بلوچ علیحدگی پسندوں سے شدت پسند زیادہ خطرناک

کوئٹہ تصویر کے کاپی رائٹ EPA

بلوچستان میں بدامنی اور سکیورٹی کے بدلتے رحجانات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ ریاست کو بلوچ علیحدگی پسندوں کے مقابلے میں شدت پسندوں سے زیادہ خطرات لاحق ہیں لیکن ریاست کی توجہ علیحدگی پسند گروہوں پر مرکوز ہے۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف پیس سٹڈیز کی سالانہ تجزیاتی رپورٹ کے مطابق گذشتہ دو سالوں میں بلوچستان میں 151 دہشت گرد حملے ہوئے ہیں، جو پاکستان میں ہونے والے حملوں کا 34 فیصد ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں 412 افراد ہلاک اور 702 زخمی ہوئے جو پورے ملک میں ہونے والی ہلاکتوں کا 45 فیصد بنتا ہے۔ یہ ہلاکتیں زیادہ تر کالعدم تحریک طالبان، جماعت الاحرار اور لشکر جھنگوی کے حملوں کا نتیجہ تھیں۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ گذشتہ سال پاکستان کے دیگر صوبوں کی نسبت خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات اور ہلاکتیں زیادہ رہی ہیں۔ کل 17 خودکش حملوں میں سے سات بلوچستان، پانچ خیبر پختونخوا، تین فاٹا اور دو پنجاب میں کیے گئے۔

لشکر جھنگوی کا دوبارہ جنم ہوا اور اس نے لشکر جھنگوی العالمی کا لبادہ اوڑھ لیا۔ لشکر جھنگوی العالمی نے اپنے نظریے کو پھیلاتے ہوئے عالمی تنظیموں کے ساتھ گٹھ جوڑ کیا جس میں داعش بھی شامل ہے۔

ماضی میں لشکر جھنگوی اور اس کی عالمی تنظیم لشکر جھنگوی العالمی، جماعت الاحرار اور تحریک طالبان چھوٹی نوعیت کے حملے کرتے تھے لیکن اب ان کی شدت اور وسعت میں اضافہ ہوا ہے، جس کی مثال کوئٹہ اور خضدار میں شاہ نورانی کے مزار پر حملے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Uzair Shaikh

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف پیس سٹڈیز کے ڈائریکٹر عامر رانا کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال دہشت گردی کے واقعات میں 28 فیصد کمی آئی جو ایک خوش آئند بات ہے لیکن اس کے ساتھ ایک پریشان کن رحجان بھی سامنے آیا وہ یہ کہ کچھ ایسے گروہ مضبوط ہوئے ہیں جو آنے والے مہینوں میں زیادہ مصائب کا باعث بن سکتے ہیں۔

’تحریک طالبان کمزور تو ہوئی ہے لیکن اس کے مقابلے میں لشکر جھنگوی کے جو گروہ ہیں وہ نئے ناموں کے ساتھ مضبوط ہوئے ہیں۔ ان گروہوں نے فرقہ واریت سے بڑھ کر اپنے اہداف بنائے ہیں، ان پر داعش جیسی تنظیموں کا اثر رسوخ زیادہ ہے جو اپنے نظریات اور ایجنڈہ میں فرقہ ورانہ سوچ رکھتی ہیں۔‘

بلوچستان میں جو علیحدگی پسند گروہ ہیں ان کے پاس زیادہ آپریشنل صلاحیت نہیں، خاص طور پر جو سکیورٹی فورسز کے آپریشن ہوئے اس میں انھیں کافی نقصان پہنچا اور آپریشنل صلاحیتوں میں کمی واقع ہوئی ہے، اس کے برعکس مذہبی شدت پسند گروہوں کی آپریشنل صلاحیت ہمیشہ زیادہ رہی ہے اور ان کا اثر بھی زیادہ رہا ہے۔

’لشکر جھنگوی یا جماعت الاحرار کے ایک حملے میں جو نقصان ہوا ہے، عسکریت پسند قوم پرستوں کی کئی تنظمیں مل کر بھی اتنا نقصان نہیں پہنچا سکتیں لیکن ریاست کا فوکس زیادہ تر قوم پرست عسکریت پسند گروہوں پر ہے۔‘

