گھریلو ملازمہ پر ’تشدد‘: چیف جسٹس کا از خود نوٹس

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے چیف جسٹس جسٹس میاں ثاقب نثار نے اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج کے گھر پر کام کرنے والی دس سالہ لڑکی طیبہ کو تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعے کا از خود نوٹس لے لیا ہے۔

چیف جسٹس نے یہ از خودنوٹس اس واقعے سے متعلق ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں پر لیا ہے۔

عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار کو چوبیس گھنٹوں میں اس واقعے سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج کی اہلیہ کی طرف سے دس سالہ گھریلو ملازمہ طیبہ کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعے کو مقامی میڈیا اور سوشل میڈیا پر کافی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

صوبہ پنجاب کے وسطی شہر فیصل آباد کے قریبی دیہات سے تعلق رکھنے والی دس سالہ طیبہ گذشتہ دو سالوں سے ایڈیشنل سیشن جج راجہ خرم علی خان کے مکان پر ملازمہ تھیں۔

ایڈیشنل سیشن جج کی اہلیہ کی طرف سے مبینہ طور پر کمسن ملازمہ پر تشدد زدہ تصاویر اور میڈیکل رپورٹ کے باوجود متعلقہ عدالت نے اس مقدمے میں ایڈیشنل سیشن جج کی اہلیہ کی ضمانت منظور کرلی۔

متاثرہ لڑکی کے والد نے عدالت میں ایک بیان حلفی جمع کروایا تھا جس میں اُن کا موقف تھا کہ وہ ایڈیشنل سیشن جج اور اُن کی اہلیہ کو اللہ کے واسطے معاف کرتا ہوں اور پولیس نےراجہ خرم علی خان کی اہلیہ کے خلاف مقدمہ غلط فہمی کی بنیاد پر درج کیا ہے۔

دوسری جانب وزارت داخلہ نے متاثرہ کمسن گھریلو ملازمہ طیبہ کے طبی معائنے کے لیے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے چار ڈاکڑوں پر مشتمل ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دیا ہے جو دو روز میں دس سالہ طیبہ کا طبی معائنہ کرکے رپورٹ پیش کرے گا۔

اطلاعات کے مطابق طیبہ کے والد اپنی بیٹی کو لیکر فیصل آباد جا چکے ہیں جس کے بعد اسلام آباد پولیس کے حکام متاثرہ لڑکی کے طبی معائنے کے لیے انھیں گھر سے لینے کے لیے فیصل آباد روانہ ہو گئے ہیں۔

دوسری طرف حزب مخالف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی سینیٹر سحر کامران نے اس واقعے سے متعلق سینیٹ سیکریٹریٹ میں ایک توجہ دلاؤ نوٹس جمع کروایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حکومت بتائے کہ اُس نے اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف کیا کارروائی کی ہے اور اس کے علاوہ یہ بھی بتایا جائے کہ انسانی حقوق اور بلخصوص بچوں سے لی جانے والی جبری مشقت کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔

اسی بارے میں