فوجی عدالتیں کتنی مؤثر؟

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
نیشنل ایکشن پلان کے تحت بننے والی فوجی عدالتوں کی مدت سات جنوری کوختم ہو رہی ہے

آپریشن ضرب عضب کے باوجود پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملے میں ایک سو تیس سے زیادە بچوں کی ہلاکت نے جب ریاست کی کمزریوں کو نمایاں کیا تو حکومت نےعدالتی نظام میں سست روی کا جواز دیتے ہوئے انتہا پسندی سے متعلق مقدمات سے بروقت نمٹنے کے لیے فوجی عدالتیں قائم کی گئیں۔

ان عدالتوں کی مدت اب ختم ہو رہی ہے۔

مگر سوال پیدا ہوتا ہے ک آیا جن مقاصد کے لیے فوجی عدالتیں قائم کی گئیں وہ پورے ہو گئے؟ کیا پولیس اور نظامِ عدل میں جو اصلاحات لائی جانی تهیں، وہ ممکن ہوئیں؟

فوجی عدالت سے سزا یافتہ ملزم کی درخواست مسترد

ہائی کورٹ نے فوجی عدالت کی سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا

بعض وکلا کا خیال ہے کہ فوجی عدالتوں کے قیام اور انتہا پسندی سے منسلک مقدمات میں عدالتی نظام کی ناکامیوں کی زمە دار پولیس پر عائد ہوتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ RIZWAN TABASSUM
Image caption ’ناقص کارگردی کی وجہ سے مجرم کیفرِ کردار تک نہیں پہنچ پاتے‘

اس سلسلے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اسلام آباد بار ایسویشن کے صدر طیب شاە کا کہنا تھا کہ ’پولیس کے پاس تحقیقات اور پراسیکیوشن کا اختیار ہے مگر ان کے حالات ہمارے سامنے ہیں۔ ان کی شواہد جمع کرنے کی صلاحیت کمزور ہونے کی وجە سے کمزور مقدمات عدالت میں پیش کیے جاتے ہیں جس کی وجە سے زیادە تر ملزم بری ہو جاتے ہیں۔ عدالتی کارروائی کا انحصار پولیس پر ہوتا ہے اور ناقص کارگردی کی وجہ سے مجرم کیفرِ کردار تک نہیں پہنچ پاتے۔‘

طیب شاە کا مزید کہنا تھا کہ ایسے مقدمات جن میں انتہاپسندی کا پہلو ہو ان میں جج، وکیل، گواە، سب ہی ڈرتے ہیں کیونکہ ان کی شناخت مخفی نہیں رکهی جاتی۔ یہ ایک دوسری بڑی وجہ ہے جس سے عدالتی نظام ان مقدمات کو نمٹنے میں تاخیر کر دیتا ہے۔`

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ’پولیس کے پاس تحقیقات اور پراسیکیوشن کا اختیار ہے مگر ان کے حالات ہمارے سامنے ہیں‘

اس حوالے سے یہ بات اہم ہے کہ فوجی عدالتوں کی کارروائی تو خفیہ رکهی گئی، مگر کیا اب عدلیہ بھی ایسا ہی کرے گی؟

اسی وجہ سے فوجی عدالتوں کی کارروائی کی شفایت پر کئی سوال اٹهائے گئے۔ بیشتر انسانی حقوق کی ملکی اور عالمی تنظیموں نے فوجی عدالتوں کے قیام کو شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔ اس کے علاوہ ان عدالتوں کی منظوری دینے پر پارلیمان کو بهی شدید تنقید کا نشانە بنایا گیا۔

پہلے مختلف وجوہات کی بنا پر ان عدالتوں کی حمایت کرنے والے سیاستدانوں میں سے اب بعض ایسے بهی ہیں جو فوجی عدالتوں کی توسیع کےحق میں نہیں۔

اس سلسلے میں پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللە باہر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ملک میں دوسرے قوانین موجود ہیں جو سیکورٹی اداروں کو تفتیش اور پراسیکیوشن کے لیے بے پناە اختیارات دیتے ہیں، جن کے ذریعے وە مقاصد حاصل کیے جا سکتے ہیں جن کو جواز بنا کر فوجی عدالتیں قائم کی گئی تهیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ RIZWAN TABASSUM
Image caption 'یہ ایک سبق ہے ہم سب کے لیے ہے کیونکہ فوجی عدالتیں جس مقصد کے لیے بنی تهیں وە پورے نہیں ہوئے‘

فرحت اللە باہر نے کہا کہ ’یہ ایک سبق ہے ہم سب کے لیے ہے کیونکہ فوجی عدالتیں جس مقصد کے لیے بنی تهیں وە پورے نہیں ہوئے۔ اور پارلیمان کی جانب سے دو سال پہلے ان کی منظوری نے پارلیمان پر بهی سوالیە نشان لگایا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’فوجی عدالتوں میں ایک دن کی توسیع بهی نہیں ہونی چاہیے کیونکہ ان کے شفاف ہونے پر ہمیں اعتراض ہے اور ان میں زیادە تر سزائیں ایسے مجرموں کو سنائی گئیں جن کے مقدمات انتہا پسندی سے متعلق نہیں تهے۔‘

فرحت اللە باہر نے تسلیم کیا کہ'پولیس کو تمام سیاسی جماعتوں نے ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا، لیکن اب پولیس میں اصلاحات پر بحث شروع ہو گئی ہے تا کہ انہیں اس قابل بنایا جا سکے کہ وە تیزی سے اور جدید طریقوں سے انتہاپسندی سے منسلک مقدمات کی تفتیش کر سکیں تا کہ عدالتی نظام میں اصلاحات کے ساتھ ساتھ پولیس کو بهی موثر بنایا جائے۔`

حکومت کے پاس دو برس تهے کە وە عدالتی نظام میں بہتری کے لیے نئی قانون سازی کرے اور ساتھ ساتھ پولیس میں بهی اصلاحات کرے، مگر وە ناکام رہی۔ تاہم سیاسی حمایت نہ ہونے کی وجہ سے بظاہر دکھائی دیتا ہے کہ اب حکومت فوجی عدالتوں کے پیچهے مذیر چهُپ نہیں پائے گی اور اسے نظام میں تبدیلی کا کهٹن مرحلە شروع کرنا پڑے گا۔