’پیار پانے کی آخری کوشش میں جان گئی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Mohammad Somar
Image caption سراکت بی بی اور محمد سومر

سینتیس سالہ سراکت بی بی نے کئی سال گھر سے بھاگ کر گزارے ۔ آخری بار سراکت بی بی سے رابطہ ایک سال پہلے ممکن ہوا تھا جب انھوں نے اپنے گھر والوں کو فون کیا تھا۔

لیکن سراکت بی بی کی مشکلات کئی سال قبل شروع ہوئی تھیں جب انھوں 14 سال کی عمر میں اپنے والد کے کہنے کے باوجود اپنے چچا کے بیٹے کے ساتھ شادی کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

سراکت بی بی کی ماں حسن زدگئی نے بی بی سی کو بتایا 'اس کو نہ اپنا کزن پسند تھا نہ اس کا خاندان۔ وہ اتنی بہادر تھی کہ وہ اپنے چچا کے پاس چلی گئی اور اس کو یہی بات بتا دی۔ اس کی وجہ سے پورے خاندان میں تہلکہ مچ گیا۔'

جنوبی ایشیا کے دیگر علاقوں کی طرح خیبر پختونخوا کے پشتون قبائل میں بھی وہی رواج ہے جہاں خاندان کے تمام اہم فیصلے، خواہ وہ شادی ہی کے کیوں نہ ہو، گھر کا مرد کرتا ہے۔

سراکت بی بی کے اس فیصلے سے ان کے والد کو شدید غصہ آیا اور پھر والد نے وہی کیا جو کے متوقع تھا۔ اپنی بندوق اٹھا کر سراکت بی بی کو دھمکی دی کے اگر وہ اپنے کزن سے شادی پر راضی نہیں ہوئی تو مرنے کے لیے تیار ہو جائے۔

دِیر ڈسٹرکٹ کے گاؤں براول بندی میں جس دن سراکت بی بی کی رخصتی ہونی تھی، اُسی دن ان کی ساس نے کہا کے شادی سے منع کرنے کا فیصلہ اُس کے لیے پچھتاوے کا باعث بنے گا اور اب ان کی عقل ٹھکانے آئے گی۔

Image caption سراکت بی بی کی والدہ حسن زدگئی

حسن زدگئی کے مطابق اگلے 20 سال ان کی بیٹی کے لیے جہنم سے کم نہیں تھے۔ 'سسرال کی جانب سے اس پر مسلسل جسمانی اور ذہنی تشدد ہوتا رہا۔' پانچ بیٹے جنم دینے کے باوجود سراکت بی بی کو اپنے سسرال میں کبھی عزت نہ ملی۔

حسن زدگئی نے کہا کہ وقت کے ساتھ ساتھ ان کی بیٹی بھی سخت جان ہوتی جا رہی تھی۔ 'جب حالات بہت خراب ہو جاتے تو ہمارے گھر واپس آجاتی۔ ہم اس سے التجا کرتے کہ واپس چلی جائے کیونکہ ایسی حرکت کرنے سے اس کے والد کا نام بدنام ہوتا ہے۔'

اپریل 2012 میں ایک دن جب اُس کا شوہر روغن شاہ کاروبار کے سلسلے میں باہر گیا ہوا تھا، سراکت بی بی اپنے پانچوں بچوں کو چھوڑ کر گھر سے بھاگ گئیں۔ پہلے وہ پشاور گئیں، اور پھر اپنے گھر والوں سے دور مزید جنوب کی جانب روانہ ہو گئیں۔

کچھ عرصہ قبل سراکت بی بی نے ایک فون کال آئی جس کے بعد ان کی زندگی بدل گئی۔ وہ کال ہزاروں میل دور صوبہ سندھ سے ایک شخص نے غلطی سے کی تھی۔ وہ شخص محمد سومر تھے۔

'سراکت کے ساتھ وہ میرا پہلا رابطہ تھا۔ اس نے فون پر مجھے ہیلو بولا اور پھر پشتو میں کچھ بولا جو میں سمجھ نہ سکا تو اردو میں جواب دیا، جس کے بعد اس نے فون بند کر دیا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ XXX
Image caption محمد سومر کی رہائش براول بندی سے 1100 کلو میٹر دور دریائے سندھ سے متصل وڑ والو گاؤں میں تھی

محمد سومر کی رہائش براول بندی سے 1100 کلو میٹر دور دریائے سندھ سے متصل وڑ والو گاؤں میں تھی۔ سومر کے باپ نے اس کی 12 برس کی عمر میں ہی شادی کرا دی تھی اور بعد میں اس کو چار ایکڑ کی خاندانی اراضی کاشت کاری کے لیے دے دی جس پر گندم، کپاس اور گّنے کی کاشت کی جاتی تھی۔

