پاناما لیکس، نیا سال اور پرانی بحث

پارک لین کے فلیٹس کب خریدے گئے، کب بِکے

پاناما لیکس میں سامنے آنے والی دو آف شور کمپنیوں، نیلسن اور نیسکول نے لندن کے مہنگے ترین علاقے میے فیئر میں پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کی فیملی کے زیرِ تصرف فلیٹس انیس سو نوے کی دہائی میں خریدے تھے اور اب تک ان کی ملکیت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، بی بی سی کی خصوصی رپورٹ۔

’قطری شہزادے کا ایک اور خط‘

پاکستان کی سپریم کورٹ میں پاناما لیکس کیس کی سماعت کے دوران وزیراعظم کے صاحبزادے حسین نواز کے وکیل کی طرف سے جمع کروائی گئی دستاویزات میں قطری شہزادے حماد بن جاسم بن جابر الثانی کا خط پیش کیا تو بینچ کے سربراہ نے کہا کہ ’قطری شہزادے کا ایک اور خط بھی آگیا ہے۔‘

’انصاف کے ترازو میں سب کو تولیں‘

جماعت اسلامی کے وکیل نے وزیراعظم کی طرف سے پارلیمان میں کی جانے والی تقریر کے مختلف حوالے دیے جس پر بینچ میں موجود جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ وہ اس تقریر کے حوالے پہلے بھی دے چکے ہیں کوئی اور دلائل دیں۔

’آج بھی سماعت کے دوران سونا پڑے گا‘

وزیراعظم میاں نواز شریف کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل کے دوران تحریک انصاف کے کارکن آپس میں سرگوشیاں کر رہے تھے:’بور دلائل دوبارہ شروع ہو گئے ہیں اور لگتا ہے کہ آج بھی سماعت کے دوران سونا پڑے گا‘۔

کمرہ عدالت میں خراٹے اور سرگوشیاں

پیرکو سپریم کورٹ میں پاناما لیکس کی دستاویزات سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے موققے پر حاضرین کی توجہ عدالتی کارروائی سے زیادہ دیگر مسائل میں نظر آئی۔

’مائی لارڈز میں تو سٹپنی ہوں، اصل وکیل تو حامد خان ہیں‘

پاناما لیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت منگل کے روز بھی جاری رہی جس کے دوران وکیلوں اور ججوں کے درمیان دلچسپ جملوں کا تبادلہ ہوا۔

پاناما لیکس کے بعد کیا ہوا؟

پاناما پیپرز لیکس کو افشا شدہ دستاویزات کی تاریخ میں سنگِ میل قرار دیا جا سکتا ہے، جس کی وجہ سے دنیا کے کئی حصوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔

پاناما انکوائری بل میں ہے کیا؟

پاکستان کی پارلیمان کے ایوان بالا میں جمعرات کی شب منظور کیے جانے والے پاناما پیپرز انکوائری بل سنہ 2016 میں تجویز کیا گیا ہے کہ جو شخصیات رضاکارانہ طور پر اپنے آپ کو اور اپنے خاندان والوں کو احتساب کے لیے پیش کرنے کو تیار ہوں ان کی تحقیقات تین ماہ میں مکمل کی جائیں