’عشق قاتل سے بھی، مقتول سے ہمدردی بھی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لاہور میں سلمان تاثیر کی برسی کے موقع پر جمع ہونے والے افراد

پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کی برسی کے موقع مذہبی جماعتوں کے احتجاج کے حوالے سے سوشل میڈیا پر تبصروں کا سلسلہ جاری ہے۔ سوشل میڈیا پر سلمان تاثیر کےحاحبزادے شان تاثیر بھی زیر بحث ہیں جن کے خلاف توہینِ مذہب کے قانون کے تحت تفتیش کی جا رہی ہے۔

افراسیاب خٹک نے لکھا کہ 'سلمان تاثیر کے لیے زبردست خراجِ تحسین اُس فاشسٹ ذہنیت کو شکست دینا ہے جو اپنا فرقہ وارانہ اور نسلی ایجنڈا مسلط کرنا چاہتی ہے۔ ریاست کی دستبرداری اس میں بالکل مدد نہیں کر رہی۔'

نسیم زہرہ نے لکھا:'پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ اسی کی دہائی میں اختیار کی گئی پالیسیوں کے نتیجے میں بہادر سلمان تاثیر اپنی جان سےگئے اور قادری ایک قاتل بنا۔'

تانیہ منیر نے لکھا کہ 'سلمان تاثیر اپنی جان سے اس لیےگئے کہ بے وقوف پاکستانی عوام نے یہ سمجھا کہ ایک قانون پر تنقید سے مذہب کی توہین ہوئی ہے۔'

تاہم اس ساری صورتحال پر تبصرے اور ٹویٹس دیکھ کر ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ معاشرے میں منفی سوچ اور نفرت کس قدر سرایت کر چکی ہے جس کا اظہار پکھی واس کے نام سے ٹویٹ کرنے والے ایک صارف نے کیا کہ 'سلمان تاثیر کا مجھ پر احسان ہے۔ میرے دوستوں میں اور حلقۂ احباب میں انسان کے روپ میں چھپے درندوں کی پہچان دی۔'

سید علی نے لکھا 'عشق قاتل سے مقتول سے ہمدردی بھی۔ اگر آپ اس معاشرے میں تقسیم کا جائزہ لیں تو آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے۔'

حیدر خان نے لکھا کہ 'سوائے جناح اور سلمان تاثیر کے کسی بھی سیاستدان نے شدت پسندی کے خلاف کھُل کر بات نہیں کی اور یہ لوگ اپنے آپ کو رہنما کہتے ہیں۔'

چونکہ آج پاکستان میں صفِ اول کے ٹرینڈز میں 'شہید سلمان تاثیر' کا ٹرینڈ بھی ہے جس پر کافی تعداد میں ٹویٹس ان کے لیے لفظ شہید کے استعمال پر کی جا رہی ہیں جن کے لکھنے والے اس لفظ کے استعمال پر اعتراض کر رہے ہیں۔