بلاول اور آصف زرداری ایک ہی انتخابی نشان کی کوشش میں

آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری ں تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرین کے سربراہ آصف علی زرداری اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین دونوں ہی نے تیر کے نشان پر ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو درخواست دے دی ہے۔

یہ بات جمعرات کو کراچی میں بلاول ہاؤس کی جانب سے جاری کیے گئے ایک اعلامیے میں کی گئی ۔

’زرداری اور بلاول کی سیاست کا ملاپ‘

زرداری کا پارلیمان میں جانے اور بلاول کا لانگ مارچ کرنے کا اعلان

’ڈرائیونگ سیٹ پر بلاول بھٹو ہی ہوں گے اور پچھلی نشست پر زرداری ہوں گے‘

اس بیان سے قبل میڈیا میں یہ خبریں آئیں تھیں کہ باپ اور بیٹا دونوں مختلف انتخابی نشانات پر الیکشن میں حصہ لیں گے کیونکہ دونوں جماعتیں جن کے وہ سربراہ ہیں الیکشن کمیشن کے پاس الگ الگ رجسٹرڈ ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت بلاول بھٹو کو بلا مقابلہ کامیاب کرانے کی تگ و دو میں ہے۔

جمعیت علمائے اسلام کے سابق صوبائی سیکریٹری خالد محمود سومرو کے بیٹے راشد محمود سومرو اور قوم پرست رہنما مرحوم جی ایم سید کے پوتے جلال محمود شاہ کی جماعت سندھ یونائٹیڈ پارٹی نے ان کے مقابلے میں امیدوار لانے کا اعلان کر رکھا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ وہ قومی اسمبلی کے حلقے این اے 204 لاڑکانہ سے ضمنی انتخابات میں حصہ لے کر باقاعدہ پارلیمانی سیاست کا آغاز کریں گے۔

حلقہ این اے 204 بھٹو خاندان کا آبائی حلقہ ہے جہاں سے پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو بعد میں ان کی بیگم نصرت بھٹو انتخابات میں شریک ہوتی رہی ہیں۔ سنہ 2002 میں انور بھٹو، 2008 میں شاہد حسین بھٹو اور 2008 میں سابق صوبائی وزیر قانون ایاز سومرو یہاں سے منتخب ہو چکے ہیں۔

لاڑکانہ میں جمعرات کو سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی سالگرہ کے موقعے پر کارکنوں سے مختصر خطاب میں بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ کارکنوں کی مدد سے بی بی کا بیٹا پارلیمان میں ہوگا اور انھوں نے بیگم نصرت بھٹو کے حلقے سے پارلیمانی سیاست کا آغاز کرنا ہے۔

'آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کا کامبینیشن پارلیمان میں آیا تو مسلم لیگ نواز کی نیندیں اڑجائیں گی، یہ ہماری تحریک کا آغاز ہوگا اس سے عوام متحرک ہوں گے۔ اس کے بعد ہم پارلیمان اور سڑکوں پر بھی ہوں گے۔'

بلاول بھٹو نے ایک بار پھر اپنا عزم دہرایا کہ وہ اپنے چار مطالبات حکومت سے منوایں گے اور جمہوری احتساب لیں گے۔

اسی بارے میں