'اسرائیل یہودی ہو سکتا ہے یا پھر جمہوری'

اسرائیل امریکہ تعلقات تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتے فاصلے

سوشلستان کو سال 2016 بہت ناپسند ہے جیسے نیا سال چڑھنے پر شام کے مصائب کم ہو جائیں گے اور اوپر تلے کوچ کرنے والے فنکاروں کا سلسلہ تھم جائے گا اور حادثات رک جائیں گے۔

مگر اس وقت شوکت خانم کراچی صفِ اول کا ٹرینڈ ہے اور اس کے ساتھ ایک دلچسپ ٹرینڈ 2016 چار الفاظ میں ہے۔ مگر ہم چلتے ہیں امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری سفارتی جنگ کی جانب۔

اسرائیل امریکہ تعلقات میں محبت اور نفرت

ایسے لگتا ہے کہ امریکہ میں ان دنوں دو متوازی حکومتیں کام کر رہی ہوں۔ ایک صدر اوباما کی حکومت ہے جو وائٹ ہاؤس سے کام کر رہی ہے جبکہ دوسری ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت ہے جو ٹوئٹر سے چل رہی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کے خلاف منظور کی جانے والی قرارداد کے بعد اقوامِ متحدہ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اسرائیل کو تسلی دی کہ ان کے صدر بننے کے بعد حالات بدل جائیں گے جبکہ امریکی وزیرِ خارجہ نے اسرائیل پر کڑی تنقید کی۔

نیویارک ٹائمز کے صحافی نکولس کرسٹوف نے لکھا: 'کاش جان کیری نے اسرائیل کی جانب سے دو ریاستی حل کے امکانات کو معدوم کرنے کی کوششوں پر سچ چار سال قبل بولا ہوتا نہ کہ اپنی مدت کے اختتام پر۔'

مگر جان کیری کی تقریر کو جہاں سراہا جا رہا ہے وہیں ان پر شدید تنقید بھی کی جا رہی ہے جن میں اکثریت رپبلکن پارٹی کے اراکین کی ہے۔ کانگریس کے سپیکر پال رائن نے لکھا: 'اسرائیل کے خلاف قرارداد منظور ہونے کے بعد جان کیری کی ساکھ ایسی نہیں کہ وہ اسرائیل اور فلسطین امن پر بات کر سکیں۔'

اور بات یہاں تک نہیں رکی انھوں نے کہا کہ 'ہماری متحدہ رپبلکن پارٹی کی حکومت اوباما دور کے نقصانات کا ازالہ کرے گی اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو ازسرِنو تعمیر کرے گی۔'

تاہم دوسری جانب مائیکل وائٹ نے لکھا: 'کیری نے اسرائیل کے مسئلے کو موثر طریقے سے بیان کیا۔ نتن یاہو حقائق سے چشم پوشی کرنے کو ترجیح دیتے ہیں جس میں ان کی مدد نووارد ڈونلڈ ٹرمپ کر رہے ہیں۔'

امریکی صحافی سٹیون گرین ہاؤس نے لکھا کہ 'نتن یاہو اوباما پر تنقید کر رہے ہیں جنھوں نے اسرائیل کو 38 ارب ڈالر کی فوجی امداد دی مگر روس اور چین پر نہیں جنھوں نے اس قرارداد کے لیے ووٹ دیا۔'

امریکی سیاسی تجزیہ کار برٹ ہیوم نے لکھا: 'چونکہ امریکہ کی جانب سے رائے شماری میں حصہ نہ لینے کے نتیجے میں قرارداد منظور ہوئی تو کیا یہ اوباما انتظامیہ کے لیے ایمانداری کی بات نہ ہوتی کہ وہ ووٹ دے دیتے؟'

مگر جو بھی ہو، جان کیری کہ اس بیان کو بہت زیادہ شیئر کیا گیا جس میں انھوں نے کہا: 'اسرائیل یا تو یہودی ہو سکتا ہے یا جمہوری، دونوں نہیں۔'

