آئی ایس آئی کے سربراہ کی وزیراعظم سے ملاقات، سکیورٹی صورت حال پر غور

لیفٹینٹ جنرل نوید مختار تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption لیفٹینٹ جنرل نوید مختار کی تعیناتی کا اعلان گذشتہ دنوں پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ نے کیا تھا

پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے نئے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار نے اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد جمعے کو اسلام آباد میں وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کی جس میں ملک کی مجموعی سکیورٹی صورت حال پر غور کیا گیا۔

ملاقات کے بعد جاری ایک مختصر سرکاری بیان کے مطابق وزیر اعظم نے نئے ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز انٹیلیجنس کو نئی ذمہ داری ملنے پر مبارک باد دی۔

لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار ڈی جی آئی ایس آئی تعینات

پاکستان میں شدت پسندوں کے خلاف بلاامتیاز آپریشنز کیے جائیں: آرمی چیف

پاکستانی فوج کی کمان جنرل قمر جاوید باجوہ نے سنبھال لی

لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار کی تعیناتی کا اعلان گذشتہ دنوں پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ نے کیا تھا۔

اس سے قبل لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر کی آئی ایس آئی میں تعیناتی کا اعلان بھی فوج نے ہی ایک بیان میں سنہ 2014 میں کیا تھا۔ تاہم اس سے پہلے لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام کی تعیناتی کا اعلان سنہ 2012 میں وزیر اعظم ہاؤس سے اس وقت یوسف رضا گیلانی نے کیا تھا۔

پاکستانی فوج کے سابق کرنل خالد منیر نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'اس بارے میں کوئی تحریری قواعد تو نہیں لیکن روایت کے مطابق فوجی سربراہ وزیر اعظم کو آئی ایس آئی کے نئے سربراہ کے لیے تین افسران کے نام ارسال کرتے ہیں جن میں سے ایک کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف ہونے کے ناطے اصولی طور پر تمام تقرریاں صدر مملکت کی جانب سے کی جانی چاہیے۔'

آئی ایس آئی کے سربراہ کے اس اہم عہدے کا اعلان کبھی تو وزیر اعظم ہاؤس یا پھر پاکستان فوج کی جانب سے کیا جاتا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار کو لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر کی جگہ یہ اہم عہدہ دیا گیا ہے اور لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر کو اسلام آباد میں قائم نیشنل ڈیفینس یونیورسٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔

جمعے کو ہونے والی ملاقات وزیر اعظم کے دورۂ بوسنیا کے فوراً بعد ہوئی جس میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ضرب عضب کے ذریعے ملک سے القاعدہ، طالبان اور خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کی تمام پناہ گاہیں ختم کر دی ہیں۔

وزیر اعظم اور آئی ایس آئی چیف کی ملاقات کے بعد کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان محمد خراسانی کی جانب سے مستونگ میں پولیس وین پر گرنیڈ حملے کے واقعے کی ذمہ داری قبول کی گئی ہے۔

پاکستانی حکام کہتے ہیں کہ تمام شدت پسند گروپ ضرب عضب کے بعد افغانستان منتقل ہوگئے ہیں اور وہیں سے کارروائیاں کر رہے ہیں۔

آئی ایس آئی کے نئے سربراہ کے لیے یہی سب سے بڑا چیلنج ہے کہ وہ سرحد پار سے شدت پسندوں کا خاتمہ کیسے کر پائیں گے وہ بھی ایک ایسے وقت جب افغانستان کے ساتھ تعلقات ایک مرتبہ پھر کشیدہ ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں