پنجاب میں دوبارہ انگریز کے زمانے کا کمشنری نظام متعارف کرانے کا فیصلہ

پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں ڈپٹی کمشنر کا نظام دوبارہ متعارف کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس مقصد کے لیے قانون کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پنجاب میں ڈپٹی کمشنر کا عہدہ ایک ایسے وقت میں بحال کیا جا رہا ہے جب صوبے کے بلدیاتی ادارے بحال ہونے والے ہیں( فائل فوٹو وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف)

آرڈیننس کے ذریعے ڈپٹی کمشنر کا نظام دوبارہ رائج کیا جائے گا جو پنجاب بھر میں نفاذ العمل ہوگا۔

حکومت کے مطابق اس نظام سے ڈلیوری سروس میں بہتر آئے گی تاہم قانونی ماہرین کے مطابق اسے بلدیاتی اداروں کو بے اختیار کرنے کا اقدام قرار دے رہے ہیں۔

سنہ 2001 میں اس وقت کے فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے ڈپٹی کمشنر کا عہدہ تحلیل کر کے اس کی جگہ ضلعی رابطہ افسر یا ڈی سی او کا عہدہ تشکیل دیا تھا۔

ڈپٹی کمشنر کے نظام کی بحالی کے لیے پنجاب سول ایڈمنسٹریشن کے عنوان سے آرڈیننس جاری کیا جائے گا اور یہ پورے پنجاب میں نفاذ ہوگا۔

صوبہ پنجاب میں ڈپٹی کمشنر کا عہدہ ایک ایسے وقت میں بحال کیا جا رہا ہے جب صوبے میں بلدیاتی ادارے بحال ہونے والے ہیں۔

بلدیاتی امور اور قانون کے ماہر مبین الدین قاضی ایڈووکیٹ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ڈپٹی کمشنر کا عہدہ بحال ہونے سے بلدیاتی نمائندوں کے اختیارات پر ضرب لگے گی جو بقول ان کے جمہوریت کی نفی ہے۔

لگ بھگ 8 برسں کے بعد پنجاب میں بلدیاتی ادارے بحال ہو رہے ہیں اور حال میں ان کی تشکیل مکمل ہوئی۔

پنجاب سول ایڈمنسٹریشن نامی آرڈیننس کے تحت ڈپٹی کمشنر ضلع اور اسسٹنٹ کمشنر تحصیل میں وسائل کی موثر فراہمی، امن و امان کے معاملے پر پولیس سے مشاورت اور مالیاتی امور سمیت دیگر انتظامی معاملات کا جائزہ لیں گے۔

مبین الدین قاضی ایڈووکیٹ کی قانونی رائے ہے کہ یہ متوقع آرڈیننس آئین کے منافی ہے کیونکہ آئین کے آرٹیکل 140 اے کے تحت یہ پابندی ہے کہ انتظامی، سیاسی اور مالیاتی نوعیت کے اختیارات منتخب بلدیاتی نمائندوں کے پاس ہوں گے اور یہ اختیار سرکاری افسر کو نہیں دیے جا سکتے۔

یہ آرڈیننس ڈپٹی کمشنر کو یہ اختیار بھی دے گا کہ وہ عوامی سہولیات کی فراہمی کا جائزہ لیں اور مناسب ہدایات جاری کر دیں۔

ڈپٹی کمشنر کو یہ بھی اختیار ہوگا کہ وہ اپنی ہدایات پر عمل نہ ہونے کی صورت میں حکومت کو قانون کے مطابق کارروائی کی تجویز دے سکیں۔

ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس قانون کے تحت ایک طرح سے منتخب نمائندوں کے اختیارات سرکاری افسروں کو مل جائیں گے۔

سرکاری افسر نے حیرت کا اظہار کیا کہ دنیا آگے کی جانب جا رہی ہے لیکن حکومت صوبے میں پرانے قوانین کی بحالی میں مصروف ہے۔

بلدیاتی قوانین کے ماہر مبین قاضی نے تشویش کا اظہار کیا کہ نئے قانون کے تحت ڈپٹی کمشنر کو یہ اختیار مل جائے گا کہ وہ انکوائری کر سکیں گے۔

مبین قاضی نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس اختیار کو سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے اور سیاسی مخالفین کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان کے بقول جس کے خلاف انکوائری شروع ہوگی اس کو ناصر ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے باہر انتظار کرنا پڑے گا بلکہ اس بار بار دفتر کاٹنا بھی پڑیں گے۔

اعلیٰ افسر نے بتایا کہ اس قانون کے تحت امن و امان، پبلک سیفٹی اور دیگر معاملات پر پولیس کو ڈپٹی کمشنر کے تابع کر دیا ہے اور پولیس ڈپٹی کمشنر کی ہدایات پر عمل کرنے کی پابند ہوگی۔

مبصرین کے مطابق ڈپٹی کمشنر کے نظام کو رائج کرنے مقصد 2018 کے انتخابات کو کنٹرول کرنا ہے۔

مبین قاضی ایڈووکیٹ نے افسوس کا اظہار کیا کہ ڈپٹی کمشنر کے نظام کو بحال کرنے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت منتخب نمائندوں کے بجائے ڈی ایم جی گروپ کے ذریعے معاملات چلانے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ان کے بقول اس طرح عوامی کلچر کے بجائے پروٹوکول کلچر فروع پائے گا۔

اسی بارے میں