جھوٹی خبریں اور سوشل میڈیا

انٹرنیٹ پر ان دنوں جھوٹی خبروں کا چرچا ہے جس سے مراد ایسے بلاگ اور ویب سائٹس ہیں جو بےبنیاد، بلکہ مضحکہ خیز خبریں شائع کرتے ہیں اور انھیں سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلاتے ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ کے ایک جائزے کے مطابق ہلیری کلنٹن کے نصف ووٹر یہ سمجھتے ہیں کہ روس نے ووٹوں میں ہیر پھیر کر کے ٹرمپ کو جتوایا ہے۔

اب ہم اس کا ذکر کیوں کر رہے ہیں؟

چند دن قبل ایسی ہی جعلی اور جھوٹی خبریں شائع کرنے والی ویب سائٹ کا شکار پاکستانی وزیرِدفاع اور وزیرِ پانی و بجلی خواجہ آصف بنے اور انھوں نے ٹوئٹر پر اسرائیل کو دھمکی دے ڈالی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption خواجہ آصف کی ٹویٹ کے جواب میں اسرائیلی وزاتِ دفاع نے اس کی تردید کی

اور جھوٹی خبروں کی بیماری صرف سوشل میڈیا تک ہی محدود نہیں بلکہ اب عام ویب سائٹس تک پھیلتی جا رہی ہے اور پاکستان سے بھی کئی ویب سائٹس ہیں جن پر ایسی بے بنیاد خبریں شائع کی جاتی اور پھر پھیلائی جاتی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اس کی روک تھام کے لیے کیا حکومتِ پاکستان کوئی اقدامات کرے گی؟ گذشتہ کئی مہینوں سے معروف ڈرامہ نگار اور مصنف انور مقصود کے نام سے ٹوئٹر پر ایک اکاؤنٹ چلتا رہا جس کی ٹویٹس نہ صرف لوگ شیئر کرتے رہے بلکہ بہت سوں کے خبردار کرنے پر اس کو سچ سمجھ کر فالو بھی کرتے رہے۔

اب انور مقصود نے ایک ویڈیو کے ذریعے اعلان کیا ہے یہ اکاؤنٹ ان کا نہیں جس کے بعد اس اکاؤنٹ کی تفصیلات تبدیل کی گئی ہیں مگر ان 40 ہزار سے زیادہ فالورز کو شاید پتہ بھی نہیں چلا ہو گا کہ وہ اصلی والے انور مقصود کو فالو کر رہے ہیں یا جعلی کو۔

یاد رہے کہ جرمن حکومت جعلی اور جھوٹی خبروں پر سوشل میڈیا ویب سائٹس پر جرمانہ عاید کرنے کے لیے قانون سازی پر غور کر رہی ہے۔

اس ہفتے کا تعارف

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption میجر جنرل آصف غفور ڈی جی آئی ایس پی آر کا نیا ٹوئٹر اکاؤنٹ چلائیں گے

جنرل عاصم سلیم باجوہ کے جانے کے اعلان کے بعد بہت سارے لوگوں کو فکر لاحق تھی کہ ان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کا کیا بنے گا جس کے لاکھوں فالوررز ہیں۔ تو جنرل عاصم یہ اکاؤنٹ اپنے ساتھ ہی رکھ رہے ہیں اور نئے آنے والے آئی ایس پی آر کے سربراہ کا نیا اکاؤنٹ بنایا گیا ہے جو ان کے نام سے نہیں ہے اور اس کے اب تک پانچ دنوں میں 21ہزار سے زیادہ فالوورز بن چکے ہیں۔

اگر آپ نے اب تک ایسا نہیں کیا تو اس انتہائی اہم اکاؤنٹ کو آپ اس لنک پر فالو کر سکتے ہیں۔

اس ہفتے کی تصاویر

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption صوابی کے قریب انڈس ریور واٹر کراس ریلی میں شریک ایک گاڑی کی تصویر
تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاکستان اور بھارت کے درمیان پھنسے ماہی گیر

اسی بارے میں