حکومت نے فوجی عدالتوں میں توسیع کے لیے مشاورت شروع کر دی

وزیراعظم نواز شریف، اجلاس تصویر کے کاپی رائٹ PM HOUSE
Image caption اجلاس کو بتایا گیا کہ فوجی عدالتوں کو یہ توسیع ایک محدود مدت کے لیے دی جائے گی جس کا تعین سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد طے کیا جائے گا

پاکستان کی وفاقی حکومت نے گذشتہ ہفتے اپنی دو سالہ آئینی مدت مکمل کر کے ختم ہو جانے والی فوجی عدالتوں کی بحالی اور انہیں توسیع دینے کے لیے سیاسی مشاورت شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پیر کو پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف کی سربراہی میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں بتایا گیا کہ فوجی عدالتوں کو توسیع دینے کے لیے آئینی ترمیم پر مشاورت شروع کر دی ہے۔

٭فوجی عدالتیں کتنی مؤثر؟

٭فوجی عدالتوں کی مدت ختم ہونے پر نئی قانون سازی پر غور

بعد ازاں ایوانِ وزیرِ اعظم سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فوجی عدالتوں میں توسیع کا مقصد آپریشنِ ضربِ عضب میں حاصل کی گئی کامیابیوں کو دیرپا بنانا مقصد ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ فوجی عدالتوں کو یہ توسیع ایک محدود مدت کے لیے دی جائے گی جس کا تعین سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد طے کیا جائے گا۔

اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ فوجی عدالتوں نے دہشت گردی کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا۔

اجلاس کے شرکا نے پاکستان کی دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف صفر عدم برداشت کی پالیسی کا اعادہ کیا۔ اجلاس میں عہد کیا گیا کہ قومی پالیسی کے حصول کے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

بیان کے مطابق اجلاس میں وزیرِ خزانہ اسحٰق ڈار، وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان، چیف آف آرمی سٹاف قمر جاوید باجوہ، ڈی جی آئی سی آئی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار، وزیرِ اعظم کے مشیر برائے خارجہ پالیسی طارق فاطمی، قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل ناصر خان جنجوعہ اور دوسرے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے آئینی ترمیم کے تحت بننے والی فوجی عدالتوں نے اپنی مدت مکمل ہونے کے بعد کام کرنا بند کر دیا تھا۔

قانون و انصاف کے بارے میں وزیراعظم کے معاون خصوصی محمد ظفراللہ خان نے بی بی سی کو چند روز قبل دیے گئے انٹرویو میں بتایا تھا کہ حکومت فوجی عدالتوں کو توسیع اور نئے قانون سمیت مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے۔

انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی تھی کہ اس بارے میں سیاسی جماعتوں سے مشاورت کا عمل جاری ہے اور جلد ہی اس بارے میں حتمی فیصلہ کر لیا جایے گا۔

دسمبر 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک سکول پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قومی لائحہ عمل تشکیل دیا گیا تھا، جس کے بعد پاکستان کی پارلیمان نے جنوری 2015 کو آئین میں 21ویں ترمیم اور پاکستان آرمی ایکٹ میں ترمیم کی منظوری دی تھی۔

دو سال کی مدت میں فوجی عدالتوں نے 274 مقدمات کی سماعت مکمل کر کے مجرموں کو سزائیں دیں۔

اس ترمیم کے ذریعے فوجی عدالتوں کو دو سال کے لیے خصوصی اختیارات دیے گئے تھے جس کا مقصد ان سول افراد کا ٹرائل کرنا تھا جن پر دہشت گردی کے الزامات تھے۔

اسی بارے میں