کاروبار اچھا تھا اور محمد سومر نے اس کی مدد سے ایک موٹر سائیکل کی ڈیلرشپ میں حصہ خرید لیا جس کی مدد سے اس کی آمدنی میں مزید اضافہ ہو گیا۔ لیکن مالی بہتری کے باوجود محمد سومر کی زندگی میں کچھ کمی تھی۔ اس کے آٹھ بچوں کی ماں ہونے کی بعد بھی محمد سومر کو اپنی بیوی سے کبھی محبت نہ ہوئی۔

ستمبر 2011 میں جب پہلی بار محمد سومر نے سراکت بی بی کی آواز سنی تو وہ اس سے ملنے کے لیے بے چین ہو گیا۔ محمد سومر کو ہمیشہ سے ہی پشتون عورتیں ان کی خوبصورتی اور جرات کے باعث پسند تھیں۔ اگرچہ سراکت بی بی نے فون بند کر دیا تھا تاہم مسلسل کوششوں کے بعد محمد سومر اس سے بات کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

'میں اس کو لینے پشاور گیا۔ ہم بس میں بیٹھ کر واپس سندھ آئے اور پھر گھوٹکی جا کر ہم نے کورٹ میریج کر لی۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Mohammad Somar
Image caption سومر کے باپ نے اس کی 12 برس کی عمر میں ہی شادی کرا دی تھی اور بعد میں اس کو چار ایکڑ کی خاندانی اراضی کاشت کاری کے لیے دے دی جس پر گندم، کپاس اور گّّنے کی کاشت کی جاتی تھی

'میں یہ شادی اپنے خاندان سے خفیہ رکھنا چاہتا تھا جس کی وجہ سے میں نے سراکت بی بی کے لیے گھوٹکی میں ہی ایک گھر لے لیا۔ لیکن اُس کو ڈر تھا کہ میں اُس سے فائدہ اٹھا کر پھر چھوڑ دوں۔ اسی لیے وہ چاہتی تھی کے میں اُس کو اپنے گھر لےجاؤں۔'

اگلے چند دنوں میں ہی محمد سومر کی پہلی بیوی اُس کو چھوڑ کر چلی گئی جس کے بعد ان کے سسرالی ان کے دشمن بن گئے۔ پھر سراکت بی بی کا موبائل فون استعمال کرنا گلے کا ہار بن گیا جب پولیس نے ان دونوں کا کھوج لگا لیا جس کی مدد سے سراکت بی بی کے والد اور شوہر دونوں کو ان کی موجودگی کا پتہ چل گیا۔

پولیس نے دونوں کو اغوا کے الزام میں گرفتار کر لیا لیکن شادی کا ثبوت دیکھنے کے بعد دونوں کو رہا بھی کردیا۔ لیکن یہ رہائی صرف ایک سراب تھا کیونکہ ان دونوں کی زندگی میں مشکلات ابھی صرف شروع ہو رہی تھیں۔

کچھ عرصے بعد ہی محمد سومر کو پولیس نے ایک مقدمے میں شاملِ تفتیش کر لیا اور اس کے گھر پر چھاپہ مارا لیکن اپنے دوست کی مدد سے وہ اور سراکت بی بی بروقت بھاگنے میں کامیاب ہو گئے۔

اگلے دو سال ان دونوں نے وڑوالو سے چار سو کلو میٹر دور جنوب میں واقع حیدآباد میں گزارے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Mohammad Somar
Image caption میں یہ شادی اپنے خاندان سے خفیہ رکھنا چاہتا تھا جس کی وجہ سے میں نے سراکت بی بی کے لیے گھوٹکی میں ہی ایک گھر لے لیا: محمد سومر

' ہم نے وہ وقت اپنی بچی کھچی جمع پونجی پر گزارا۔ کچھ پیسے میری اراضی سے تھے، کچھ پیسہ میں نے موٹر سائیکل کی ڈیلرشپ میں اپنا حصہ بیچ کر حاصل کیا اور کبھی کبھار ہمیں سراکت بی بی کی ماں اور بہن پیسے بھجواتی تھیں جن کو ہماری مشکلات کے بارے میں علم تھا'۔

لیکن حالات بتدریج خراب ہوتے چلے گئے۔ پہلے محمد سومر کے گردے میں پتھری ہو گئی جس کی وجہ سے وہ کئی مہینے بستر پر پڑے رہے۔ اس کے بعد سراکت بی بی کا اسقاط حمل ہو گیا۔

