پیپلزپارٹی کے صوبائی صدر اور حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ ن سے بھی وابستہ رہ چکے۔ لشکری رئیسانی کا تعلق بلوچستان کے ایسے سردار قبیلے سے ہے جن کا اثرورسوخ اور ایوان اقتدار سے ان کے تانے بانے ہمیشہ ہی قائم رہتے ہیں۔

جی ہاں وہی بلوچستان جہاں خواتین سے متعلق ترقی کے اشاریے ملک بھر میں سب سے کمزور ہیں جہاں خواتین کی آواز یا تو سنائی دیتی ہی نہیں اور اگر کبھی وہ سنائی یا دکھائی دیں تو یا تو وہ اپنے جبری طور پر گشمدہ ہونے والے مردوں کی بازیابی کے لیے نعرے لگارہی ہوتی ہیں یا پھر دہشگردی کے حملوں میں ہلاک ہونے والے اپنے پیاروں کے جنازوں پر بین ڈال رہی ہوتی ہیں۔

نام نہاد غیرت کے نام قتل سیریز کے لیے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے لشکری رئیسانی نے کئی اور ’دلچسپ‘ انکشافات بھی کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوے کی دہائی میں ہونے والی لیڈی ڈیانا کی موت کو بھی اسی نظر سے دیکھا جا رہا ہے کہ یہ "غیرت کے نام پر قتل" تھا۔ اور یہ کہ "برطانیہ کی شہزادی کیٹ مڈلٹن کی باڈی گارڈز پرنس چارلس کے مطالبے پر خواتین ہیں۔ مرد باڈی گارڈ ان کے قریب نہیں ہوتے کیونکہ پرنس چارلس کا بھی ایک اس قسم کا تلخ تجربہ عرف عام میں آرہا ہے"۔

لشکری رئیسانی کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ ایک اسلامی معاشرہ ہے اور اسلام میں اس قسم کے جرم اور خیانت کے لیے سزا کا تعین ہے اور جب ریاست ان معالات سے نہیں نمٹے گی تو اس قسم کے واقعات یعنی نام نہاد غیرت پر قتل ہوتے رہیں گے۔ پورے سماج کو اس بات کی آگہی دینی چاہیے کہ وہ "خیانت" کے جرم میں شامل نہ ہوں تاکہ نام نہاد غیرت پر قتل بھی نہ ہوں۔

لشکری رئیسانی نے اس بات کی وضاحت تو نہیں کی کہ ان کے نزدیک خیانت کا جرم کیا ہے؟ تاہم یہ "خیانت" چاہے کسی نے بھی کی ہو اس کی زد میں اکثر عورت ہی آکر کیوں قتل ہوتی ہے لشکری رئیسانی کا کہنا تھا کہ "مرد اس لیے نام نہاد غیرت پر قتل کی زد میں نہیں آتے کیونکہ وہ طاقتور ہوتے ہیں اور بھاگ جاتے ہیں"۔

اس سوال پر کہ یہ تاثر کس حد تک درست ہے کہ بلوچستان میں بااثر قبائلي سردار اس مسئلے کے بارے ميں کوئي خاص تشويش نہيں رکھتے بلکہ اس کا دفاع کرنے کی کوشیش کرتے ہیں لشکری رئیسانی کا کہنا تھا کہ "کچھ لوگ میڈیا اور اپنی این جی اوز کے لیے کچھ زیادہ ہی پیسہ کمانا چاہتے ہیں۔ یہ ان کی رائے ہوگی جو کہ حقیقت پر مبنی نہیں ہے"۔

اگر یہ حقیقت نہیں تو لشکری ریئسانی کا نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کو "خیانت" کا "ردعمل" قراردینا کیا ہے؟ کیا یہ اس جرم کی حمایت یا توجہیہ نہیں؟

عوامی نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والی سیاستدان بشری گوہر کا کہنا ہے کہ جو لوگ نام نہاد غیرت کے لیے قتل کی حمایت کرتے ہیں وہ ہمیں جہالت کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ قتل کے ساتھ غیرت کو جوڑنا اور ایک کمزور کو گھر کے اندر قتل کرکے ایک دوسرے کو معاف کرنا انصاف کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بلوچستان میں بھی دوسرے صوبوں کی طرح غیرت کے نام پر قتل ایک سنگین مسئلہ

"کچھ لوگ روایت کی بات کرتے ہیں قتل کی توجہیہ پیش کرنے کے لیے یہ شرمناک ہے۔ یہ اس ملک کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ سیاستدانوں کو چاہیے کہ وہ اس معاملے پر کھل کر بات کریں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے سیاستدان بہت کم خواتین کو اپنی تقاریر اور جلسے جلوسوں میں ترجیع بناتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی قتل کا دفاع کرتا ہے تو یہ جہالت کی نشانی ہے۔ ایسے لوگ ہمیں اندھیروں میں ہی رکھنا چاہتے ہیں۔'

ہاں کیونکہ یہ اندھیرے کچھ لوگوں کے مفاد میں جو ہیں۔ اندھیروں کی بنیاد پر ہی تو ایسے لوگوں کی زندگیوں کی روشنیاں اور رنگینیاں قائم ہیں جو موجودہ دور میں بھی لوگوں کو غلام بنا کر اپنی سرداریوں اور نوابیوں کو پروان چڑھانا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں