’سب کہو یس ٹو پلی بارگین‘

سوشلستان میں اس وقت 'خان بمقابلہ کرپٹ مافیا' کا ٹرینڈ نمایاں ہے جبکہ رینجرز کا چھاپا، نورجہان، آصف زرداری دوسرے نمایاں ٹرینڈز میں شامل ہیں۔ اور حسبِ معمول ترک زبان میں جمعہ مبارک کا ٹرینڈ آج کے دن کا ایک لازمی حصہ بنتا جا رہا ہے۔ تو چلتے ہیں اس ہفتے کے موضوعات کی جانب۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption آصف علی زرداری نے اپنے کارکنوں سے محبت کا والہانہ اظہار کیا

'انور مجید کے دفتر پر چھاپا'

کراچی میں جہاں سابق آصف علی زرداری کی کراچی آمد کی بات ہو رہی ہے اس کے ساتھ ہی انور مجید کا نام ٹوئٹر پر ٹرینڈ کر رہا ہے۔

پاکستانی سوشل میڈیا پر بھی اس ساری صورتحال پر لمحہ بہ لمحہ اپ ڈیٹس آتے رہے ہیں جن میں پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پیش پیش تھے جنھوں نے چند تصاویر ٹویٹ کی جن میں آصف علی زرداری کی دبئی سے قرآن کے سائے میں روانگی اور پھر انہی کے ساتھ بلاول کے ساتھ ایئر پورٹ پر سیلفی شامل تھی۔

تو یہ انور مجید کا قصہ کیا ہے؟

سینیئر صحافی طلعت اسلم نے اس صورتحال پر تبصرہ کیا کہ 'رینجرز کی سیاسی ٹائمنگ کی داد دینی پڑے گی انور مجید جو آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی ہیں کہ دفتر پر چھاپا مارا اسی دن جب زرداری کراچی پہنچے والے تھے۔'

سلمان مسعود نے لکھا 'کراچی ہمیشہ سے سرپرائزز سے بھرا ہے' جبکہ اظہار عباس نے لکھا 'کیا پیغام دیا ہے۔'

اظہر عباس نے پوچھا کہ 'زرداری ان چھاپوں پر کیا ردِ عمل دکھائیں گے؟ کیا وہ مفاہمت کا راستہ چنیں گے یا جارحانہ جواب دیں گے، جیسا لہجہ انھوں نے ملک چھوڑنے سے قبل اختیار کیا تھا؟'

دوسری جانب آصف علی زرداری کی واپسی پر بھی مختلف رنگ میں اظہارِ خیال کیا جا رہا ہے جس میں نیلوفر قاضی نے لکھا 'آصف علی زرداری کی واپسی اب ایک تماشا بن گیا؟ وقت، پیسہ اور جعلی تقریبات اور پھر اس پھر ٹی وی کوریج جس میں وہی اندازے اور قیافے۔'

’نو ٹو کرپشن یس ٹو پلی بارگین‘

Image caption مشتاق رئیسانی نیب کی عدالت میں پیشی کے موقع پر

مشتاق رئیسانی صاحب کا بھلا ہو جن کے کیس کی وجہ سے پلی بارگین جسے نہیں بھی سمجھ آتا تھا اب اسے یاد ہو گیا ہے۔ مگر سوشلستان میں لوگ کیا سمجھے ہیں؟

صائمہ لکھتی ہیں ’جتنی جی میں آئے بدعنوانی کریں اور اس میں سے پانچ فیصد حصہ نیب کے لیے علیحدہ رکھ لیں۔ تاکہ پلی بارگین کے ذریعے سب کچھ جائز کیا جا سکے۔‘

اور اس میں نیشنل احستاب بیورو کی جانب سے بھجوائے جانے والے ایس ایم ایس اور بینرز کو لوگوں نے جو آڑے ہاتھوں لیا اس کی مثال ڈاکٹر فیصل رانجھا نے دی کہ ’روزانہ میرے لیے یاد دہانی کہ کرپشن سے انکار کریں جبکہ ان کے اپنے بندے اربوں روپے پلی بارگین کے ذریعے کرپشن مافیا سے لے لیتے ہیں۔ ٹھیک ہو گیا جی۔‘

عبداللہ حسان نے لکھا ’نیب کرپشن سے انکار کا پیغام پھیلا رہی ہے کہ مگر خدا نخواستہ اگر کرپشن کر بھی لی تو وہ پلی بارگین کرنے میں آپ کی پوری مدد کریں گے۔‘

اور کسی دل جلے نے تو یہ تک کہہ دیا کہ نیا نعرہ یہ ہونا چاہیے 'سب کہو یس ٹو پلی بارگین'۔

اس ہفتے کا تعارف

اس ہفتے ذکر کریں گے خیبرپختونخوا ٹوارزم کے سوشل میڈیا پیجز کا جن کے ذریعے اس محکمے کی ٹیم مختلف دلچسپ کاموں کی جانب عوام کی توجہ دلانے میں مصروف ہے۔ جن میں بڑے ایونٹس اور مقامی سطح کے چھوٹے چھوٹے مقابلے اور میلے ٹھیلے بھی منعقد کیے جا رہے ہیں۔ اس سے قبل سرکاری ریسٹ ہاؤسز میں سے ایک بڑی تعداد کو عام عوام کے لیے کھولنے کی کاوش بھی اسی محکمے کی جانب سے کی گئی جس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا ہے کہ جہاں حکومت ان بند پڑے ریس ہاؤسز پر خرچ کرتی تھی اب ان سے کما رہی ہے۔

اس ہفتے کی تصاویر

Image caption پاکستان میں افغانستان کے سفیر ڈاکٹر حضرت عمر زاخیلوال نے گذشتہ دنوں اکوڑہ خٹک میں مولانا سمیع الحق سے ملاقات کی۔ کیا یہ بدلتے حالات کی نشانی ہے؟
تصویر کے کاپی رائٹ Shakil Adil
Image caption کراچی میں کرسمس سے قبل پیپلز پارٹی نے مسیحی برادری سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ریلی نکالی