سزائے موت پانے والوں میں مسلم خان شامل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ان دہشت گردوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں زیر سماعت تھے اور انھوں نے عدالت میں اپنا جرم قبول کیا تھا

پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل قمر باجوہ نے سماجی کارکن سبین محمود کے قتل، اسماعیلی برادری اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر حملے سمیت مختلف جرائم میں ملوث آٹھ دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کی ہے جن میں سوات طالبان کے مسلم خان بھی شامل تھے۔

بدھ کو فوج کے شعبۃ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان دہشت گردوں کو فوجی عدالتوں نے سزائے موت سنائی ہے جبکہ تین دہشت گردوں کو فوجی عدالتوں نے عمر قید کی سزا دی ہے۔

٭ چار دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق

٭ طالبان ترجمان مسلم خان گرفتار

٭ مسلم خان: پی پی پی سے طالبان تک

سزائے موت دیے جانے والے آٹھ دہشت گردوں میں مسلم خان بھی شامل ہیں جنھیں پاکستان کی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر حملوں کےجرم میں سزا دی گئی ہے۔

یاد رہے کہ سوات میں طالبان کے کنٹرول کے دوران مسلم خان طالبان کے ترجمان تھے اور انھیں سنہ 2009 میں سوات میں فوجی آپریشن کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔

Image caption سوات میں طالبان کے ترجمان کو سنہ 2009 میں فوجی آپریشن کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔

آئی ایس پی آر کے اعلامیے کے مطابق پھانسی کی سزا دیے جانے والوں میں حافظ محمد عمیر، علی رحمان، عبدالسلام، خرم شفیق شامل ہیں۔ ان دہشت کا تعلق کالعدم تنظیموں سے تھا اور انھیں کراچی میں صفورا چورنگی پر اسماعیلی برادری کی بس پر حملے اور سماجی کارکن سبین محمود کے قتل میں ملوث تھے۔

کالعدم تنظیموں سے وابستہ دہشت گرد محمد یوسف، سیف اللہ، بلال محمود کو بھی سزائے موت دی گئی ہے۔

دہشت گرد سرتاج علی کو شدت پسندوں کی فنڈنگ کرنے کے جرم میں سزائے موت دی گئی ہے جبکہ کالعدم شدت پسند تنظیم سے وابستہ دہشت گرد محمود خان کو تاوان کے عوض چینی انجنیئر کے اغوا کا جرم میں 20 سال قید دی گئی ہے۔ پولیس چیک پوسٹ پر حملے کے جرم میں فضلِ غفار کو بھی عمر قید دی گئی ہے۔

فوج کے اعلامیہ کے مطابق ان تمام دہشت گردوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں زیر سماعت تھے اور انھوں نے عدالت میں اپنا جرم قبول کیا تھا۔

اس وقت ملک میں نو فوجی عدالتیں قائم ہیں، جن میں سے صوبہ خیبر پختون خوا اور صوبہ پنجاب میں تین تین جبکہ سندھ میں دو اور بلوچستان میں ایک عدالت قائم ہے۔

یاد رہے کہ دسمبر 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد پاکستان کی پارلیمان نے آرمی ایکٹ میں ترمیم کر کے فوجی عدالتوں کے قیام کی منظوری دی تھی۔ ان فوجی عدالتوں کی مدت دو سال تھی جو اب جنوری میں ختم ہونے والی ہے۔

اسی بارے میں