جنرل باجوہ کی ’سرجیکل سٹرائیکس‘ کے دعوے کی تردید

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اوڑی سیکٹر میں فوج کے کیمپ پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد انڈیا میں جوابی فوجی کاروائی کے لیے دباؤ بڑھ گیا تھا

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے انڈیان آرمی کے سربراہ جنرل بپن راوت کے ان دعوؤں کو مسترد کیا ہے کہ انڈین فوج نے پاکستان کے خلاف ’سرجیکل سٹرائیکس‘ کی تھیں۔

یہ بات پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے جمعرات کو ایک ٹویٹ میں کہی۔

آئی ایس پی آر کے ترجمان کا اپنی ٹویٹ میں کہنا تھا کہ جنرل باجوہ نے انڈیا کے آرمی چیف جنرل بپن کے حالیہ انٹرویو میں کیے گئے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ ’نام نہاد سرجیکل سٹرائیکس‘ کا مقصد پاکستان کو پیغام دینا تھا۔

میجر جنرل آصف غفور کا مزید کہنا تھا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ ’پاکستان کی مسلح افواج انڈیا کی جانب سے کسی قسم کی جارحیت کا جواب دینے کے لیے ہر طرح تیار ہیں۔‘

'انڈیا میں جوابی فوجی کارروائی کے لیے بڑھتا دباؤ'

'اوڑی حملے کا کوئی ثبوت انڈیا کے پاس موجود نہیں'

'اوڑی حملہ آوروں کی شناخت کے ثبوت پاکستان کے حوالے'

یاد رہے کہ اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں انڈین آرمی چیف جنرل بپن راوت نے کہا تھا کہ ’فوج کا کام سرحد پر امن اور سکون قائم رکھنا ہے، لیکن انڈین فوج کبھی بھی اپنے زورِ بازو کا مظاہرہ کرنے سے گریز نہیں کرے گی۔‘

آئی ایس پی آر کے ترجمان کے مطابق پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے انڈین فوج کے سربراہ کے ان دعوؤں کی تردید جمعرات کو بلوچستان کے شہر خضدار میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کی۔

رواں ہفتے کے دوران پاکستانی فوج کے نئے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے لائن آف کنٹرول پر اگلے مورچوں کا دورہ بھی کیا تھا، فوج کے شعبہ تعلقات عامہ سے جاری کیے جانے والے ایک بیان کے مطابق اس موقعے پر آرمی چیف کو انڈین آرمی کی جانب سے ایل او سی کی خلاف ورزی اور پاکستانی فوج کی جوابی کارروائیوں سے متعلق بریفنگ بھی دی گئی تھی۔

اس موقعے پر جنرل باجوہ کا مزید کہنا تھا کہ انڈیا کا لائن آف کنٹرول پر جارحانہ رویہ محض انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں اس کی اپنی فوج کہ ہاتھوں ڈھائے جانے والے مظالم سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان اور انڈیا کے تعلقات میں 18 ستمبر کو ہونے والے اوڑی حملے کے بعد سے کشیدگی میں بہت اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں بریگیڈ ہیڈ کوارٹر پر حملے میں 18 فوجیوں کی ہلاکت کا الزام نئی دہلی کی جانب سے اسلام آباد پر عائد کیا گیا تھا، جسے اسلام آباد نے سختی سے مسترد کردیا تھا۔

اوڑی واقعے کے بعد انڈین وزیراعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ جو بھی اس حملے کے ذمےدار ہیں وہ بچ نہیں سکیں گے۔ کئی دیگر وزیروں کی طرف سے بھی سخت بیانات دیے گئے تھے۔

19 ستمبر کو وزیراعظم کے دفتر کے ایک اہم وزیر جیتیندر سنگھ نے کہا تھا کہ اس حملے کے جواب میں کوئی کاروائی نہ کرنا بزدلی ہو گی۔

اس واقعے کے بعد دونوں ممالک کی کشیدگی کے باعث لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر فائرنگ کا تبادلہ معمول بن گیا تھا جس میں کئی شہریوں سمیت کئی فوجی بھی ہلاک ہوئے۔

.

اسی بارے میں