متاثرین: گھر واپسی کے بجائے نئی ڈیڈ لائن

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

حکومت اور سکیورٹی فورسز کے وعدوں اور دعوں کے باوجود قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے متاثرین کی واپسی اس سال کے آخر تک بھی مکمل نہیں ہو سکی اب حکام کا کہنا ہے کہ واپسی کا یہ عمل اگلے سال جون تک ہی مکمل ہو سکے گا۔

٭ قبائلی علاقوں کے پناہ گزین واپسی کے منتظر

دیار غیر میں متاثرین کی زندگی بھی تکلیف دہ ہے اور اپنے تباہ شدہ علاقے میں واپس جانے والے افراد کو بھی مشکلات در پیش ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ بعض علاقوں کے متاثرین کی واپسی چھ سالوں میں بھی مکمل نہیں ہو سکی۔ ان میں جنوبی وزیرستان کے محسود قبیلے کے مکین شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

قبائلی علاقوں کے ان متاثرین کے لیے یہ ایک ایسا امتحان رہا ہے جس میں ان قبائلیوں کا اپنا کچھ عمل دخل نہیں رہا ان کے علاقوں میں شدت پسند کیسے آئے یا انھیں کون لایا جن کے خلاف فوجی آپریشن شروع کیے گئے اور ان بے گناہ افراد کو اپنے گھر بار چھوڑنا پڑے۔

فوجی آپریشن شروع ہونے کے بعد ان لوگوں نے جہاں موقع ملا پناہ لی، بیشتر لوگ قبائلی علاقوں کے قریب شہروں اور دیہاتوں میں سر چھپانے پر مجبور ہوئے، کوئی دور دراز شہروں میں پہنچے اور ہزاروں خاندان سرحد پار افغانستان میں پناہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔

شدید سردی اور شدید گرمی خیموں میں گزاری۔ حکام کے مطابق کوئی اسی فیصد سے زیادہ متاثرین اپنے علاقوں کو جا چکے ہیں ۔

احسان داوڑ صحافی ہیں ان کا تعلق شمالی وزیرستان ایجنسی کی تحصیل میر علی سے ہے ۔ ان کی واپسی اس سال فروری کے مہینے میں ہوئی تھی۔

احسان داوڑ نے بی بی سی کو بتایا کہ میر علی اور ایجنسی ہیڈ کوارٹر میرانشاہ تو اپنی جگہ پر موجود ہی نہیں جہاں پہلے مکانات بازار اور دوکانیں تھیں اب وہاں میدان ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ میر علی اور میرانشاہ میں بیشتر متاثرین نے واپسی کے بعد اپنے تباہ شدہ مکانات کے ملبے پر خیمے لگا لیے تھے جبکہ ایسے لوگ تھے جن کے مکان تباہ ہوگئے تھے اور ان کے پاس اوڑھنے کے لیے کمبل تک نہیں تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

احسان داوڑ کا کہنا ہے کہ ان کے مکان کو بظاہر تو جزوی نقصان پہنچا ہے لیکن اس کی مرمت میں ان کے دس لاکھ روپے خرچ ہو چکے ہیں جبکہ انھیں حکومت نے ڈیڑھ لاکھ روپے دینے کا وعدہ کیا ہے یہ رقم انھیں کب ملے گی کچھ معلوم نہیں۔

جن متاثرین کے مکان مکمل تباہ ہو چکے ہیں انھیں صرف چار لاکھ روپے دینے کے وعدے کیے گئے ہیں۔ ان متاثرین کا کہنا ہے کہ حکومت انھیں ویسا ہی مکان جیسا ان کا تھا اس رقم میں تعمیر کر کے دے۔

شمالی وزیرستان کے تاجروں کا کہنا ہے کہ صرف میر علی اور میرانشاہ میں کوئی انیس ہزار سے زیادہ دکانیں تباہ ہوئی ہیں ان دکانوں اور ان میں ہونے والے نقصان کا تخمینہ اربوں روپے میں بتایا گیا ہے۔

جن متاثرین کی واپسی اب تک نہیں ہوئی اور وہ خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ان کے حالات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ کھانے کو خوراک نہیں، بیماری میں علاج نہیں بچوں کی تعلیم نہیں اس پر موسموں کی شدت علیحدہ ہے۔

