پاناما لیکس مقدمہ، شریف خاندان کے وکلا تبدیل

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نواز شریف اس بارے میں ایک سے زیادہ مرتبہ قوم سے خطاب بھی کر چکے ہیں

پاکستان کے وزیر اعظم میاں نواز اور اُن کے بچوں نے پاناما لیکس کے بارے میں سپریم کورٹ میں زیر سماعت درخواستوں کی پیروی کے لیے اپنے وکلا کو تبدیل کردیا ہے۔ بدھ کے روز سپریم کورٹ میں ان درخواستوں کی سماعت کے دوران نئے وکلا عدالت میں پیش ہوں گے۔

سپریم کورٹ میں وکلا کی تبدیلی سے متعلق جمع کروائے گئے ریکارڈ کے مطابق سابق اٹارنی جنرل مخدو علی خان وزیر اعظم کی طرف سے عدالت میں پیش ہوں گے جبکہ اس سے پہلے وزیر اعظم کی وکالت سلمان اسلم بٹ کر رہے تھے۔

وزیر اعظم کے صاحبزادوں حسن نواز اور حسین نواز کے وکیل کو بھی تبدیل کردیا گیا ہے اور اب اکرم شیخ کی بجائے سلمان اکرم راجہ پاناما لیکس میں وزیر اعظم کے بچوں کی نمائندگی کریں گے۔

سابق گورنر پنجاب شاہد حامد وزیر اعظم کی صاحبزادی مریم نواز کی طرف سے عدالت میں پیش ہوں گے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بینچ بدھ سے آف شور کمپنیوں سے متعلق پاناما لیکس میں وزیر اعظم کے بچوں کے نام آنے کے بارے میں دائر کی گئی درخواستوں کی سماعت کرے گا۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے جنہوں نے اس بارے میں سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرر کھی ہے، عدالت عظمی میں مذید دستاویزات بھی جمع کروادی ہیں ۔ عمران خان کا دعوی ہے کہ اُنھوں نے ناقابل تردید شواہد عدالت میں جمع کروائے ہیں جس میں لندن میں وزیر اعظم کے بچوں کی طرف سے فلیٹ خریدنے سے متعلق ہونے والی ای میل کی معلومات بھی شامل ہیں۔

سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے آخری مرتبہ ان درخواستوں کی سماعت کی تھی جس کے بعد اُنھوں نے اپنے حکمنامے میں کہا تھا کہ ان درخواستوں کی مکمل سماعت ابھی نہیں ہوسکی کیونکہ اس معاملے کے بہت سے پہلووں کو پرکھنے کی ضرورت ہے۔اور تمام معاملات اور دستاویزات کا جائزہ لیے بغیر فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔

سپریم کورٹ نے اس معاملے کی چھان بین کے لیے عدالتی کمیشن بھی بنانے کا عندیہ دیا ہے تاہم حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے عدالتی کمیشن کے قیام کی مخالفت کی ہے۔

اسی بارے میں