بلوچستان کے سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار شہزادہ ذوالفقار کا کہنا ہے کہ ریاست نے اپنی توجہ قوم پرست عسکریت پسندوں کی طرف زیادہ رکھی، وہ مذہبی شدت پسند تنظیموں کی طرف سے کوئی خطرہ محسوس نہیں کر رہے تھے جبکہ جو فرقہ ورانہ تنظیمیں تھیں وہ بھی ان کی نظر میں کوئی بڑا خطرہ نہ تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

’انھوں نے پولیس کے احاطے کے اندر گھس کر حملہ کیا اور اگلے مہینے شاہ نورانی میں حملہ کیا، اب وہ سمجھتے ہیں کہ وہ کہیں بھی وار کرسکتے ہیں۔ فاٹا میں شاید نہیں کر سکتے لیکن جیسے کے حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ وہ سپین بولدک میں بیٹھے ہوئے ہیں اور بلوچستان سے سرحد لگتی ہے تو وہاں سے بیٹھ کر وہ معاونت کرکے یہاں وار کرسکتے ہیں۔‘

شہزادہ ذوالفقار کا کہنا ہے کہ ’بلوچستان میں نیشنل ایکشن پلان کے دو یا تین نکات پر ہی عمل درآمد ہوا ہے۔ شدت پسندوں کے خلاف قانون نافذ کرنے والے ادارے کارروائی کر رہے ہیں لیکن پلان کے جو دوسرے پہلوؤں پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔‘

افغان مہاجرین کی واپسی اس پر عمل نہیں ہوا، ملٹری کورٹس کا اعلان ہوا لیکن انھوں نے کوئی کام نہیں کیا۔ اسی طرح جن ملزمان کو سزائے موت سنائی گئی تھی ان پر عمل درآمد نہیں کرایا گیا۔ انسداد دہشت گردی کی خصوصی فورس کا قیام نہیں ہو سکا۔

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بھی اپنی حالیہ رپورٹ میں یہ قرار دیا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل نہیں کیا گیا۔ پلان کو مناسب طریقے سے ترتیب دیا جائے تاکہ اس کے اہداف واضح ہوں۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف پیس سٹڈیز کے ڈائریکٹر عامر رانا کا کہنا ہے کہ اگر نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد ہوتا تو جو دہشت گرد دوبارہ منظم اور متحرک ہوئے ہیں وہ نہیں ہو سکتے تھے۔

’دہشت گردی کا خاتمہ ریاست کی حکمت عملی سے ہے۔ اگر آپریشن کر کے ان کو مفلوج کر دیتے ہیں اور یہ کوشش نہیں کرتے کہ وہ دوبارہ منظم نہ ہوں اور جہاں سے انھیں افرادی قوت مل رہی ہے اس کو روکا نہ جائے تو پھر یہ خطرہ اپنی جگہ پر برقرار رہے گا۔‘

بلوچستان میں پشین، مستونگ اور خضدار کے علاقوں کی مقامی اور بین الاقومی میڈیا میں نشاندہی ہوتی رہی ہے اس حوالے سے پولیس اور دیگر اداروں کی رپورٹیں اور بیانات بھی ریکارڈ پر موجود ہیں۔

صحافی تجزیہ نگار شہزادہ ذوالفقار کہتے ہیں کہ خضدار میں جو عناصر موجود ہیں وہ تو سب کو پتہ ہے کہ کون ہیں۔ شکارپور میں جو خودکش بمبار پکڑا گیا اس نے بتایا تھا کہ اس نے کہاں قیام کیا اور کیسے یہاں تک پہنچا۔ یہ رپورٹیں حکومت کے پاس بھی ہیں لیکن کیا وجہ ہے کہ حکومت مصلحت پسندی کا شکار ہے؟ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے۔

سندھ کے شہروں جیکب آباد اور شکارپور میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کو بلوچستان کے شدت پسند گروہوں سے جوڑا گیا تھا۔

عامر رانا کہا کہنا ہے کہ حکومت سندھ کی طرف سے بلوچستان پر جو دباؤ ڈالا جا رہا ہے، ہو سکتا ہے کہ وہ کوئی مشترکہ حکمت عملی بنائیں، خاص طور پر ان علاقوں میں جو سندھ اور بلوچستان کے سرحدی علاقے ہیں۔

اسی بارے میں