کمسن گھریلو ملازمہ پر تشدد، پولیس کارروائی جاری رکھے گی

اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ کمسن گھریلو ملازمہ کو حبس بےجا میں رکھنے اور اس پر تشدد کرنے کے الزام میں ایڈشنل سیشن جج راجہ خرم علی خان کی بیگم کی عبوری ضمانت کی منظوری کے باوجود اس مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

اس مقدمے کی تفتیشی ٹیم کے سربراہ انسپکٹر خالد اعوان نے بی بی سی کو بتایا کہ اس مقدمے میں تشدد کا نشانہ بننے والی کمسن لڑکی طیبہ کے بیان کے علاوہ طبی معائنے کی حتمی رپورٹ کو بھی شامل کیا جائے گا۔

پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ عدالت نے کمسن گھریلو ملازمہ کے ورثا کے معاف کرنے پر ابھی ملزمہ کی عبوری ضمانت منظور کی ہے جبکہ اس مقدمے کی کارروائی ابھی عدالت میں بھی چلائی جائے گی اور پولیس ضابطے کی کارروائی مکمل کر کے اس مقدمے کا حتمی چالان عدالت میں پیش کرے گی۔

واضح رہے کہ اسلام آباد کی مقامی عدالت کے جج راجہ آصف علی نے اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج کی بیوی کی ضمانت منظور کرتے ہوئے اُنھیں متعقلہ عدالت میں 30 ہزار روپے کے مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔

دس سالہ لڑکی طیبہ کے والد نے عدالت میں بیان حلفی دیا ہے کہ وہ ملزمہ کو معاف کرتے ہیں اور اُنھوں نے خود اس واقعہ کی تحقیقات کی ہیں اور وہ (گھریلو ملازمہ کا والد) اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ مقدمہ غلط فہمی کی بنا پر درج کیا گیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے بھی اس واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا تھا تاہم ابھی تک اس واقعے کی تحقیقات کی رپورٹ عام نہیں کی گئی اور نہ ہی متعقلہ جج کو معطل کیا گیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اسلام آباد میں تعینات ایڈیشنل سیشن جج راجہ خرم علی خان کی طرف سے اختیارات کے غلط استعمال پر اُن کو چھ ماہ کے لیے افیسر آف سپیشل ڈیوٹی یعنی او ایس ڈی بنا دیا تھا۔

واضح رہے کہ اسلام آباد کے ایک پوش سیکٹر میں رہائش پذیر ایڈیشنل سیشن جج کی اہلیہ نے چھوٹے سے معاملے پر گھر میں کام کرنے والی دس سالہ طیبہ کو تشدد کا نشانہ بنانے کے علاوہ اُس کا ہاتھ بھی جلایا تھا جبکہ اس کے علاوہ اس گھریلو ملازمہ کو حبس بےجا میں بھی رکھا گیا تھا۔

ایڈیشنل جج کی اہلیہ کی طرف سے گھریلو ملازمہ کو تشدد کا نشانہ بنانے کی تصاویر سوشل میڈیا پر جاری ہوئیں اور اس کے علاوہ راولپنڈی میں چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں بھی رپورٹ درج کروائی گئی تھی تاہم اس معاملے کو وزارت داخلہ کو بھجوا دیا گیا تھا۔

دوسی جانب مقامی عدالت نے گھریلو ملازمہ طیبہ کو اپنے والد کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی ہے۔

اسی بارے میں