آصف علی زرداری کی 18 ماہ بعد پاکستان واپسی

آصف علی زرداری استقبال

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری 18 ماہ کے طویل وقفے کے بعد جمعے کی دوپہر کراچی پہنچے ہیں۔

پیپلز پارٹی نے اپنے شریک چیئرمین کے استقبال کی مکمل تیاری کر رکھی ہے۔

’ڈرائیونگ سیٹ پر بلاول بھٹو ہی ہوں گے اور پچھلی نشست پر زرداری ہوں گے‘

آصف علی زرداری کی کراچی آمد کے موقع پر ان کی سکیورٹی کے انتظامات پولیس اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے پاس ہوں گے۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق پیپلز پارٹی کی جانب سے کراچی ایئرپورٹ کے پرانے ٹرمینل جانے والی سٹرک پر جلسہ گاہ بنایا گیا ہے جہاں سٹار گیٹ کے مقام سے انٹری رکھی گئی ہے۔

آصف علی زرداری کے جلسے سے خطاب کے لیے بلٹ پروف ٹرک پر سٹیج تیار کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ راستے میں منرل واٹر کی سبیلیں لگائی گئی ہیں جب کہ بعض بوتلوں پر بلاول بھٹو کی تصاویر بھی ہیں۔

کارکنوں کے کھانے کے لیے لنگر کیمپ بھی لگائے ہیں جہاں انھیں کھانا دیا جائے گا۔

اندرونِ سندھ سے بھی پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی آمد جاری ہے تاہم دوپہر تک خواتین کارکنان کی تعداد بہت کم ہے۔

آصف علی زرداری کے استقبال کے لیے کارکنوں کی آمد صبح دس بجے سے شروع ہو چکی ہے جس میں زیادہ تر مقامی کارکن ہیں۔

گذشتہ سال جون میں اسلام آباد میں پارٹی کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ اگر اُنھیں دیوار سے لگانے اور ان کی کردار کشی کرنے کی روش ترک نہ کی گئی تو وہ قیام پاکستان سے لے کر آج تک جرنیلوں کے بارے میں وہ کچھ بتائیں گے کہ وہ وضاحتیں دیتے پھریں گے۔ اس بیان کے بعد ان کے فوجی قیادت سے اختلافات کھل کر سامنے آ گئے تھے اور کچھ ہی عرصے کے بعد وہ بیرون ملک چلے گئے تھے۔

اسی بارے میں