محمد سومر نے سسکیاں بھرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا 'اس کو ماں بننے کا بہت ارمان تھا۔ وہ چاہتی تھی کے اس انجان سرزمین پر اس کا کوئی اپنا ہو۔ بچہ ضائع ہونے کے بعد وہ ہفتوں روئی۔'

بھوک اور تنہائی کے ہاتھوں مجبور ہو کر دونوں میاں بیوی نے واپس محمد سومر کے گاؤں جانے کا فیصلہ کیا۔ اپنے کچھ پرانے جاننے والوں کی مدد سے محمد سومر نے اپنی حراست رکوانے کا انتظام کر ایا تاکہ وہ اتنے عرصے میں اپنی ضمانت کرانے کا بندوبست کر سکیں۔

لیکن اس عرصے میں پولیس نے محمد سومر کے خلاف 16 مقدمات درج کر لیے تھے۔ گھر واپس آنے کے بعد اگلے سال تک محمد سومر کا تمام وقت عدالتی سماعت میں صرف ہوتا رہا جس کے درمیان ان کی اپنی صحت بھی بگڑتی جا رہی تھی۔

تین دسمبر 2015 کا دن ان دونوں کے لیے قیامت کی گھڑی ثابت ہوا۔ پولیس نے اس دن سراکت بی بی کو حراست میں لے لیا۔

یہ کیسے ممکن ہوا اس بات کی تفصیلات تو نہیں ہیں لیکن بظاہر ایسا لگتا ہے کے شاید سراکت بی بی نے خود حکام سے رابطہ کیا جب اس کی اپنے شوہر کے رشتے داروں سے بازار میں لڑائی ہو گئی۔

یہ واضع نہیں ہے کے آیا وہ سندھ میں اپنی زندگی سے تنگ آگئی تھیں، نہ ہی اس بات کی وضاحت ہے کہ وہ پولیس کے پاس کیوں گئیں حلانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کے وہ پولیس پر بھروسہ نہیں کر سکتیں۔

محمد سومر نے بی بی سی کو بتایا 'میں اُس کو دیکھنے عدالت گیا لیکن اُس نے میرے ساتھ چلنے سے انکار کر دیا۔ اس نے تو مجھ سے بات تک نہیں کی۔ بس دور سے دیکھ کر صرف ہاتھ ہلا دیا۔ وہ رو رہی تھی۔'

محمد سومر کو یقین ہے کہ سراکت بی بی کے رشتے داروں نے پولیس کو رشوت دے کر اُس کو حراست میں لیا تاکہ اُسے واپس پشاور لے جایا جائے اور وہ اپنی عزت بحال کر سکیں۔

محمد سومر کے اندازے کے بارے میں تو کچھ کہا نہیں جا سکتا لیکن ہمیں یہ ضرور معلوم ہے کہ آگے کیا ہوا۔

Image caption خالد محمود نے بعد میں عدالت کو بتایا کے اس نے اپنی بہن کو ایک سستے سے ہوٹل میں ایک سادہ لباس میں ملبوس پولیس والے اور ایک مقامی شخص محمد اسماعیل کے ساتھ دیکھا

سراکت بی بی کی والدہ حسن زدگئی نے بتایا 'پانچ دسمبر کو میرا فون بجا اور جب میں نے اٹھایا تو وہ سراکت بی بی تھی۔اس نے کہا کے وہ پشاور میں سندھ پولیس والوں کے ساتھ ہے اور وہ اسی صورت چھوڑیں گے اگر اس کا کوئی اپنے گھر والا لینے آئے۔ میں بس سکتے میں تھی۔'

حسن زدگئی نے بتایا کے ان کا میاں اور تین بیٹے سعودی عرب میں کام کرتے تھے چنانچہ انھوں نے اپنے سب سے چھوٹے بیٹے خالد محمود کو بھیج دیا۔

خالد محمود نے بعد میں عدالت کو بتایا کے اس نے اپنی بہن کو ایک سستے سے ہوٹل میں ایک سادہ لباس میں ملبوس پولیس والے اور ایک مقامی شخص محمد اسماعیل کے ساتھ دیکھا۔ خالد محمود نے کہا کے کاغذات پر دستخط کے باوجود سراکت بی بی نے ان کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا۔ سراکت بی بی کو شک تھا کہ اگر انھوں نے اپنے گاؤں میں قدم رکھا تو ان کے سابق شوہر کا خاندان ان کو قتل کر دے گا۔

سراکت بی بی نے اپنے بھائی کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا۔

