ٹوبہ ٹیک سنگھ میں زہریلی شراب پینے سے 32 افراد ہلاک

زہریلی شراب تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پنجاب کے شہر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے علاقے مبارک آباد میں زہریلی شراب پینے سے مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے کم از کم 32 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

تھانہ سٹی ٹوبہ کے سٹیشن ہاؤس آفیسر محمد ندیم نے بی بی سی کو بتایا کہ اب بھی 25 افراد الائیڈ اسپتال فیصل آباد اور ڈی ایچ کیو ہسپتال ٹوبہ ٹیک سنگھ میں داخل ہیں جن کے معدوں کی صفائی اور علاج کیا جا رہا ہے۔

واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے ایس ایچ او تھانہ سٹی ٹوبہ نے بتایا کہ 25 اور 26 دسمبر کی درمیانی رات مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے یہ افراد اپنی عید کے موقعے پر جشن منا رہے تھے جس کے دوران اُنھوں نے شراب پی اور گھر چلے گئے۔ صبح 11 بجے جب یہ افراد نہ اُٹھ سکے اور دیگر کئی کی طبیعت بگڑنا شروع ہوئی تو معاملے کا پتہ چلا اور اِن کو دو مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔

محمد ندیم کے مطابق مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے دو افراد کو شراب کا بندوبست کرنا تھا۔ جب اُنھیں اپنے علاقے سے شراب نہیں مل پائی تو تو کہیں اور سے لے آئے۔

ایس ایچ او کا کہنا ہے کہ ساجد اور شریف شراب لے کر آئے تھے اور وہ خود بھی وہی زہریلی شراب پینے کے بعد ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں، تاہم علاقے میں پانچ مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے اور مشتبہ افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

اِس واقعے کا مقدمہ زہر خوردنی کی دفعات کے تحت درج کر لیا گیا ہے۔