وزارتِ عظمیٰ سے نااہلی کے بعد سفرِ لاہور

کیا ریلی نواز شریف کا سیاسی سٹنٹ ہے؟

پاکستان میں آج کل ججوں کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ٹی وی اینکر سے لے کر سیاستدانوں تک سبھی کالے کوٹ پہنے فیصلے صادر کرتے نظر آتے ہیں۔

’گانے بند کرو میاں صاحب تقریر کر رہے ہیں‘

سابق وزیراعظم کا جلوس دارالحکومت سے راولپنڈی میں جتنی سست روی سے داخل ہوا تھا ایک دن بعد اسی شہر سے اتنی ہی تیزی سے جی ٹی روڑ پر آگے بڑھا کہ گویا اسے پر لگ گئے ہوں۔

نواز شریف کے زوال کے اسباب

اس ملک کے مظلوموں سے منہ موڑ کر بڑی دکان پر سودا لینے جائیں گے تو آپ کی جیب ہمیشہ خالی ہی نکلے گی۔

نواز شریف کس نکتے پر نااہل ہوئے؟

پاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف چار الزامات میں ریفرنس دائر کرنے کا حکم تو دیا ہے لیکن انہیں نااہل قرار دیے جانے کی بنیاد وہ رقم ہے جو انھوں نے کبھی وصول ہی نہیں کی۔

میاں صاحب! اس بار منی ٹریل تیار رکھیے گا

میاں صاحب قوم نے آپ کی منی ٹریل پوچھے جانے کو جمہوریت کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے آپ کا بہت ساتھ دیا ہے، تو اگر آپ پر رحمت کا دروازہ کھلے تو ملک چھوڑ کر چلے مت جائیے گا بلکہ حالات کا سامنا کیجیے گا۔

نواز شریف اور عدالتیں

ماضی میں بھی پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کو مختلف نوعیت کی عدالتی کاروائیوں کا سامنا کرنا پڑا اور ان میں سے دو مقدمات میں ان کو سزا بھی ہوئی تھی۔

بہت بری بات!

پاناما کیس سے ہمیں اور کچھ فائدہ ہوا ہو یا نہ ہوا ہو اتنا ضرور معلوم ہو گیا کہ جب کوئی جائیداد خریدی جاتی ہے تو اس کی کوئی ’منی ٹریل‘ بھی ہوتی ہے۔

’کورٹ رپورٹنگ کے پیچھے پوری سائنس ہے‘

کیا کبھی آپ نے غور کیا کہ کمرہ عدالت میں گھنٹوں جاری رہنے والی سماعت کن مراحل سے گزر کر اخبارات یا ٹیلی وژن کی زینت بنتی ہے اور پاناما جیسے حساس مقدمے کی رپورٹنگ کس قدر مشکل اور تھکا دینے والا کام ہے؟

صادق اور امین کو تو بخش دیں

کسی آئینی شق میں کسی عام انسان سے راست گوئی، ایمانداری، بلند کرداری اور خلیق ہونے کی توقع تو ہو سکتی ہے مگر صادق اور امین ہونے کی توقع کیسے باندھی جا سکتی ہے؟