اسی دن سراکت بی بی نے اپنی ماں کو دوبارہ فون کیا اور ان کو اپنی زندگی میں ایک اور شخص کے بارے میں بتایا جس کا نام عبدالرحمان تھا۔

سراکت بی بی کے مطابق عبدالرحمان ایک کاروباری شخص تھے جن کا پشاور میں ایک آرام دہ گھر تھا اور وہ ان سے شادی کرنا چاہتے تھے۔ یہ بات واضع نہیں ہے کہ سراکت بی بی اور عبدالرحمان کے درمیان تعلق کیسے ممکن ہوا۔

لیکن اگلے ہی دن فون پر سراکت بی بی نے اپنی والدہ کو بتایا کو وہ ایک بڑے سے بنگلے میں کئی اور دوسری خواتین کے ساتھ ہیں جو اس کے ہاتھوں اور پیروں پر مہندی لگا رہی ہیں اور پہننے کے لیے شادی کا جوڑا بھی دیا ہے۔

حسن زدگئی نے بتایا کہ 'وہ آواز سے خوش اور پر سکون لگ رہی تھی۔ لیکن اس شام کے بعد سراکت بی بی کا فون بند ہو گیا۔'

اگلے دن سراکت بی بی کے والد نے اپنی بیوی حسن زدگئی کو فون پر بتایا کے سراکت بی بی کے پہلے شوہر روغن شاہ کے بھائی نے ان کو فون کر کے بتایا کے سراکت ان کے پاس ہے اور وہ اب اپنی غیرت بحال کریں گے۔ سراکت بی بی کے والد نے حسن زدگئی کو پولیس سٹیشن جانے کا حکم دیا۔

حسن زدگئی نے کہا کہ انھیں یقین تھا کہ 'سراکت بی بی ایک جال میں پھنس گئی ہے۔'

پولیس کے مطابق سراکت بی بی کے بھائی خالد محمود کے جانے کے بعد محمد اسماعیل ان کو پشاور کے مغرب میں واقع قبائلی علاقے میں لے گئے۔

محمد اسماعیل نے عدالت میں اعتراف کیا کہ انھوں نے یہ کام اپنے ساتھی حبیب الرحمان کے کہنے پر کیا۔

محمد سومر کا خیال ہے کے سراکت کے پہلے شوہر نے اپنی بیوی کی معلومات حبیب الرحمان کو بتائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Mohammad Somar
Image caption بغیر کسی لاش کے، بغیر کسی آلہ قتل کے اور تینوں گرفتار افراد کے الزامات کی نفی کی صورت میں یہ ثابت کرنا بہت مشکل ہوگا

حبیب الرحمان کو بعد میں جب پولیس نے حراست میں لیا تو یہ معلوم ہوا کے وہ سراکت بی بی کے پہلے شوہر روغن شاہ کا رشتے دار ہیں۔ پولیس نے روغن شاہ کے بھائی فلک ناز کو بھی حراست میں لیا جس کے بنگلے پر سراکت بی بی کو لے جایا گیا تھا۔

تو کیا سراکت بی بی واقعی اپنے سابق شوہر کے بچھائے ہوئے جال میں پھنس گئی تھیں؟ فون کے ریکارڈز سے ایسا ہی لگتا ہے لیکن اس کہانی کے کئی سرے آپس میں نہیں ملتے۔

اگر یہ جال تھا تو اس کے لیے بہت لوگوں کو ساتھ ملانا ضروری تھا۔ یہ بھی غیر واضح ہے کے وہ عبدالرحمان کو کتنے عرصے سے جانتی تھیں۔

اور سراکت بی بی کی والدہ اور بہن کو ان تمام منصوبے کا کس حد تک علم تھا؟ ان کے بھائی نے اپنی بہن کو پشاور کے اس ہوٹل میں کیوں چھوڑ دیا؟

ان تمام سوالات کے جوابات شاید عدالت میں مل جائیں جہاں اس کیس کی سماعت جاری ہے اور تین افراد حراست میں ہیں۔

لیکن یہ بات مکمل طور پر واضح ہے کے سراکت بی بی نے اپنی زندگی ایسے شخص کی تلاش میں صرف کر دی جس کے ساتھ وہ پوری طرح محبت کر سکے۔ ان کی والدہ کو یقین ہے کے ان کی بیٹی نے محبت پانے کی ایک آخری کوشش کی اور اس کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔

لیکن بغیر کسی لاش کے، بغیر کسی آلہ قتل کے اور تینوں گرفتار افراد کے الزامات کی نفی کی صورت میں یہ ثابت کرنا بہت مشکل ہوگا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں