آئی ڈی پیز کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا فیصلہ

پاکستان، قبائلی علاقہ جات، متاثرین تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بیان میں کہا گیا ہے کہ فاٹا سے نقل مکانی کرنے والے تین لاکھ 36 ہزار 42 خاندانوں میں سے دو لاکھ 76 ہزار 494 خاندان اپنے آبائی علاقوں کو واپس جا چکے ہیں

پاکستان میں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں سے بےگھر ہونے والے متاثرین کی اپنے گھروں کو واپسی سے انکار کے بعد ان کی آئی ڈی پی کی حیثیت سے رجسٹریشن منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

یہ فیصلہ جمعے کو گورنر خیبر پختونخوا اقبال ظفر جھگڑا کی سربراہی میں آئی ڈی پیز کی واپسی اور بحالی کے سلسلے میں ہونے والے ایک اجلاس میں کیا گیا۔

متاثرین: گھر واپسی کے بجائے نئی ڈیڈ لائن

فوجی آپریشن کے باعث بے گھر ہونے والے 70 ہزار خاندان واپسی کے منتظر

گورنر ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جو آئی ڈی پی خاندان جان بوجھ کر اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے سے گریز کررہے ہیں ان کی بحیثیت آئی ڈی پی رجسٹریشن منسوخ کرنے کے لیے چار ہفتوں کے نوٹس پر اقدامات شروع کردیے جائیں گے اور اس سلسلے میں عوام کو ذرائع ابلاغ کے ذریعے سے مروجہ طریقۂ کار کے مطابق آگاہ کیا جائےگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شمالی وزیرستان کے آئی ڈی پیز کو حکومت کی جانب سے ہر ماہ 12 ہزار روپے نقد، راشن اور کھانے پینے کی دیگر اشیا فراہم کی جاتی ہیں

بیان میں کہا گیا ہے کہ فاٹا سے نقل مکانی کرنے والے تین لاکھ 36 ہزار 42 خاندانوں میں سے دو لاکھ 76 ہزار 494 خاندان اپنے آبائی علاقوں کو واپس جا چکے ہیں جب کہ باقی رہ جانے والے 59 ہزار خاندانوں میں وہ افراد بھی شامل ہیں جو سرحد پار افغانستان میں مقیم ہیں۔

بعض سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اپنے علاقوں میں جانے والے بیشتر متاثرین چند دن کے قیام کے بعد واپس پشاور اور ان علاقوں میں پہنچ رہے ہیں جہاں وہ پہلے مقیم تھے۔ واپس جانے والوں میں اکثریتی آئی ڈی پیز کا تعلق شمالی وزیرستان، اورکزئی، کرم اور خیبر ایجنسیوں سے بتایا گیا ہے۔

شمالی وزیرستان کے آئی ڈی پیز کو حکومت کی جانب سے ہر ماہ 12 ہزار روپے نقد، راشن اور کھانے پینے کی دیگر اشیا فراہم کی جاتی ہیں تاہم آئی ڈی پیز کی حیثیت سے ان کی رجسٹریشن منسوخ ہونے کی صورت میں انھیں یہ مراعات حاصل نہیں ہوں گی۔

ادھر شمالی وزیرستان سے حال ہی میں واپس پشاور آنے والے بعض قبائلی خاندانوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں صرف امن و امان کو بحال کیا گیا ہے اس کے علاوہ وہاں سب کچھ بدستور تباہ و برباد حالت میں ہے۔

Image caption ہمارے گاؤں کے 50 فیصد افراد واپس پشاور آ چکے ہیں: ملک جلال الدین

شمالی وزیرستان کے ایک رہائشی ملک جلال الدین نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ دو مہینے پہلے وہ خاندان سمیت شمالی وزیرستان گئے تھے لیکن چند دن قیام کے بعد واپس پشاور آ گئے کیونکہ وہاں زندگی کے کوئی آثار نظر نہیں آتے ہیں۔

'وہاں سکول نہیں، ہسپتال اور بازاروں کا نام و نشان تک نہیں۔ ایسے میں وہاں کیسے زندگی گزاری جاسکتی ہے۔؟'

انھوں نے کہا کہ ان کے تمام بچے پشاور میں پڑھتے ہیں اور جب وزیرستان میں زندگی کے آثار ہی نہیں تو وہ کیونکہ کر اپنے بچوں کے مستقبل کو تباہ کریں۔

ملک جلال الدین کے مطابق 'ہمارے گاؤں کے 50 فیصد افراد واپس پشاور آ چکے ہیں۔ صرف امن و امان بحال کرنا زندگی کا نام نہیں اور نہ ہی اس طرح زندگی گذاری جا سکتی ہے۔'

Image caption حکومت کی جانب سے وعدے تو بہت کیے گئے تھے لیکن وہ تمام وعدے جھوٹ تھے: ملک عبدالقیوم

شمالی وزیرستان کے ایک اور باشندے ملک عبد القیوم نے بتایا کہ انھیں اپنا علاقہ عزیز ہے لیکن وہاں بنیادی ضروریات کا شدید فقدان پایا جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے وعدے تو بہت کیے گئے تھے لیکن وہاں کے حالات دیکھ معلوم ہوا کہ وہ تمام وعدے جھوٹ تھے۔

ملک عبد القیوم کے مطابق ' وہاں ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں تک جانے کے لیے گاڑی تک دستیاب نہیں، بجلی کی سہولت میسر نہیں اور سب سے اہم کاروبار ہے لیکن وہاں کے تمام بازار بدستور تباہ شدہ حالت میں موجود ہیں ایسے میں وہاں کوئی پاگل ہی جائے گا۔'

قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشنز اور شدت پسندی کی وجہ سے بے گھر ہونے والے اکثریتی آبادی اپنے اپنے علاقوں کو واپس جا چکی ہے تاہم ان علاقوں کے باشندوں کی ایک بڑی تعداد اب بھی پناہ گزین کیمپوں یا کرائے کے مکانات میں پناہ لینے پر مجبور ہے۔

وفاقی حکومت نے دعوی کیا تھا کہ سال 2016 کے آخر تک تمام آئی ڈی پیز کو ان کے علاقوں میں واپس بھیج دیا جائے گا لیکن یہاں رہ جانے والے افراد متاثرہ علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی عدم بحالی کے باعث اپنے علاقوں کو واپس جانے سے گریزاں ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں