گڈانی حادثے کے ذمہ دار بحری سکیورٹی ادارے بھی ہیں: ایچ آر سی پی

گڈانی تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption گڈانی حادثے کے نتیجے میں 28 مزدور ہلاک اور 58 زخمی ہوگئے تھے

پاکستان انسانی حقوق کمیشن نے کہا ہے کہ گڈانی میں بحری آئل ٹینکر میں آتشزدگی کے واقعے اور انسانی جانوں کے ضیاع کے ذمہ دار سمندری سرحدوں کی حفاظت پر تعینات ادارے واٹر فرنٹیئر، میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی اور کوسٹ گارڈز بھی ہیں۔

کمیشن کے مطابق ان بحری جہازوں کے پاکستان کی سمندری حدود میں آنے سے قبل چیکنگ اور کلیئرنس کا طریقہ کار واضح ہونا چاہیے تاکہ کسی خطرناک مواد کی آمد اور تیل کی سمگلنگ کو روکا جا سکے۔

* ’مزدورکی زندگی بھی سکریپ جیسی ہی ہے‘

کراچی میں انسانی حقوق کمیشن کی چیئرپرسن زہرہ یوسف، وائس چیئرمین اسد بٹ اور دیگر نے جمعرات کو گڈانی واقعے کی حقائق رپورٹ پیش کی۔ اس حادثے کے نتیجے میں 28 مزدور ہلاک اور 58 زخمی ہوگئے تھے۔

ایچ آر سی پی کی رپورٹ کے مطابق جب بھی کوئی بحری جہاز سمندری حدود میں داخل ہوتا ہے تو ان سکیورٹی اداروں کی کلیئرنس کے بعد اس کو ساحل پر لنگر انداز ہونے کی اجازت دی جاتی ہے، حکومتی حکام کے مطابق پاکستان نیوی کو جہاز کی بنیادی معلومات پاکستان کی حدود میں داخل ہونے سے دو روز قبل دے دی جاتی ہے لیکن کوسٹ گارڈ اور میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی ان جہازوں کی معلومات صوبائی اور وفاقی اداروں کو فراہم کیے بغیر جہاز کی کٹائی کی کلیئرنس دے دیتے ہیں۔ ان تمام حکومتی اور سکیورٹی اداروں میں معلومات کے تبادلے کی اشد ضرورت ہے۔

کمیشن نے اپنی سفارشات میں کہا ہے کہ ’گڈانی شپ بریکنگ آنے والے جہازوں کو کسٹم حکام سے انسپیکشن کے بعد این او سی دینا چاہیے، اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کوئی بھی غیر قانونی اور غیر مناسب سامان پاکستان کی ساحل پر نہ آسکے۔‘

کمیشن کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان انوائرمنٹ پروٹیکشن اتھارٹی کی این او سی بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو جمع کرائی جائے جو انسپیکشن کے بعد اس بات کو یقینی بنائیں کہ یہ جہاز کس ملک سے تعلق رکھتا ہے اس کا وزن اور بینک انشورنس کے کاغذات مکمل ہوں اس کے علاوہ صوبائی اور وفاقی محصولات وصول کیے گئے ہوں۔

انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ میں پاکستان شب بریکرز ایسو سی ایشن کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ صنعت سالانہ 5 ارب رپے ٹیکس کی مد میں ادا کرتی ہے جس کا 30 فیصد صوبائی حکومت کو جاتا ہے، جبکہ حادثے کے روز بھی وہاں فائر برگیڈ اور ایمبولینس دستیاب نہیں تھی۔

دوسری جانب اس رپورٹ کے اجرا سے قبل صبح کو بھی گڈانی میں ایک بحری جہاز میں آگ بھڑک اٹھی، نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن کے رہنما ناصر منصور نے بتایا کہ ایل پی جی کیریئر کو یہ آگ لگ گئی جو 13 اکتوبر کو آیا تھا۔

گڈانی شپ بریکنگ میں گذشتہ ماہ پیش آنے والے حادثے کی تحقیقات کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے کمیٹیاں بنائی تھیں ان رپورٹس کو عام نہیں کیا گیا۔ ناصر منصور کا کہنا ہے کہ ذمہ داروں کا تعین نہیں کیا گیا اور نہ ہی مزدوروں کو سکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔

اسی بارے میں