کوئٹہ میں فائرنگ، ہزارہ برادری کے پانچ افراد زخمی

کوئٹہ تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ سیکورٹی اقدامات کی وجہ سے کوئٹہ شہر میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں کمی آئی ہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے پانچ افراد زخمی ہوگئے ہیں جن میں سے دو کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

یہ واقعہ جمعے کو کوئٹہ شہر کے سپنی روڈ کے علاقے میں پیش آیا۔

صدر پولیس سٹیشن کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد ایک پیلی ٹیکسی میں ہزارہ ٹاؤن سے شہر کی جانب آرہے تھے۔ جب ٹیکسی کلی شیخ حسینی کے قریب پہنچی تو نامعلوم مسلح افراد نے گاڑی پر حملہ کیا۔

حملے کے نتیجے میں ٹیکسی میں سوار پانچ افراد زخمی ہوگئے۔

پولیس اہلکار نے بتایا کہ زخمیوں میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے جن کو علاج کے لیے سی ایم ایچ منتقل کردیا گیا۔

پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار تھے جو فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

اس حملے کی ذمہ داری کالعدم لشکر جھنگوی العالمی نے قبول کی ہے۔

ہزارہ برادری کے لوگوں کا تعلق شیعہ مسلک سے ہے۔ وہ کوئٹہ شہر کے مشرق میں مری آباد اور مغرب میں بروری کے علاقے ہزارہ ٹاؤن میں آباد ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ سال دو حملوں میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والی تین خواتین سمیت چھ افراد زخمی ہوئے تھے

سنہ 2000 کے بعد بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے ہزارہ افراد بھی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے۔

سنہ 2002 کے بعد سے اب تک ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افراد ہلاک جبکہ بڑی تعداد میں زخمی ہوچکے ہیں۔

سرکاری حکام کی جانب سے ان کے علاقوں کے علاوہ ان کی آمدورفت کی روٹ پر سیکورٹی کے اضافی اقدامات کیے گئے ہیں۔

سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ سیکورٹی کے ان اقدامات کی وجہ سے کوئٹہ شہر میں پہلے کے مقابلے میں فرقہ واریت بالخصوص ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں کمی آئی ہے۔

رواں سال کے دوران ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد پر یہ پہلا حملہ ہے جبکہ محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے مطابق گذشتہ سال دو حملوں میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والی تین خواتین سمیت چھ افراد زخمی ہوئے تھے۔

محکمہ داخلہ کے مطابق 2015 میں فرقہ واریت کی بنیاد پر 20 حملوں میں 44 افراد ہلاک اور32 زخمی ہوئے تھے۔