’لودھراں میں کون سے ہمارے بچے تھے‘

لودھراں تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption لودھراں میں ٹرین کے حادثے کا شکار ہونے والا موٹر سائیکل رکشہ

سوشلستان میں اس وقت کرکٹ کے ٹرینڈز کے علاوہ پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کو سالگرہ کی مبارکباد بھی دی جا رہی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ لودھراں کے نام کا ٹرینڈ بھی ہے جس پر سب سے پہلے بات کرتے ہیں۔

’ترقیاتی پیکج تو دیا مگر ریلوے کے پھاٹک تک ٹھیک نہیں کروا سکے‘

لودھراں کے قریب موٹرسائیکل رکشے کی ٹرین کے ساتھ ٹکر کے نتیجے میں چھ طلبہ کی ہلاکت پر سوشل میڈیا پر تبصرے ہو رہے ہیں کہ 'آخر کب ہم اس قدیم نظام سے نجات حاصل کریں گے جو آئے دن ہلاکتوں کا سبب بن رہا ہے؟'۔

فوزیہ درانی نے لکھا کہ 'چھ قیمتی انسانی جانوں کے جانے پر شدید دکھ ہوا مگر جن کی وجہ سے یہ حادثہ ہوا انھیں انصاف کے کٹہرے میں لانا چاہیے۔'

شعیب رحمانی نے لکھا 'مجرمانہ غفلت ہے، حکومت اور وزارتِ ریلوے کی۔ مگر حکومت تو اچھی ہے اور یہ کون سے ہمارے بچے تھے۔'

آصف کھوڑو نے لکھا کہ اتنے عرصے کے بعد بھی 'ریاست کی مشینری نو آبادیاتی دور کی چھوڑی ہوئی ریلوے کو بہتر نہیں کر سکی۔'

عماد نے لکھا کہ 'نہ انسان اور نہ مشینری بلکہ بُرا نظام اس طرح کے حادثات کا باعث ہے۔'

ملیحہ منظور نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ 'برینڈ نواز شریف نے لودھراں کے ضمنی انتخاب سے قبل ترقیاتی پیکج تو دیا مگر ریلوے کے پھاٹک تک ٹھیک نہیں کروا سکے جس نے آج چھ جانیں لے لیں۔'

اس ساری صورتحال میں ریلوے کے وزیر خواجہ سعد رفیق پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے جن کے بارے میں عمران خان سمیت اکثر لوگ یہ لکھ رہے ہیں کہ وہ اپنی وزارت پر توجہ دیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption وفاقی وزیر خواجہ آصف سپریم کورٹ آتے ہوئے

حکومتی وزرا کے کام کا احتساب کون کرے گا؟

لودھراں کے حادثے کے بعد ریلوے کے وزیر تنقید کی زد میں ہیں تو اسی طرح دوسرے وزرا پر بھی سوشل میڈیا پر تنقید کی جا رہی ہے۔

پاناما کیس کے بعد یہ روزانہ کا معمول ہے کہ آپ صبح ٹی وی پر لائیو دیکھتے ہیں کہ ایک کے بعد دوسرا وزیر سپریم کورٹ پہنچ رہا ہوتا ہے۔ گذشتہ چند روز کی پیشی میں آئی ٹی کی وزیر انوشہ رحمان اور وزیرِ مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نظر آئیں۔ اس سے قبل پانی و بجلی کے وزیرِ مملکت عابد شیر علی، کیپیٹل ایڈمنسٹریشن اینڈ ڈویلپمینٹ ڈویژن (کیڈ) کے وزیر طارق فضل چوہدری، وزیرِ دفاع خواجہ اصف اور وزیرِ ریلوے خواجہ سعد رفیق بھی نظر آئے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ روزانہ کی تین سے چار گھنٹے کی پیشی میں یہ سب وزرا سپریم کورٹ میں بیٹھے ہوتے ہیں جس کے بعد میڈیا سے بات چیت ہوتی ہے اور رات کو ان میں سے اکثر ٹی وی چینلز پر وہی باتیں دہرا رہے ہوتے ہیں۔ تو پھر یہ وزرا کام کب کرتے ہیں؟

یہی بات عمران خان نے ریلوے کی وزارت کے حوالے سے کہی کہ 'وزیر موصوف اپنا کام چھوڑ کر وزیراعظم کی ’کرپشن‘ چھپانے میں مصروف ہیں۔'

انگریزی روزنامہ ڈان نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ 'اگر وزیرِ مملکت برائے نجکاری اپنے ٹی وی پر صرف کیے جانے والے وقت سے کچھ بچا کر ریاستی اداروں کی نجکاری کے لیے صرف کریں تو اس کا زیادہ فائدہ ہو گا۔'

اس ہفتے کا تعارف

پاکستان میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں میں شامل بلو وینز تنظیم صنفی تفریق کے لیے کام کرنے والے گروہوں میں شامل ہے۔ بلو وینز پاکستان میں خواجہ سراؤں کے حقوق کے لیے کام کرنے میں بھی پیش پیش ہے جس میں خواجہ سراؤں کی شناخت اور ووٹنگ جیسے اہم مسائل شامل ہیں۔

اس ہفتے کی تصویر

تصویر کے کاپی رائٹ Hassan Kakar
Image caption اسلام آباد پریس کلب کے سامنے بارش میں بیٹھے احتجاج کرنے والے چند خاندان جو لورالائی بلوچستان سے آئے ہیں