غیرت کے نام پر قتل:’پاکستانی سیاستدان مصلحتوں کا شکار‘

قتل و غیرت کے عنوان پر اسلام آباد کی قائد اعظم یونیورسٹی میں بی بی سی کے زیر اہتمام ہونے والے مباحثے میں شامل طلبا نے غیرت کے نام پر قتل کو روکنے کے لیے بنائے گئے قانون اور ارکان پارلیمان کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ قانون ظاہر کرتا ہے کہ پاکستانی سیاستدان مصلحتوں کا شکار ہیں۔

’کیا غیرت کے نام پر قتل کے خلاف بننے والا نیا قانون اس جرم کو روک پائے گا؟‘

یہ سوال بی بی سی کی جانب سے اس مباحثے میں شامل ماہرین اور طلبا کے سامنے رکھا گیا تھا۔

٭ 'غیرت کے نام پر قتل خیانت کا ردعمل'

٭ قتل و غیرت: بی بی سی اردو کے خصوصی مباحثے

ماہرین میں شامل تھے پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر جو پارلیمنٹ سے دو ماہ قبل منظور ہونے والے اس قانون کے روح رواں ہیں اور ربیعہ ہادی جو انسانی حقوق کی کارکن ہیں۔

سینیٹر فرحت اللہ بابر نے اس قانون کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ گو کہ وہ اس قانون سے مکمل طور پر مطمئن نہیں ہیں لیکن حالات کے پیش نظر یہ اس جرم کے خلاف بہترین قانون ہے۔

’ایسے معاشرے میں جہاں ایک آئینی ادارہ (اسلامی نظریاتی کونسل) بیوی پر تشدد کو جائز قرار دے، جہاں غیرت کے نام پر قتل کے خلاف مذمتی قرارداد پیش کرنے پر ارکان پارلیمنٹ کو دھمکیاں ملتی ہوں اور جہاں اقلیتوں کے حق میں قانون سازی پر سندھ اسمبلی کے ارکان کو بغاوت کے مقدمے سے ڈرایا جاتا ہو وہاں اس قانون کا اتفاق رائے سے منظور ہونا قابل ستائش ہے۔‘

سینیٹر فرحت اللہ بابر نے اعتراف کیا کہ اس قانون میں معافی کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے تھی لیکن قانون کی منظوری کے لیے انھوں نے یہ ’سمجھوتہ‘ بادل ناخواستہ کیا ہے۔

خواتین کے حقوق کی کارکن ربیعہ ہادی نے اس قانون کی منظوری کا خیرمقدم تو کیا لیکن کہا کہ اس قانون کے ذریعے پولیس اور جج کو بہت زیادہ صوابدیدی اختیارات دیے گئے ہیں جس کی وجہ سے خواتین کو انصاف کے حصول میں مشکلات ہو سکتی ہیں۔

اس ابتدائی بات چیت کے بعد جب طلبا کو اظہار خیال کا موقع دیا گیا تو خاص طور پر قانون کے طالب علموں نے اس نئے قانون اور اسے منظور کرنے والوں پر کڑی تنقید کی۔

حسن طارق نے کہا کہ اس قانون میں معافی کی گنجائش رکھ کر اس سارے قانون کو کنفیوژن کا شکار بنایا جا رہا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’کمزور استغاثہ، غیر تربیت یافتہ پولیس اور غیر مؤثر عدالتی نظام کے پیش نظر اس قانون پر عمل کروانا تقریباً نا ممکن ہے۔‘

قانون کے طالب علم شبیر حسین نے کہا کہ سینیٹر فرحت اللہ بابر اب جو مجبوریوں کا رونا رو رہے ہیں، تو انھوں نے یہ قانون اس وقت کیوں منظور نہیں کروایا جب یہ حکومت میں تھے اور پارلیمان میں ان کی جماعت کی اکثریت تھی؟

طارق ملک نے ارکان پارلیمنٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عوامی نمائندے تو خود قاتلوں کی پشت پناہی کرتے ہیں ایسے میں ان سے خیر کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

’گاؤں دیہات میں جب کوئی عورت غیرت کے نام پر قتل کی جاتی ہے تو یہی با اثر عوامی نمائندے ان قاتلوں کی حمایت کرتے ہیں اور ان کو جرگوں اور عدالتوں میں بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے میں ان سے کیسے توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ ان مظلوم خواتین کے حق میں کوئی مؤثر قانون بنائیں گے۔‘

جینڈر سٹیڈیز کی طالبہ صبا فرید نے کہا کہ اس جرم کو روکنے کے لیے صرف قانون بنانا کافی نہیں ہے۔

’حکومت اور پارلیمان کو اس جرم کو روکنے کی حکمت عملی پر کام کرنا چاہیے نہ کہ جرم ہونے کے بعد سزاؤں کا تعین کرنے کی کوشش۔ ایسا معاشرے میں آگاہی پیدا کرکے بھی کیا جا سکتا ہے کیونکہ غیرت کے نام پر جرائم کا شکار ہونے والی بیشتر خواتین کو تو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ان کے تحفظ کے لیے کوئی قانون بھی موجود ہے۔‘

تاریخ کی طالبہ صبا پری نے کہا کہ خواتین کے خلاف اس جرم کو روکنے میں پولیس اور عدالتوں سے زیادہ طلبا کا کردار اہم ہے۔

’یہ جرم ہمارے اردگرد ہو رہا ہے۔ اس یونیورسٹی میں دور دراز اور پسماندہ علاقوں سے بھی طالب علم آتے ہیں جہاں خواتین کے حقوق کے بارے میں آگاہی نہ ہونے کے برابر ہے۔ طلبا یہ آگاہی پھیلا کر اور عورتوں کو اپنے حقوق کا دفاع کرنے کے لیے شعور پیدا کر کے اس جرم کے خلاف مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں