وفاقی حکومت نیشنل ایکشن پلان سے پیچھے ہٹ رہی ہے: سندھ

ایپکس کمیٹی تصویر کے کاپی رائٹ Sindh government

حکومت سندھ نے وفاقی حکومت پر نیشنل ایکشن پلان سے پیچھے ہٹنے کا الزام عائد کیا ہے اور کہا ہے کہ وفاقی حکومت دہشتگردی کی روک تھام کے لیے بنائے گئے قومی ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کر رہی اور جو کمزوریاں نظر آرہی ہیں اس کی ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

سندھ کی ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے وفاقی حکومت پر تحفظات کا اظہار کیا۔

پیر کی صبح سال نو کے پہلے اجلاس میں نئے کور کمانڈر جنرل شاہد بیگ، ڈائریکٹر جنرل رینجرز سندھ میجر جنرل محمد سعید، آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ اور صوبائی وزرا نے شرکت کی۔

صوبائی مشیر اطلاعات مولا بخش چانڈیو نے ایپکس کمیٹی کے نئے اراکین کی تعریف کی اور کہا کہ کور کمانڈر نہایت شائستہ اور نرم گفتگو کرنے والے پیار بھرے انسان لگ رہے ہیں اور ڈائریکٹر جنرل رینجرز بھی۔ دونوں کے ساتھ خوشگوار ماحول میں آغاز ہوا ہے اور یہ یقین دہانی ہے کہ کراچی اور سندھ کے دوسرے شہروں میں امن امان کے حوالے سے اسی بہتر انداز میں کام ہو گا۔

مولا بخش چانڈیو کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے وفاقی حکومت پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کراچی آپریشن اور نیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہی، اور حکومتِ سندھ کی جو مدد کرنی چاہیے وہ بالکل فراہم نہیں کی جا رہی۔

انھوں نے کہا کہ اس وقت جن جگہوں پر کمزوری نظر آرہی ہیں وہ سب وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے۔

صوبائی مشیر اطلاعات نے کہا: ’مدراس کی رجسٹریشن کے حوالے سے سندھ میں بہت کام ہو چکا ہے لیکن نگرانی کے لیے وفاقی حکومت کچھ نہیں کر رہی، مدارس کے حوالے سے باتیں کرتے ہیں لیکن ایکشن سے پتہ نہیں ان کی جان کیوں نکلتی ہے۔‘

مشیر اطلاعات مولابخش چانڈیو کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیموں کے حوالے سے وفاقی حکومت کی کوئی واضح پالیسی نظر نہیں آتی۔ ’کالعدم تنظیمیں جلسے کر رہی ہیں اور کئی تنظیمیں تو ایسی ہیں جن کو وفاقی حکومت کی حمایت حاصل ہے۔‘

مولابخش چانڈیو کا دعویٰ تھا کہ آپریشن کے دوران سندھ میں پولیس اور رینجرز نے بڑی تعداد میں اسلحہ پکڑا ’لیکن اسلحہ بنانے اور لانے والوں کے خلاف کارروائی تو وفاقی حکومت نے کرنی ہے، کیونکہ اسلحہ یہاں تو نہیں بن رہا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایپیکس کمیٹی نے کراچی میں بڑھتے ہوئے سٹریٹ کرائم پر تشویش کا اظہار کیا

مشیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ بعض نشریاتی اداروں پر دہشت گردوں کو ہیرو بنا کر پیش کیا جارہا ہے، لیکن پیمرا کوئی ایکشن نہیں لے رہا۔ ’اس قسم کی نشریات اور اشاعت کی روک تھام کے لیے وفاقی حکومت نے کردار ادا کرنا تھا جو وہ ادا نہیں کر پائی۔‘

ایپکس کمٹی نے کراچی میں سٹریٹ کرائم میں اضافے پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ آئی جی سندھ کو اس کی روک تھام کا ٹاسک دیا گیا ہے۔ مشیر اطلاعات نے بتایا کہ اس بات پر سب کا اتفاق تھا کہ اوپر کتنی بھی کوششیں کی جائیں اگر گلیوں میں لوگوں کو تحفظ حاصل نہیں ہے تو ساری کوششیں رائیگاں چلی جائیں گی۔

آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے بھی اس اجلاس میں شرکت کی۔ اس سے قبل انھیں جبری رخصت پر بھیجنے کی خبریں منظر عام پر آئی تھیں جبکہ سندھ ہائی کورٹ نے بھی 15 جنوری تک ان کا تبادلہ روک دیا تھا۔

مشیر اطلاعات مولابخش چانڈیو کا دعویٰ تھا کہ آئی جی پرسکون نظر آ رہے تھے اور بار بار کہہ رہے تھے کہ ان پر سندھ حکومت کا کوئی دباؤ نہیں ہے۔‘

اسی بارے میں