بلوچستان: سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتوں میں اضافہ

Image caption رواں سال فرقہ واریت کی بنیاد پر دو حملے ہوئے جن میں 6 افراد ہلاک اور ایک زخمی ہوا جبکہ گذشتہ سال 20حملوں میں 44 افراد ہلاک اور 32زخمی ہوئے تھے۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں گذشتہ سال سیکورٹی فورسز کے 62 اہلکاروں کے مقابلے میں رواں سال 15 دسمبرتک 153 اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

صوبائی وزارتِ داخلہ کے رواں سال 15 دسمبر تک جاری کیے جانے والے اعداد وشمار کے مطابق پولیس پر مجموعی طور پر 23 حملے ہوئے جن میں 111 اہلکار ہلاک اور 213 زخمی ہوئے۔ گذشتہ سال 32 حملوں میں 36 اہلکار ہلاک اور 20 زخمی ہوئے تھے ۔

لیویز فورس کے اہلکاروں پر گذشتہ سال کے دس حملوں کے مقابلے میں رواں سال 11 حملے ہوئے جن میں 11 اہلکار ہلاک اور 6 زخمی ہوئے۔ گذشتہ سال لیویز کے 3 اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوئے تھے۔

محکمہ داخلہ کے مطابق فرنٹیئر کور پر رواں سال 44 حملوں میں 31 اہلکار ہلاک اور 94 زخمی ہوئے جبکہ گذشتہ سال 72 حملوں میں 23 اہلکار ہلاک اور 82 زخمی ہوئے تھے۔ رواں سال کے دوران 111 پولیس اہلکاروں میں سے 65 اہلکار پولیس ٹریننگ کالج پر25 اکتوبر کو ہونے والے خود کش حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔

رواں سال فرقہ واریت کی بنیاد پر دو حملے ہوئے جن میں 6 افراد ہلاک اور ایک زخمی ہوا جبکہ گذشتہ سال 20حملوں میں 44 افراد ہلاک اور 32زخمی ہوئے تھے۔

تشدد کے دیگر 93 واقعات میں رواں سال 79 افراد ہلاک اور 203 زخمی ہوئے جبکہ گذشتہ سال 81 واقعات میں 60 افراد ہلاک اور 152 زخمی ہوئے تھے۔

محکمہ داخلہ کے مطابق گذشتہ سال بم دھماکوں کے 276 واقعات رونما ہوئے جبکہ اس سال 128 واقعات پیش آئے۔

رواں سال راکٹ فائرنگ کے 18 واقعات کے مقابلے میں گذشتہ سال 152 واقعات پیش آئے تھے۔ بجلی کی تنصیبات پر گذشتہ سال کے 26 حملوں کے مقابلے میں دو حملے ہوئے، سوئی گیس کی تنصیبات پر رواں سال ایک حملہ ہوا جبکہ گذشتہ سال 35 حملے ہوئے تھے۔ ریلویز کی تنصیبات پر رواں سال 9 حملے ہوئے جبکہ گذشتہ سال 7 حملے ہوئے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں