سمارٹ فون سے پولیو کے خلاف جنگ

پولیو تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاکستان کے علاوہ افغانستان اور نائیجریا میں پولیو وائرس موجود ہے

پولیو کی مہلک بیماری کا سنہ 2016 میں بھی پاکستان سے خاتمہ نہیں ہو سکا ہے تاہم پاکستان میں انسداد پولیو کے وزیراعظم کے سیل کی انچارج سینیٹر عائشہ فاروق کا کہنا ہے اس سال پولیو کے کیسز میں نمایاں کمی آئی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سینیٹر عائشہ فاروق کا کہنا تھا کہ ’دو برسوں میں پولیو کیسز کی تعداد 306 سے 18 تک محدود ہوگئی ہے۔ ہمارا ہدف یہی ہے کہ پولیو کا ملک سے مکمل طور پر خاتمہ کیا جا سکے لیکن پروگرام میں جو تبدیلیاں کی گئیں اس کے مثبت تنائج سامنے آئے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پولیو پروگرام کے تحت نچلی سطح پر لوگوں کو اعتماد میں لینے، سکیورٹی کو یقینی بنانے اور ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کیا گیا۔

سال 2016 میں اب تک سندھ اور خیبرپختونخوا سے آٹھ، آٹھ جبکہ فاٹا سے اور بلوچستان سے ایک پولیو کیس سامنے آیا ہے جبکہ گذشتہ سال ان کی تعداد 54 اور سنہ 2014 میں 306 رہی تھی۔

خیال رہے کہ پاکستان کے علاوہ افغانستان اور نائیجریا میں پولیو وائرس موجود ہے اور اس کے خاتمے کے لیے مقامی حکومتوں اور عالمی اداروں کے تعاون سے کوششیں کی جارہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption ابتدائی طور پر سمارٹ فون کا استعمال سات ضلعوں میں کیا گیا

ماہرین کے مطابق پولیو سمیت دیگر جان لیوا بیماریوں کے بچاؤ کے لیے تمام نوزائندہ اور کم عمر بچوں کو حفاظتی ٹیکے اور ویکسینیشن انتہائی اہم ہے۔

اس حوالے سے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نے پولیو، ڈینگی اور دیگر بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ویکسین اور ٹیکے لگانے والی ٹیموں کے ایک خصوصی موبائل ایپلی کیشن تیار کی ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق صوبے بھر میں ان ٹیموں کو 11ہزار سمارٹ فونز فراہم کیے گئے ہیں اور ان کے استعمال کے لیے خصوصی تربیت بھی فراہم کی گئی ہے۔

پنجاب انفارفیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے پروگرام مینجر ہیلتھ بلال اقبال نے بی بی سی بات کرتے ہوئے بتایا کہ پولیو اور دیگر حفاظتی ویکسینیشن کے لیے سمارٹ فون کا استعمال موبائل ایپلی کیشنز کا استعمال رواں سال ستمبر میں شروع کیا گیا تھا۔ ابتدائی طور پر اس کا استعمال سات ضلعوں میں کیا گیا جن میں دو انتہائی رسک والے علاقے لاہور اور راولپنڈی ہیں، جبکہ دیگر علاقوں میں مظفر گڑھ، ڈی جی خان، رحیم یار خان، ملتان اور راجن پور شامل ہیں۔‘

بلال اقبال کے مطابق ابھی یہ پروگرام ابتدائی مراحل میں ہے اور اس میں ہیلتھ ٹیمیں قلم اور کاغذ سے ڈیٹا اکٹھے کرنے کے ساتھ ساتھ موبائل ایپلی کیشنز کے ذریعے بھی ڈیٹا محفوظ کررہی ہیں۔

’موصول ہونے والے ڈیٹا کی سپروائزری افسران تصدیق کرتے ہیں کہ کیا ڈیٹا صحیح انداز میں شامل کیا گیا ہے یا نہیں۔ اس کام کے لیے پہلے سے موجود فارم کو ڈیجیٹل شکل میں ڈھال کر ایک موبائل ایپ بنا دی گئی ہے۔‘

بلال اقبال کے مطابق پولیو ورکرز کی جانب سے موبائل ایپ میں ڈیٹا شامل کیا جاتا ہے تو گوگل میپس کے ذریعے ان کا مقام ظاہر ہوجاتا ہے جس کو جی آئی ایس لوکیشن کہا جاتا ہے۔ جس سے یہ تصدیق ہوجاتی ہے کہ انھوں نے مخصوص علاقہ یا گھر میں موجود بچوں کو قطرے پلائے ہیں۔

پولیو ٹیم پر ہونے والے حملے یا نا مناسب صورتحال کا سامنا کرنے کے حوالے سے بلال اقبال کا کہنا تھا کہ اس ایپلی کیشن کے ذریعے یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ ٹیمیں کہاں موجود ہیں اور ایسی کسی بھی صورتحال میں ان کو بروقت مدد فراہم کی جاسکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’پولیو ٹیم کی مانیٹرنگ کا نظام پورے ملک میں قائم کیا گیا ہے‘

سینیٹر عائشہ فاروق کا کہنا تھا کہ انسداد پولیو پروگرام میں نے سائنٹفک طریقے سے کام کیا گیا اور پورے ملک میں ایمرجنسی آپریشن سینٹرز بنائے گئے جہاں سے 'ریئل ٹائم' ڈیٹا جمع کرتے رہے ہیں۔ مہم سے پہلے، مہم کے دوران اور مہم کے بعد جو جو بھی اقدامات ناگزیر تھے وہ کیے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیو ٹیم کی مانیٹرنگ کا نظام پورے ملک میں قائم کیا گیا ہے۔

پنجاب حکومت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کی جانب سے پولیو اور دیگر بیماریوں کے خلاف ویکسینیشن مہم کے حوالے سے کہنا تھا کہ مانیٹرنگ کا نظام بہت اچھا ہے لیکن پولیو پروگرام کے تحت پورے ملک میں آزاد ذرائع سے مانیٹرنگ کروائی جاتی ہے۔

ماہرین کے خیال میں ہیلتھ ورکرز کی مانیٹرنگ کے لیے سمارٹ فونز کا استعمال ویکسینیشن کے عمل کو 100 فیصد یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے تاہم پاکستان میں ابھی اس کی ابتدا ہے اور اس کو مکمل طور پر نافذ العمل کرنے میں وقت درکار ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں