فوجی عدالتوں کی مدت ختم ہونے کے بعد نئی قانون سازی پر غور

ظفر اللہ
Image caption ’ہم الیکشن لڑ کر آئے ہیں ہم تو فوجی عدالتوں کے متحمل نہیں ہو سکتے'

پاکستان کی حکمران جماعت مسلم لیگ ن فوجی عدالتوں کی مدت ختم ہونے کے بعد دہشتگردی کے مقدمات کی سماعت کے لیے نیا قانون متعارف کرانے کی کوشش کر رہی ہے جس کے تحت ججوں اور گواہواں کی شناخت مخفی رکھی جائے گی۔

وزیراعظم کے مشیر برائے قانونی امور بیرسٹر ظفر اللہ نے بی بی سی کےساتھ ایک انٹرویو میں بتایا کہ نئی قانون سازی کے لیے مسودہ تیار کیا جا رہا ہے

مشیر برائے قانونی امور نے کہا کہ اگر سیاسی جماعتیں فوجی عدالتوں میں توسیع کے لیے ساتھ نہیں دیتیں تو اگلے چند دنوں میں مسودہ پیش کر دیا جائے گا۔

بیرسٹر ظفر اللہ نے کہا:'اگر فوجی عدالتیں قائم نہیں رہتیں جو کچھ مشکل ہوتا لگ رہا ہے تو ہم دوسرے راستے کو اختیار کریں گے جس میں ہماری عام عدالتیں ہی کام کریں گیں مگرگواہوں، پراسیکیوٹر، پولیس اور ججز کو زیادہ تحفظ فراہم کیا جائے گا تاکہ انتہاپسندی سے متعلق مقدمات کی سماعت نہ رکے۔'

انھوں نے بتایا کہ ’فوجی عدالتیں ختم ہونے کے بعد وہاں جاری تمام مقدمات سول عدالتوں میں منتقل ہو جائیں گئے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’نئی قانون سازی کے لیے ہماری برطانوی حکومت کے ماہرین سے بات چیت ہوئی ہے کہ جج کی شناخت کیسے چھپانی ہے۔ وہ سماعت کرے مگر پتا نہ ہو کہ جج کون ہے۔ گواہوں کو کیسے چھپانا ہے، ان کی حفاظت کیسے کرنی ہے؟ ویڈیو کے ذریعے سماعت ہو سکتی ہے یا نہیں؟ کیا کوئی ڈھال نما پردہ لگایا جا سکتا ہے گواہ اور ملزم کے درمیان؟‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ تمام جدید تکنیکیں زیرِغور ہیں۔ یقیناً پاکستان میں مقدمات کی منصفانہ سماعت کا نظام موجود ہے تو ہم ایسی چیزیں تو نہیں کر سکتے جو بالکل آئین کے خلاف ہوں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 'فوجی عدالتیں ختم ہونے کے بعد وہاں جاری تمام مقدمات سول عدالتوں میں منتقل ہو جائیں گئے'

نئی قانون سازی سے متعلق انھوں نے بتایا کہ ’پروٹیکشن آف پاکستان آرڈیننس اب ختم ہو چکا ہے مگر اس کی گواہان کے بارے میں کچھ غیر متنازع دفعات اچھی تھیں جنھیں ہم بہتر بنا رہے ہیں۔ دہشت گردی کی تعریف میں مسائل ہیں، بعض اوقات اس کی تعریف بہت وسیع ہو جاتی ہے اور وزیرِاعظم کا کہنا ہے کہ اسے جامع بنایا جائے۔‘

اس کی تفصیل بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’یہ نہیں کہ کسی پر چھوٹی موٹی بات پر دہشت گردی کا الزام لگ جائے۔ ہم اسے تھوڑا انسانیت کے دائرے میں لانا چاہتے ہیں کہ جو حقیقی دہشت گرد ہیں اور واقعی معاشرے کے لیے خطرہ ہیں انھیں دہشت گرد کہیں۔‘

پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد انتہا پسندوں سے منسلک مقدمات سےنمٹنے کے لیے پارلیمان نے دو سال کی مدت کے لیے فوجی عدالتیں قائم کرنے کی منظوری دی تھی۔

شہریوں کے خقوق کی پامالی کی روک تھام کے لیے پاکستان کے آئین میں فوجی عدالتوں کے قیام کی گنجائش نہیں تھی اس لیے پارلیمان نے 21ویں ترامیم کی جس کے بعد فوجی عدالتوں کا قیام عمل میں آیا۔ اس موقع پر سینیٹ کے چیرمین رضا ربانی نے فوجی عدالتوں کے قیام پر افسوس کا اظہار کیا تھا لیکن مجبوری قرار دیتے ہوئے انھیں وقت کی ضرورت قرار دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد پارلیمان نے دو سال کی مدت کے لیے فوجی عدالتیں قائم کرنے کی منظوری دی تھی

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر ظفر اللہ نے بھی تسلیم کیا کہ ’فوجی عدالتیں بنانا اچھا اقدام نہیں ہے۔’جمہوری معاشرہ ہے، ہماری سیاسی جماعت ہے، ہم الیکشن لڑ کر آئے ہیں ہم تو فوجی عدالتوں کے متحمل نہیں ہو سکتے۔‘

دو سال پہلے ہونے والے اس حکومتی فیصلے کا جواز بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’انتہا پسندی کے مقدمات میں سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ جج، وکیل اور گواہاں کو جان کا خوف ہوتا۔ جتنے اہم مقدمے ہیں وہ کامیاب نہیں ہوتے کیونکہ کوئی سامنے نہیں آتا۔ اسی لیے ایسے مقدمات سے نمنٹے کے لیے فوجی عدالتیں بنائی گئیں۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں