پاناما لیکس مقدمے میں ’التوا نہیں، اب سماعت روزانہ ہوگی‘

سپریم کورٹ
Image caption درخواستوں کی پیروی کے لیے وزیراعظم میاں نواز شریف اور اُن کے بچوں نے اپنے وکلا کو تبدیل کر دیا ہے

پانامالیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے کہا ہے کہ عدالت کو دیکھنا ہوگا کہ کیا سعودی عرب یا دبئی سے قطر بھیجی گئی رقم پر پاکستان کے قوانین لاگو ہوتے ہیں یا نہیں۔

٭ پاناما لیکس: نیا سال، نیا بینچ، نئی سماعت

عدالت کا کہنا تھا کہ محض کسی شخص (وزیر اعظم ) کی تقریروں میں پیش کیے گئے حقائق کو بنیاد بنا کر اس مقدمے کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے وزیر اعظم محمد نوازشریف اور اُن کے بچوں کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کی۔

پاکستان تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم محمد نواز شریف نے پانامالیکس کے بارے میں قوم اور پھر پارلیمنٹ میں جو تقاریر کی تھیں اس میں حقائق کو جان بوجھ کر چھپایا گیا تھا اور ان تقریروں میں قطر میں ہونے والے بزنس کا کوئی ذکر نہیں تھا۔

اُنھوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے قطر میں کیے گئے کاروبار کا ذکر الیکشن کمیشن میں جمع کروائے گئے کاغذات میں کہیں نہیں کیا اور نہ ہی ٹیکس گوشواروں میں اس کا ذکر کیا گیا ہے۔

نعیم بخاری نے مذید دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نے جان بوجھ کر حقائق چھپائے ہیں اس لیے وہ صادق اور امین نہیں رہے لہذا عدالت اُنھیں نااہل قرار دے۔

بینچ میں شامل جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کیا وزیر اعظم نے صریحاً ایسا کیا ہے یا پھر غلطی سے ایسا ہوگیا ہے۔

نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ دوبئی میں شریف فیملی نے جو گلف سٹیل مل خریدی تھی اس سلسلے میں بی سی سی آئی سے قرضہ لیا تھا اور ابھی تک یہ معلوم نہیں ہے کہ اس بینک کا قرضہ بھی اتارا گیا ہے یا نہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ سنہ 1980 میں گلف سٹیل مل کے لیے بارہ ملین درہم دبئی بھجوائے گئے تھے اور اطلاعات کے مطابق سنہ 2000 میں یہ بارہ ملین درہم موجود تھے۔

جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیے کہ عدالت کو یہ دیکھنا ہے کہ دوبئی سے جدہ اورپھر قطر گئی رقوم اگر غیر قانونی طور پر بھجوائی گئی ہے تو کیا ان ممالک میں کیے گیے غیر قانونی اقدام پاکستانی قوانین کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تحریک انصاف اور عوامی مسلم لیگ نے نواز شریف کے خلاف درخواست جمع کرائی تھی

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ عدالت کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ جس دور میں لندن میں یہ فلیٹ خریدے گئے اس وقت میاں نواز شریف کسی عوامی عہدے پر فائز تھے یا نہیں کیونکہ وزیر اعظم کے بقول وہ سنہ 1997 میں کاروبار سے الگ ہوگئے تھے۔

بینچ میں شامل جسٹس اعجاز الحسن نے پاکستان تحریک انصاف کے وکیل سے استفسار کیا کہ یہ فلیٹ کس نے خریدے تھے تو اس پر نعیم بخاری نے کہا کہ یہ فلیٹس نیسکول اینڈ نیلسن کمپنی نے خریدے تھے۔

اس پر جسٹس اعجاز نے کہا ہے کہ اب یہ ثابت کرنا آپ کا کام ہے کہ یہ کمپنی 1993 میں حسین نواز کی ملکیت تھی۔

بینچ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ انتہائی اہم معاملہ ہے اس لیے ان درخواستوں کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کی جائے گی۔ نعیم بخاری جمعرات کو بھی اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔

اسی بارے میں