پاکستان میں زہریلی شراب کے استعمال کا ایک اور واقعہ، پشاور میں پانچ ہلاک

شراب تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان میں زہریلی شراب پینے کے نتیجے میں ہلاکتوں کے واقعات تقریباً ہر برس رونما ہوتے ہیں

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں حکام کا کہنا ہے کہ زہریلی شراب پینے سے پانچ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق مسیحی برادری سے ہے۔

ٹوبہ ٹیک سنگھ میں زہریلی شراب پینے سے 32 افراد ہلاک

پولیس کے مطابق یہ واقعہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب پشاور شہر کے علاقے صواتو پھٹاک میں پشتخرہ پولیس سٹشین کی حدود میں پیش آیا۔

پشتخرہ پولیس سٹیشن کے انچارج اسلام شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ مسیحی برادری کے چند افراد نے سال نو کی خوشی میں زہریلی شراب پی رکھی تھی جس سے ان کی حالت غیر ہونے پر ہسپتال پہنچایا گیا۔

انھوں نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ان افراد نے دوائیوں میں استعمال ہونے والا سپرٹ اور مقامی طور پر تیار ہونے والی شراب کو ملا کر پیا تھا جس سے اب تک پانچ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو گئی ہے۔

ان کے مطابق ہلاک ہونے والے تمام افراد کا تعلق مسیحی برادری سے ہے اور جو مختلف سرکاری محکموں میں نچلے درجے کے ملازمین بتائے جاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان میں مقامی طور پر تیار ہونے والی شراب سے اکثر اواقات ہلاکتوں کے واقعات سامنے آتے ہیں

پاکستان میں زہریلی شراب پینے سے ہلاکتوں کے واقعات پہلے بھی ہوتے رہے ہیں جس میں اکثر اوقات مسیحی یا ہندو کمیونٹی افراد ہلاک ہوتے ہیں۔

ایک ہفتہ قبل پنچاب کے شہر ٹوبہ ٹیک سنگھ میں کرسمس کے موقع پر زہریلی شراب پینے کا ایک بڑا واقعہ پیش آیا تھا جس میں 30 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں