فوجی عدالتوں کی مدت کا آخری دن

پاکستان میں فوجی عدالتوں کی دو سالہ مدت آج یعنی سنیچر کو ختم ہو رہی ہے جب کہ حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے مقدمات سے نمٹنے کے لیے نیا قانون تیار کیا جا رہا ہے۔

٭فوجی عدالتیں کتنی مؤثر؟

٭فوجی عدالتوں کی مدت ختم ہونے پر نئی قانون سازی پر غور

٭فوجی عدالتیں اور انصاف کے تقاضے

خیال رہے کہ پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد انتہا پسندوں سے منسلک مقدمات سے نمٹنے کے لیے پارلیمان نے 21ویں آئینی ترامیم کرتے ہوئے فوجی عدالتیں قائم کرنے کی منظوری دی تھی۔

ان عدالتوں کی توسیع کے بارے میں فی الحال کوئی امکان دکھائی نہیں دے رہا تاہم دہشت گردی کے مقدمات کے لیے ایک نیا قانون تیار کیا جا رہا ہے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
نیشنل ایکشن پلان کے تحت بننے والی فوجی عدالتوں کی مدت سات جنوری کوختم ہو رہی ہے

وزیراعظم کے مشیر برائے قانونی امور بیرسٹر ظفر اللہ فوجی عدالتوں کی مدت کے خاتمے سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں حال ہی میں بی بی سی کو بتایا تھا کہ اگر سیاسی جماعتیں فوجی عدالتوں میں توسیع کے لیے ساتھ نہیں دیتیں تو اگلے چند دنوں میں نئے قانون کا مسودہ پیش کر دیا جائے گا۔

'اگر فوجی عدالتیں قائم نہیں رہتیں جو کچھ مشکل ہوتا لگ رہا ہے تو ہم دوسرے راستے کو اختیار کریں گے جس میں ہماری عام عدالتیں ہی کام کریں گیں مگرگواہوں، پراسیکیوٹر، پولیس اور ججز کو زیادہ تحفظ فراہم کیا جائے گا تاکہ انتہا پسندی سے متعلق مقدمات کی سماعت نہ رکے۔'

انھوں نے کہا کہ 'یہ نہیں کہ کسی پر چھوٹی موٹی بات پر دہشت گردی کا الزام لگ جائے۔ ہم اسے تھوڑا انسانیت کے دائرے میں لانا چاہتے ہیں کہ جو حقیقی دہشت گرد ہیں اور واقعی معاشرے کے لیے خطرہ ہیں انھیں دہشت گرد کہیں۔'

فوجی عدالتوں پر تنقید کیوں؟

آپریشن ضرب عضب کے باوجود پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملے میں ایک سو تیس سے زیادە بچوں کی ہلاکت نے جب ریاست کی کمزریوں کو نمایاں کیا تو حکومت نےعدالتی نظام میں سست روی کا جواز دیتے ہوئے انتہا پسندی سے متعلق مقدمات سے بروقت نمٹنے کے لیے فوجی عدالتیں قائم کی گئیں۔

مگر سوال پیدا ہوتا ہے ک آیا جن مقاصد کے لیے فوجی عدالتیں قائم کی گئیں وہ پورے ہو گئے؟ کیا پولیس اور نظامِ عدل میں جو اصلاحات لائی جانی تهیں، وہ ممکن ہوئیں؟

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اسلام آباد بار ایسویشن کے صدر طیب شاە کا کہنا تھا کہ 'پولیس کے پاس تحقیقات اور پراسیکیوشن کا اختیار ہے مگر ان کے حالات ہمارے سامنے ہیں۔ ان کی شواہد جمع کرنے کی صلاحیت کمزور ہونے کی وجە سے کمزور مقدمات عدالت میں پیش کیے جاتے ہیں جس کی وجە سے زیادە تر ملزم بری ہو جاتے ہیں۔ عدالتی کارروائی کا انحصار پولیس پر ہوتا ہے اور ناقص کارگردی کی وجہ سے مجرم کیفرِ کردار تک نہیں پہنچ پاتے۔'

طیب شاە کا مزید کہنا تھا کہ ایسے مقدمات جن میں انتہا پسندی کا پہلو ہو ان میں جج، وکیل، گواە، سب ہی ڈرتے ہیں کیونکہ ان کی شناخت مخفی نہیں رکهی جاتی۔ یہ ایک دوسری بڑی وجہ ہے جس سے عدالتی نظام ان مقدمات کو نمٹنے میں تاخیر کر دیتا ہے۔

اسی وجہ سے فوجی عدالتوں کی کارروائی کی شفافیت پر کئی سوال اٹهائے گئے۔ بیشتر انسانی حقوق کی ملکی اور عالمی تنظیموں نے فوجی عدالتوں کے قیام کو شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔ اس کے علاوہ ان عدالتوں کی منظوری دینے پر پارلیمان کو بهی شدید تنقید کا نشانە بنایا گیا۔

پہلے مختلف وجوہات کی بنا پر ان عدالتوں کی حمایت کرنے والے سیاستدانوں میں سے اب بعض ایسے بهی ہیں جو فوجی عدالتوں کی توسیع کےحق میں نہیں۔

اس سلسلے میں پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللە باہر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'ملک میں دوسرے قوانین موجود ہیں جو سیکورٹی اداروں کو تفتیش اور پراسیکیوشن کے لیے بے پناە اختیارات دیتے ہیں، جن کے ذریعے وە مقاصد حاصل کیے جا سکتے ہیں جن کو جواز بنا کر فوجی عدالتیں قائم کی گئی تهیں۔'

فرحت اللە باہر نے کہا کہ 'یہ ایک سبق ہے ہم سب کے لیے ہے کیونکہ فوجی عدالتیں جس مقصد کے لیے بنی تهیں وە پورے نہیں ہوئے۔ اور پارلیمان کی جانب سے دو سال پہلے ان کی منظوری نے پارلیمان پر بهی سوالیە نشان لگایا ہے۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'فوجی عدالتوں میں ایک دن کی توسیع بهی نہیں ہونی چاہیے کیونکہ ان کے شفاف ہونے پر ہمیں اعتراض ہے اور ان میں زیادە تر سزائیں ایسے مجرموں کو سنائی گئیں جن کے مقدمات انتہا پسندی سے متعلق نہیں تهے۔'

یاد رہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ کے 17 رکنی بینچ نے اکیسویں آئینی ترمیم کے تحت قائم ملک بھر میں فوجی عدالتوں کے اختیارات بڑھانے کے خلاف دائر ہونے والی تمام درخواستوں کو اگست 2015 میں مسترد کر دیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں