'سکھ ورثہ پاکستان میں نظر انداز ہوا اور انڈیا میں برباد'

سکھ تصویر کے کاپی رائٹ Amardeep Singh
Image caption مانسہرہ گردوارہ جو اب میونسپل لائبریری ہے

سنگارپور میں رہنے والے انڈین نژاد مصنف اور فوٹوگرافر امردیپ سنگھ کہتے ہیں کہ انڈیا میں سکھ تاریخ نہیں پڑھائی جاتی کیونکہ اسے پاکستان کی تاریخ سمجھا جاتا ہے اور پاکستان میں سکھ تاریخ کو نظرانداز کیا جاتا ہے کیونکہ اسے غیراسلامی تاریخ سمجھا جاتا ہے۔

اسلام آباد میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے پاکستان میں سکھ ورثے کو کھو دیا اور انڈیا میں جدیدیت کے نام پر اسے خود برباد کر دیا۔‘

امردیپ سنگھ پاکستان میں سکھ ورثے پر لکھی گئی کتاب 'لوسٹ ہیریٹیج، دی سکھ لیگیسی ان پاکستان' کے مصنف ہیں اور اس بار پاکستان میں سکھوں کے مزید تاریخے ورثے کو ڈاکومنٹ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

امردیپ سنگھ کہتے ہیں کہ ’میرے والد کا پچپن مظفرباد میں گزرا اور 1947 کے بعد وہ اترپردیش میں جا کر بس گئے۔ تقسیم کے وقت مظفرآباد میں ایک بڑی سکھ آبادی موجود تھی جو دیگر لوگوں کی طرح انڈیا منتقل ہوگئی اور بہت سے لوگ مارے بھی گئے۔‘

’میرے والد گورکھ پور میں آباد ہوئے جہاں پنجابی زبان بولی جاتی تھی نہ اپنی ثقافت کے لوگ تھے اور اکثر وہ مظفرآباد کی ٹھنڈی وادیوں کو یاد کیا کرتے تھے۔‘

Image caption امردیپ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بے شمار تاریخی مقامات ہیں جنھیں محفوظ کرنے پر توجہ دینا چاہیے

امردیپ سنگھ کی پیدائش تو انڈیا میں ہوئی اور انجینیئرنگ کی تعلیم اور ملازمت کے سلسلے میں عرصہ دراز سے بیرون ملک مقیم ہیں لیکن وہ کہتے ہیں کہ انھیں اس خطے سے پیار رہا ہے اور تقریباً 25 سال سے وہ اس خطے کی تاریخ و ثقافت کا مطالعہ کر رہے ہیں۔

’اب مجھے احساس ہوتا ہے کہ دراصل یہ ایک سفر کی تیاری تھی جس کا مجھے علم نہیں تھا۔‘

25 سال کی ملازمت کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ اب مجھے پاکستان جا کر اپنے والد اور والدہ کی جائے پیدائش دیکھنی چاہیے کیونکہ وہ خود تو رہے نہیں لیکن ان کی باتیں یاد تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ افسوس کی بات ہے کہ اگر آپ انڈیا یا پاکستان میں پیدا ہوئے ہوں لیکن آپ کی شہریت کسی دوسرے ملک کی ہو تب بھی حکام کی جانب سے آپ کے ساتھ انڈین یا پاکستانی کے طور پر برتاؤ کیا جاتا ہے۔

’یہ میری خوش قسمتی ہے کہ سنہ 2014 میں اور اس بار بھی مجھے پورے پاکستان کا ویزا دیا گیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میں پاکستان میں اپنے والدین کی جائے پیدائش، ننکانہ صاحب اور پنجہ صاحب کے علاوہ بھی بہت کچھ دیکھنا چاہتا ہوں۔‘

وہ کہتے ہیں: 'کسی بھی معاشرے کا ورثہ مذاہب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ فنون لطیفہ، ثقافت، مذہبی ہم آہنگی سب اسی کا حصہ ہوتے ہیں۔ یہی میرا سوال تھا اور اسی کے جواب کی تلاش میں میں پاکستان آیا۔'

امردیپ کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان میں جہاں بھی گئے انھیں اتنا پیار ملا کہ وہ بیان نہیں کرسکتے۔ 'قدم بڑھتے گئے اور کڑیوں سے کڑیاں ملتی گئیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Amardeep Singh
Image caption چھٹی پاٹھ شاہی گردوارہ، وزیرآباد

ان کا کہنا تھا وہ پاکستان میں 36 سے زائد مقامات کا سفر کر چکے ہیں جہاں انھوں نے سکھ ورثے کو ڈاکومنٹ کیا اور اس بار وہ مزید تاریخی مقامات کھوجنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

امردیپ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بے شمار تاریخی مقامات ہیں جنھیں محفوظ کرنے پر توجہ دینا چاہیے لیکن ضلع منڈی بہاؤالدین میں واقع مانگٹ کا شکستہ حال گردوارہ شاندار فنِ تعمیر کا شکار ہے اور انھوں نے پاکستانی حکام کو بھی اس کی جانب توجہ دلائی ہے کہ اس کو محفوظ کیا جائے۔

مانگٹ کے گردوارے کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ تاریخی ورثے کو محفوظ کرکے سیاحتی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

متعلقہ عنوانات