پاناما لیکس کیس: ’قطری خط کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا‘

کورٹ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پانامالیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف کہتے ہیں کہ جلا وطنی کے بعد انھوں نے جدہ میں فیکٹری لگائی کیونکہ مشرف دور میں ان کے تمام کاروبار کو بند کر دیا گیا تھا۔ اگر یہی بات ہے تو فیکٹری لگانے کے پیسے کہاں سے آئے؟

'التوا نہیں، اب سماعت روزانہ ہوگی'

پاناما لیکس: نیا سال، نیا بینچ، نئی سماعت

اُنھوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے مالیاتی مشیر نے کہا تھا اس بارے میں تمام ثبوت موجود ہیں اور ان کا ریکارڈ وزیراعظم کے وکیل کے پاس ہے لیکن عدالت میں اس ضمن میں کچھ بھی جمع نہیں کروایا گیا اور ان کے وکلا کا موقف تھا کہ اُن کے پاس کچھ نہیں ہے۔

جمعرات کو ان درخواستوں کی سماعت کے دوران پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے نعیم بخاری نے اپنے دلائل میں کہا کہ قطری شہزادے کی جانب سے جمع کیا گیا خط خود ساختہ ہے جس کی کوئی اہمیت نہیں ہے جس پر بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کے بچوں کے جواب کا سارا دار و مدار اسی خط پر ہے، اسے کیسے نظر انداز کر دیا جائے۔

پانامالیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کرنے والے بینچ میں شامل جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ خط خود ساختہ ہے پھرآپ کیوں بار بار اسی خط کا ذکر کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان تحریک انصاف کے وکیل نے مزید کہا کہ وزیر اعظم، ان کی اہلیہ اور ان کے بچوں نے میڈیا میں اپنے کسی بیان میں اس خط کا ذکر کبھی نہیں کیا چنانچہ اس خط پر انحصار نہ کیا جائے۔

بینچ میں شامل جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بادی النظر میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ خط کسی شخص کی یاداشت پر مبنی ہے تاہم عدالت کو اس کا تفصیلی جائزہ لینا ہوگا۔

نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ کیسے وزیر اعظم کے والد میاں محمد شریف اپنی جائیداد کا بڑا حصہ اپنے پوتوں حسن اور حسین نواز کے نام کرسکتے ہیں جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ بینچ قانون وراثت کا جائزہ نہیں لے رہا۔

نعیم بخاری نے عدالت میں وزیر اعظم اُن کی اہلیہ اور اُن کے بچوں کی طرف مختلف اخبارات اور میڈیا چینلز پر دیے انٹرویوز کی کاپیاں پیش کیں جس پر بینچ میں شامل جسٹس عظمت سعید نے نعیم بخاری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر عدالت ان اخباری تراشوں پر فیصلہ دینے لگے تو اُن کے موکل بھی اس زد میں آجائیں گے۔

پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ گذشتہ چار سال کے دوران وزیر اعظم نے اپنے بیٹے سے 74 کروڑ روپے وصول کیے لیکن اُن پر ٹیکس ادا نہیں کیا۔ اُنھوں نے کہا کہ لندن فلیٹس گذشتہ دو دہائیوں سے وزیر اعظم کے بچوں کی ملکیت ہے جس پر جسٹس عظمت سعید شیخ کا کہنا ہے کہ اس بارے میں ثبوت فراہم کرنا درخواست گزار کی ذمہ داری ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ مریم نواز وزیر اعظم کی زیر کفالت میں رہی ہیں اور چار سال قبل ہی اُنھیں زیر کفالت کے خانے سے الگ کیا گیا ہے جس پر عدالت کا کہنا تھا کہ پہلے اس بات کا تعین بھی ضروری ہے کہ زیر کفالت ہونے سے کیا مراد ہے۔ ان درخواستوں کی سماعت جمعے کے روز بھی جاری رہے گی۔

اسی بارے میں