’مواقع کی کمی لیکن خواہشات بہت‘

سرسبز پہاڑوں کی بیچ واقع خوبصورت وادی بمبوریت کےگاؤں انیش میں کیلاشی خواتین کے لیے ایک فنی تربیتی مرکز قائم ہے جو خواتین کو سلائی کڑھائی اور روایتی پوشاک بنانے کے مہارتوں سے لیس کرتا ہے۔

فنی مہارت کا یہ سینٹر علاقے کی ایک خاتون شاہی گل نے اپنی مدد آپ کے تحت 2010 میں کھولا جہاں اس گاؤں کی 50 سے زائد خواتین کو سلائی کڑھائی اور روایتی پوشاک بنانے کی تربیت دی جا چکی ہے جبکہ 16 زیر تربیت ہیں۔

وادی کیلاش کےخواتین اپنی معاشی حالات کی بہتری کے لیے فنی تعلیم کا سہارا لے رہی ہیں۔ اس دستکاری مرکز کی سرپرست شاہی گل نے بی بی سی کو بتایا کہ علاقے کی خواتین پہلے کھیتی باڑی کرکے کچھ پیسے کما لیتی تھیں۔

'2010 کے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں اکثریت کھیت و باغات تباہ ہوئے جن کے بعد یہاں کی خواتین معاشی تنگدستی کے شکار ہوئیں۔ علاقے میں بڑھتی غربت پر قابو پانے کے لیے میں نے دستکاری سینٹر کھولا جبکہ بعد میں ہمیں ایک غیر سرکاری تنظیم کی جانب سے بجلی سے چلنے والی دیگر مشینیں بھی دی گئیں۔'

انھوں نے کہا کہ 2015 کے سیلاب سے علاقے میں بجلی کا نظام تباہ ہوا جو تاحال بحال نہیں ہوا ہے جس کے باعث خواتین ان مشینوں سے فائدہ نہیں اٹھا رہیں اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ علاقے میں بجلی کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔

شاہی گل نےلکڑی پتھروں اور مٹی کے گارے سے بنے اپنے کچے مکان کے ساتھ اس فنی تربیتی مرکز کے لیے ایک کمرہ کرائے پر حاصل کیا جہاں اس گاؤں کے خواتین اور بچیوں کو مختلف ہنر مفت سکھائے جاتے ہیں۔ شاہی گل کے اس قدم سے خواتین نہ صرف خوش ہوئیں بلکہ وہ اسے اپنی معاشی بہتری اور مالی استحکام میں مددگار بھی قرار دے رہی ہیں۔

فنی استعداد بڑھانے کے اس مرکز میں روایتی قمیض بنانے کی تربیت حاصل کرنے والی ذمرہ نے بتایا کہ یہاں کی خواتین بہت محنتی اور باصلاحیت ہیں۔

'ہماری بھی خواہش ہے کہ ہم بھی دیگر علاقوں کی خواتین کی طرح آگے بڑھیں لیکن مواقعے میسر نہ ہونے کے باعث ہماری اس خواہش کی تکمیل نہیں ہو پاتی۔ یہی وجہ ہے کہ اس علاقے کی اکثر خواتین احساس کمتری میں مبتلا ہوجاتی ہیں۔'

انھوں نے کہا کہ یہ دستکاری سینٹر ان کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں کیونکہ اس سے ان کی معاشی بہتری ہورہی ہے۔

شاہی گل کا کہنا ہے کہ کیلاش اپنی منفرد ثقافت کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے اور یہی وجہ ہے کہ ملکی سیاحوں کے علاوہ غیر ملکی سیاح بھی یہاں آتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ملکی سیاح ہوں یا غیر ملکی وہ واپس جاتے وقت کیلاش ثقافت سے وابسطہ کچھ نہ کچھ خریداری ضرور کرتے ہیں۔

'اس دستکاری سینٹر سے تربیت لینے والی خواتین سلائی کڑھائی کے ذریعے چیزیں بناتی ہیں جن کی فروخت سے نہ صرف یہاں کی خواتین کی داد رسی ہوتی ہے بلکہ ان کے معاشی تنگدستی بھی دور ہورہی ہے۔'

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ حکومتی عدم توجہی یہاں کی خواتین کی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہے۔ 'اگر حکومت یہاں کی خواتین کو تکنیکی اور مالی معاونت فراہم کرے تو نہ صرف یہاں کی خواتین مالی طور پر بااختیار ہوجائیں گی بلکہ یقینی طور پرعلاقے سے غربت و افلاس کا بھی خاتمہ ہوگا۔'

علاقے کی خواتین کا کہنا ہے کہ اپنی کفالت کا اہل بننے کے لیے ان کا عزم بلند ہے مگر وسائل کی کمی ان کےحوصلوں کے درمیان حائل ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں