’مائی لارڈز میں تو سٹپنی ہوں، اصل وکیل تو حامد خان ہیں‘

نعیم بخاری
Image caption سماعت کے دوران نعیم بخاری نے متعدد بار اپنے دلائل ختم کرنے کی کوشش کی لیکن ججوں نے کہا کہ جب تک وہ ججوں کو مطمئن نہیں کرتے اس وقت تک وہ روسٹرم چھوڑ کر نہیں جا سکتے

پاناما لیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت منگل کے روز بھی جاری رہی تو سماعت شروع ہوتے ہی بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ اُنھیں اپنے اُن ریمارکس پر افسوس ہے جو اُنھوں نے ارکان پارلیمنٹ کی اہلیت سے متعلق آئین کے ارٹیکل 62 اور63 کے بارے میں دیے تھے۔

پیر کے روز ان درخواستوں کی سماعت کے دوران پانچ رکنی لارجر بینچ کے سربراہ نے کہا تھا کہ اگر آئین کے آرٹیکل 62 اور63 کا صحیح اطلاق کر دیا جائے تو پارلیمنٹ میں امیر جماعت اسلامی کے علاوہ اور کوئی نہیں بچے گا۔

ان درخواستوں کی سماعت اب عدالت نمبر ایک میں ہو رہی ہے جو چیف جسٹس آف پاکستان کی عدالت ہے۔ اس میں دو سو کے قریب افراد کے بیٹھنے کی گنجائش موجود ہے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
’وکیل بھی کبھی مقدمہ ہارتا ہے‘

پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار ان دنوں سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں مختلف مقدمات کی سماعت کر رہے ہیں۔

پاناما لیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے حدیبیہ پیپرز ملز میں منی لانڈرنگ کے بارے میں اسحاق ڈار کا اقبالی بیان پڑہ کر سنایا تو عدالت نے اُنھیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’بخاری صاحب گڑے مردے کیوں اُکھاڑتے ہیں ،خود کو صرف اپنی درخواست تک ہی محدود رکھیں۔‘

نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ عدالت نیب کو اس مقدمے کی تحقیقات کرنے کا حکم دے جس پر بینچ میں موجود جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ یہ ذمہ داری عدالت پر ڈالنے کی بجائے وہ بھی کچھ ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے نیب میں درخواست دیں۔

بیچ میں موجود جسٹس عظمت سعید نے پاکستان تحریک انصاف کے وکیل سے استفسار کیا کہ شریف برادران کے خلاف منی لانڈرنگ کے بارے میں حتمی رپورٹ کس نے جاری کی تھی؟ اس پر عدالت کو بتایا گیا کہ حتمی رپورٹ رحمان ملک نے تیار کی تھی جو اس وقت ایف آئی اے میں ایڈیشنل ڈائریکٹر تھے۔ اس پر بینچ میں موجود ججوں سمیت عدالت میں بیٹھے ہوئے لوگ بھی مسکرا دیے۔

نعیم بخاری نے ججوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’کیا آپ مجھ پر مسکرائے ہیں یا میرے ساتھ مسکرائے ہیں؟‘ اس پر بینچ میں موجود عظمت سعید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’کیا ہمیں ہنسنے کے لیے آپ کی اجازت کی ضرورت ہو گی؟‘

جسٹس عظمت سعید نے نعیم بخاری سے استفسار کیا کہ کیا یہ وہی رحمان ملک ہیں جو بعد میں پاکستان کے وزیر داخلہ بھی بنے؟ جس پر پاکستان تحریک انصاف کے وکیل نے ہاں میں جواب دیا۔

سماعت کے دوران ایک موقعے پر جب بینچ میں موجود ججوں کی طرف سے پاناما لیکس کے بارے میں پاکستان تحریک انصاف کے وکیل سے سوالات کیے گئے تو اُنھوں نے ججوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ’مائی لارڈز اس مقدمے میں میں تو صرف سٹپنی ہوں، اصل وکیل تو حامد خان ہیں۔ پتہ نہیں میرے کندھوں پر کیوں اضافی بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔‘

سماعت کے دوران نعیم بخاری نے متعدد بار اپنے دلائل ختم کرنے کی کوشش کی جس پر عدالت میں موجود ججوں کا کہنا تھا کہ جب تک وہ ججوں کو مطمئن نہیں کرتے اس وقت تک وہ روسٹرم چھوڑ کر نہیں جا سکتے۔

نعیم بخاری جب بھی اپنے دلائل ختم کرنے کی بات کرتے تو عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد دلائل دینے کے لیے اپنی نشست پر کھڑے ہو جاتے تاہم عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے وکیل کو بدھ کے روز بھی اپنے دلائل جاری رکھنے کا حکم دیا۔

سماعت کے دوران جب جسٹس اعجاز افضل اور جسٹس عظمت سعید پاکستان تحریک انصاف کے وکیل سے مختلف سوالات کرتے تھے تو عمران خان اور پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین اپنی نشستوں پر کھڑے ہو جاتے اور جب اُن کے سوالات ختم ہو جاتے تو وہ دوبارہ اپنی نشستوں پر بیٹھ جاتے۔

سماعت کے دوران حکومت کی طرف سے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزیر مملکت انوشہ رحمان کمرہ عدالت میں موجود تھیں اس کے علاوہ حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ بھی موجود تھے جن میں طلال چوہدری اور دانیال عزیز شامل ہیں جو پاکستان تحریک انصاف کے وکیل کے دلائل سے پوائنٹس لیتے رہے۔

اسی بارے میں