طیبہ کی ماں ہونے کی دو دعویدار عدالت پہنچ گئیں

جج کی بیوی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایڈیشنل سیشن جج کی اہلیہ اپنے بھائی کے ہمراہ عدالت میں آ رہی ہیں

سپریم کورٹ میں جمعے کو اسلام آباد میں ایک کمسن گھریلو ملازم پر مبینہ تشدد کے واقعے کے از خود نوٹس کی سماعت کے دوران عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اگر والدین اپنے بچوں کو تحفظ نہیں دے سکتے تو عدالت ان کی محافظ بنے گی۔

سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ کے مطابق بنیادی انسانی حقوق کے تحت بچوں پر ہونے والے تشدد کو ان کے والدین بھی معاف نہیں کر سکتے۔

دوسری جانب اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج کی اہلیہ کے ہاتھوں تشدد کا شکار ہونے والی دس سالہ کمسن طیبہ کی ماں ہونے کی دعویدار دو خواتین سپریم کورٹ میں پہنچ گئیں۔ یہ دونوں خواتین فیصل آباد کی رہائشی ہیں ان میں سے ایک کا نام فرزانہ اور دوسری کا نام کوثر ہے۔

عدالت نے ڈی آئی جی اسلام آباد کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دیا ہے جو کہ تین روز میں اپنی جامع رپورٹ پیش کرے گی۔ پولیس نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں تفتیش کے لیے کم از کم دو ہفتوں کی مہلت دی جاۓ لیکن عدالت نے یہ درخواست مسترد کر دی۔

عدالت نے متاثرہ بچی اور اس کے والدین کو عدالت میں پیش نہ کیے جانے پر برہمی کا اظہار کیا اور ریمارکس دیے کہ بچی، اس کے والدین اور تمام تفتیشی ریکارڈ عدالت میں 11 جنوری کو اگلی سماعت میں پیش کیا جائے۔

عدالت میں آج ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راجہ خرم علی خان کی اہلیہ کو بھی پیش کیا گیا۔

عدالت نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ اس معاملے کو بھی دیکھے گی کہ صلح نامہ یا راضی نامہ کس بنیاد پر ہوا کیونکہ تشدد کے ایسے واقعات میں صلح نامہ یا راضی نامہ اس لیے قابل قبول نہیں ہوتا کیونکہ ان واقعات میں دباؤ کا عنصر ہوتا ہے۔

اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج کی اہلیہ کے ہاتھوں تشدد کا شکار ہونے والی دس سالہ کمسن طیبہ کی ماں ہونے کی دعویدار دو خواتین سپریم کورٹ میں پہنچ گئیں۔ یہ دونوں خواتین فیصل آباد کی رہائشی ہیں ان میں سے ایک کا نام فرزانہ اور دوسری کا نام کوثر ہے۔

اُن خواتین نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ان کی بیٹیاں گذشتہ دو سال قبل اغوا کی گئی تھیں اور اس واقعے کے بعد ٹی وی پر جس لڑکی کی فوٹیج چلائی گئی ہے وہ اُن کی بیٹی دکھائی دیتی ہے۔ اس پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت محسوس ہوئی تو لڑکی کا ڈی این اے ٹیسٹ کروایا جائے گا۔

عدالت نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ اس مقدمے کی تفتیش کو مکمل کرنے کے لیے ماڈرن طریقے استعمال کیے جائیں۔

دوسری جانب وفاقی دارالحکومت کی پولیس کے ترجمان کے مطابق اسلام آباد پولیس کی ایک خصوصی ٹیم طیبہ کو لینے کے لیے فیصل آباد اور جڑانوالہ پہنچی تاہم ابھی تک متاثرہ لڑکی اور اُن کے والدین تک پہنچنے میں کامیابی ہو سکی۔

مقدمے کی اگلی سماعت 11 جنوری کو ہو گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں