پاناما لیکس کے مقدمے کا فیصلہ محفوظ

’میرا موازنہ نواز شریف سے ہرگز نہ کریں‘

عمران خان کو عدالت عظمی سے زیادہ امید اور خواہش تو نواز شریف کی نااہلی کے فیصلے کی ہے لیکن یہ امکان بھی ان کے ذہن میں ہے کہ عدالت شاید مناسب دستاویزات کی عدم دستیابی کو وجہ بنا کر کسی بھی فیصلے پر نہ پہنچ سکے۔

پاناما کیس میں کب کیا ہوا؟

سپریم کورٹ میں پاناما لیکس کے حوالے سے درخواستوں کی سماعت کے دوران کب کیا ہوا؟

’ہمارے لیے نیب وفات پا گیا‘

پاناما لیکس کی سماعت کے دوران جسٹس عظمت سعید نے نعیم بخاری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ عدالت صرف ان کے دلائل کو درست تسلیم کرلے اور دوسری پارٹی کے دلائل کو یکسر مسترد کردے تو ایسا نہیں ہوگا اور عدالت انصاف پر مبنی فیصلہ دے گی۔

’شکر ہے بچت ہو گئی ورنہ میں تو بہت ڈرا ہوا تھا‘

پاناما لیکس کے مقدمے میں نیب کے چیئرمین سے عدالت کے کڑے سوالات اور ایف بی آر کی جانب سے معاونت نہ کرنے پر عدالت کا ’اظہار تشکر‘۔

’پہلے ریمارک پر مسکراہٹ، دوسرے پر غائب‘

وزیراعظم کے صاحبزادوں کے وکیل کی جانب سے آٹھ سو صفحات پر مشتمل ایک اور درخواست جمع کرانے کے عندیے پر عدالت کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایسی درخواستیں عدالتی کارروائی کو مزید طوالت دینے کے لیے لائی جا رہی ہیں۔

پارک لین کے فلیٹس کب خریدے گئے، کب بِکے

پاناما لیکس میں سامنے آنے والی دو آف شور کمپنیوں، نیلسن اور نیسکول نے لندن کے مہنگے ترین علاقے میے فیئر میں پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کی فیملی کے زیرِ تصرف فلیٹس انیس سو نوے کی دہائی میں خریدے تھے اور اب تک ان کی ملکیت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، بی بی سی کی خصوصی رپورٹ۔

’قطری شہزادے کا ایک اور خط‘

پاکستان کی سپریم کورٹ میں پاناما لیکس کیس کی سماعت کے دوران وزیراعظم کے صاحبزادے حسین نواز کے وکیل کی طرف سے جمع کروائی گئی دستاویزات میں قطری شہزادے حماد بن جاسم بن جابر الثانی کا خط پیش کیا تو بینچ کے سربراہ نے کہا کہ ’قطری شہزادے کا ایک اور خط بھی آگیا ہے۔‘

’انصاف کے ترازو میں سب کو تولیں‘

جماعت اسلامی کے وکیل نے وزیراعظم کی طرف سے پارلیمان میں کی جانے والی تقریر کے مختلف حوالے دیے جس پر بینچ میں موجود جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ وہ اس تقریر کے حوالے پہلے بھی دے چکے ہیں کوئی اور دلائل دیں۔

’آج بھی سماعت کے دوران سونا پڑے گا‘

وزیراعظم میاں نواز شریف کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل کے دوران تحریک انصاف کے کارکن آپس میں سرگوشیاں کر رہے تھے:’بور دلائل دوبارہ شروع ہو گئے ہیں اور لگتا ہے کہ آج بھی سماعت کے دوران سونا پڑے گا‘۔