شمالی وزیرستان کے قبائلی رہنما ملک نثار علی خان کا کہنا ہے کہ ان متاثرین کی زندگی کانٹوں پر گز رہی ہے۔

نثار علی خان نے بتایا کہ نقل مکانی کرنے والے متاثرین کے بچے بیمار ہیں ، پانی نہیں ہے ، خوراک کی قلت ہے اور ان کے پاس کوئی وسائل نہیں ہیں کہ وہ یہاں مزید گزارہ کر سکیں۔

اس بارے میں شمالی وزیرستان کے قبائلی رہنما ملک غلام نے بتایا کہ حکومت نے اب تک ان متاثرین کے لیے کوئی لائحہ عمل تیار نہیں کیا جو افغانستان کی جانب نقل مکانی کر گئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ افغانستان جانے والے متاثرین کے لیے پاکستان آنے کے راستے بند کر دیے گئے ہیں جبکہ افغانستان میں انھیں اپنایا نہیں جا سکتا۔

اس بارے میں قبائلی علاقوں میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے ایف ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل خالد خان کا کہنا ہے کہ 82 فیصد متاثرین اپنے گھروں کو جا چکے اور اب اس وقت تمام قبائلی علاقوں کے کوئی ساٹھ ہزار خاندان باقی رہ گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ان کا کہنا تھا کہ ان متا ثرین کی واپسی کا عمل تیزی سے جاری ہے لیکن بیشتر علاقوں میں موسم کی شدت آڑے آ رہی ہے جس وجہ سے اس سال دسمبر تک ان کی واپسی مکمل نہیں ہو سکی۔

خالد خان نے بتایا کہ اب امید ہے کہ اگلے سال جون تک ان متاثرین کی واپسی مکمل ہو جائے گی ۔ انھوں نے کہا کہ کرم ایجنسی ، اورکزئی ایجنسی اور دیگر قبائلی علاقوں کے بیشتر آئی ڈی پیز اپنے علاقوں کو واپس جا چکے ہیں۔

حیران کن بات یہ ہے کہ جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن راہ نجات سال دو ہزار نو میں شروع کیا گیا تھا اور اس ایجنسی کے متاثرین نے ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں پناہ لی۔ ان متاثرین کی واپسی کا عمل سال 2010 سے شروع کر دیا گیا تھا جو اب تک مکمل نہیں ہو سکا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے قبائلی رہنما نور خان محسود نے کہا کہ تمام قبائلی ایجنسیوں میں سب سے زیادہ جنوبی وزیرستان کے لوگ متاثر ہوئے ہیں جو ایک عرصے سے بے گھر ہیں اور ان کے لیے کوئی کیمپ یا ان کے لیے کوئی ایسے اقدامات نہیں کیے گئے جس سے ان متاثرین کی پریشانیوں کو دور کیا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ انھیں شروع میں یہ بتایا گیا تھا کہ چند ہزار شدت پسند یا طالبان ہے جن کا خاتمہ کرنا ہے اس کے نتیجے میں ان کے علاقے کے لاکھوں لوگوں نے نقل مکانی کی اور ملک کے لیے قربانیاں دیں اب چاہیے تھا کہ انھیں گلے لگایا جاتا اور انھیں محبت سے اپنے علاقوں میں رہائش دی جاتی لیکن ایسا نہیں ہے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ اب بھی اگر کہیں کوئی دھماکہ یا فائرنگ کا واقعہ ہوتا ہے تو اس علاقے کو گھیرے میں لے کر لوگوں کو تنگ کیا جاتا ہے جس کے خلاف لوگوں نے احتجاج بھی کیے ہیں۔

شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن جو سال 2014 میں شروع کیا گیا تھا جس سے کوئی دس لاکھ افراد نے نقل مکانی کی۔ ان متاثرین کی واپسی کا سلسلہ گزشتہ سال مارچ میں شروع کیا گیا تھا جو انتہائی سست روی کا شکار رہا۔ اس سال جون میں کہا گیا کہ اب متاثرین کی واپسی میں تیزی آئے گی اور اس سال دسمبر تک تمام قبائلی علاقوں کے متاثرین اپنے وطن واپس بھیجے جائیں گے۔

اسی بارے میں