’پگھلتے گلیشیئرز ہمارا ہی نہیں پنجاب کا بھی مسئلہ ہیں‘

گلیشیئرز تصویر کے کاپی رائٹ DW Biag

پاکستان میں کبھی شدید بارشوں کے نتیجے میں سیلاب تو کبھی طویل خشک سالی جیسے مسائل حالیہ برسوں میں شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔

اس وقت بھی ملک میں طویل خشک سالی کے بعد بارش کے لیے دعائیں کی جا رہی ہیں تاہم اس مسئلے سے کبھی سنجیدگی سے نمٹنے کی جانب نہ توجہ دی گئی اور نہ ہی کسی حکومت کی ترجیح رہی۔

ملک کو پانی کی دستیابی کا ایک ذریعہ شمالی علاقوں میں واقع گلیشیئرز بھی ہیں لیکن موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں یہ پگھل رہے ہیں اور ان کے قریب خطرناک جھلیں وجود میں آ رہی ہیں۔

اس مسئلے کی جانب برسوں سے توجہ دلانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور گلگت بلتستان کے علاقے شمشال وادی کے نوجوانوں نے حکومت کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ایک مشکل اور خطرناک مہم جوئی کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان ماؤنٹین کنزروینسی پروگرام کے تحت دس کوہ پیماؤں نے موسم سرما میں پہلی بار یکم جنوری سے 20 جنوری تک اس مہم پر جائیں گے تاکہ موسیمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں رونما ہونے والے مسائل کی جانب توجہ مبذول کرائی جا سکے۔

اس مہم کے رابطہ کار ڈی ڈبلیو بیگ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں نہ صرف شمالی علاقوں کی دو لاکھ آبادی براہ راست متاثر ہو رہی ہے بلکہ پورا پاکستان بھی اس کی وجہ سے متاثر ہو رہا ہے کیونکہ ان گلیشیئرز کے نتیجے میں دریائے سندھ سمیت دیگر چھوٹے دریاؤں کو پانی متاثر ہوتا ہے۔

'تیزی سے پگھلتے گلیشیئرز ہمارا مسئلہ نہیں بلکہ یہ پنجاب کا بھی مسئلہ ہے لیکن اس کی جانب سے کوئی دھیان نہیں دیتا، سی پیک منصوبے میں توانائی کے زیادہ منصوبے ایندھن سے بجلی پیدا کرنے کے ہیں لیکن پانی سمیت دیگر ماحول دوست توانائی کے منصوبوں پر زیادہ توجہ نہیں۔'

انھوں نے کہا ہے کہ اسی وجہ سے انتہائی ناموافق سرد موسم میں ہم نے مہم جوئی پر جانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اس مسئلے کی طرف توجہ دلائی جا سکے کیونکہ ہمارا تو یہ زندگی اور موت کا معاملہ۔'

تصویر کے کاپی رائٹ DW Baig

اس مہم میں شامل کوہ پیما عبدل جوشی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دس افراد پر مشتمل ان کی ٹیم مہم کے دوران بلترو گلیشیئر، بیافو گلیشیئر،برالڑو گلیشیئر سنو لیک گلیشیئر پر مختلف تجربات کریں گے اور پھر ان کا موسم گرما کے دوران دوسری مہم جوئی کے دوران وہاں کے حالات سے موازانہ کریں گے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ DW Baig

انھوں نے کہا ہے کہ ان گلیشیئرز پر موسم سرما میں پہلے کوئی بھی نہیں گیا لیکن اس مشکل مہم میں اس وجہ سے جا رہے ہیں تاکہ لوگوں کو بتا سکیں کہ حالات کس قدر تیزی سے بدل رہے ہیں۔

'گذشتہ موسم گرما میں ان گلیشیئرز پر جب گئے تو برف معمول سے دس سے آٹھ فٹ کم تھی اور اگر یہ ہی حالات رہے تو گلیشیئرز ختم ہو جائیں گے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ DW Baig

شمالی علاقے پہلے ہی ماحولیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہیں اور سی پیک منصوبہ مکمل ہونے کے بعد جب روزانہ ہزاروں ٹرک، کنٹینر اس علاقے سے گزریں گے تو کیا حالات مزید خراب نہیں ہوں گے۔

اس سوال پر ڈی ڈبلیو بیگ نے جواب چند لمحے کی خاموشی کے بعد کہا کہ ’آپ تو جانتے ہیں کہ جواب دیا تو۔۔۔۔ اس پر دوسروں کا کیا ردعمل ہو سکتا ہے۔'