شودراہٹ اور چوہدراہٹ کا فرق

Image caption فرض کر لیتے ہیں کہ جنرل ضیا الحق 17 اگست 1988 کو دنیا سے کوچ کرنے کے بجائے مزید پانچ ماہ حیات رہتے تو کیا ہوتا؟

ذرا تصور کیجیے لیاقت علی خان، خواجہ ناظم الدین، حسین شہید سہروردی، محمد علی بوگرہ، چوہدری محمد علی، ملک فیروز خان نون یا آئی آئی چندریگر میں سے کوئی ایک بھی عالمی بینک کی ثالثی میں سندھ طاس معاہدہ کرتا اور تین مغربی دریاؤں کے بدلے تین مشرقی دریاؤں (ستلج، بیاس، راوی) کے آبی حقوق بھارت کے حوالے کر دیتا تو کیا ہوتا؟

کیا اس کارنامے پر داد و تحسین کے وہی ڈونگرے برستے جو ایوب خان کی آبی فراست کے حصے میں آئے؟

ذرا سوچیے اگر 1965 میں ایوب خان کی جگہ فاطمہ جناح صدرِ پاکستان ہوتیں اور اس حیثیت میں معاہدۂ تاشقند پر دستخط کرتیں تو تاشقند سے کراچی واپسی کے بعد مزید کتنے دن اپنے عہدے پر برقرار رہتیں؟

تصور کیجیِے کہ 16 دسمبر 1971 کو ذوالفقار علی بھٹو صدرِ پاکستان ہوتے اور ڈھاکہ میں ہتھیار ڈالنے کی تقریب برپا ہو جاتی تو کیا ان کی کابینہ سڑکوں پر گھسیٹے جانے سے بچ جاتی اور بھٹو سنگساری کے خوف سے ملک میں رہ پاتے؟

21 فروری 1987 کے دن ضیا الحق صدر ہیں اور محمد خان جونیجو منتخب وزیرِ اعظم۔ آپریشن براس ٹیکس کے نام پر راجستھان میں لاکھوں بھارتی فوجی جنگی مشقیں کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے تعلقات خطرے کے سرخ نشان سے بہت اوپر جا چکے ہیں۔ جنرل ضیا الحق کا طیارہ اچانک دہلی میں اترتا ہے اور وہاں سے وہ جے پور پہنچتے ہیں پاک بھارت کرکٹ میچ دیکھنے کے لیے۔ اس جرات مندانہ کرکٹ ڈپلومیسی کے نتیجے میں کشیدگی کے بادل چھٹ جاتے ہیں اور ہر طرف جنرل صاحب کی موقع شناسی کی واہ واہ ہو جاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

اب کردار بدل دیجیے۔ 21 فروری 1987 کو پاک بھارت فوجی کشیدگی کے عین عروج کے دوران وزیرِ اعظم محمد خان جونیجو صدر ضیا الحق کے علم میں لائے بغیر اپنے سرکاری طیارے میں سوار ہو کر پاک بھارت کرکٹ میچ دیکھنے سیدھے جے پور جا اترتے ہیں۔ راجیو گاندھی سے معانقہ کرتے ہیں اور کشیدگی میں مرحلہ وار کمی پر دو طرفہ اتفاق ہو جاتا ہے۔

جونیجو اس کارنامے کے بعد فاتحانہ اسلام آباد پہنچتے ہیں۔ شاندار سفارتی کامیابی سے قطع نظر کیا وہ بحیثیت وزیرِاعظم اگلے دن کا سورج دیکھ پاتے؟

فرض کر لیتے ہیں کہ جنرل ضیا الحق 17 اگست 1988 کو دنیا سے کوچ کرنے کے بجائے مزید پانچ ماہ حیات رہتے اور بے نظیر بھٹو کے بجائے خود چوتھی سارک سربراہ کانفرنس کے اسلام آباد میں میزبان ہوتے اور جذبۂ خیر سگالی کے طور پر خالصتانی انتہا پسندوں کی مبینہ فہرست راجیو گاندھی کے حوالے کر دیتے۔ کیا ضیا الحق کو ان کی زندگی میں نہ سہی بعد میں ہی کوئی مائی کا لال سکیورٹی تھریٹ کا خطاب دیتا؟

اگر 12 اکتوبر 1999 بھی خیریت سے گزر جاتا۔ نواز شریف بدستور وزیرِ اعظم رہتے اور اس حیثیت میں وہ تجویز پیش کرتے کہ بھارت رضامند ہو تو کشمیر پر اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کو ایک طرف رکھ کے کسی نئے حل پر بات چیت ہو سکتی ہے۔ لائن آف کنٹرول کو ایک سافٹ بارڈر میں بدلا جا سکتا ہے۔ اور پھر وہ ان تجاویز کے ساتھ آگرہ جاتے اور وہاں سے خالی ہاتھ واپس آتے۔ کیا وہ پھر بھی اپنی پانچ سالہ مدت پوری کر کے اگلا انتخاب جیت پاتے؟

سوچیے اگر آئین کا آرٹیکل چھ نواز شریف اور زرداری پر لگ جاتا تو؟

اس ماہ کی تین اور چار تاریخ کو وزیرِ اعظم کے مشیرِ خارجہ سرتاج عزیز ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کے لیے امرتسر گئے اور وہاں مودی اور اشرف غنی نے ان کی موجودگی میں پاکستان کو خوب سنائیں۔ پاکستانی میڈیا بیک زبان چیخ اٹھا کہ کس نے کہا تھا بےعزتی کرانے امرتسر جاؤ۔ کیوں مرے جا رہے ہو بھارت سے ہر قیمت پر دوستی کے لیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اب سے پانچ دن پہلے بری فوج کی جنوبی کمان کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل عامر ریاض نے فرمایا کہ بھارت تخریبی کارروائیوں پر توجہ دینے کے بجائے پاک چائنا اکنامک کاریڈور سے پیدا ہونے والے اقتصادی مواقع سے فائدہ اٹھانے کے بارے میں سوچے۔ یہ بیان اتنا اہم تھا کہ چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ہوا چن ینگ اور سرکاری رسالے گلوبل ٹائمز نے بھی اس کا خیر مقدم کرتے ہوئے بھارت کو اس تجویز پر غور کرنے کی دعوت دے دی۔

کیا آج کی تاریخ میں یہی دعوت انھی الفاظ میں لیفٹننٹ جنرل عامر ریاض کے بجائے وزیرِ اعظم نواز شریف دے سکتے تھے؟

(بھگوت گیتا بھلے سب کے لیے مقدس ہو مگر اس کی ادائیگی اور تشریح کا حق صرف برہمن کو ہے۔)

متعلقہ عنوانات