عدالت نے طیبہ کو سویٹ ہوم بھجوا دیا

  • 11 جنوری 2017
ڈسٹرک اینڈ سیشن جج کی اہلیہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ڈسٹرک اینڈ سیشن جج کی اہلیہ جن پرکم سن ملازمہ کو تشدد کا نشانہ بنانے کے الزامات کا سامنا ہے

سپریم کورٹ نے اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج کی اہلیہ کے ہاتھوں تشدد کا شکار بننے والی دس سالہ کمسن بچی طیبہ کو سویٹ ہوم بھجوا دیا ہے جبکہ اسلام آباد پولیس کو اس کی سکیورٹی کے مناسب اقدامات کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ کمسن طیبہ کچھ روز کے لیے اپنے والدین کے ساتھ نہیں رہے گی اور اس عرصے کے دوران اس کی کونسلنگ بھی کی جائے گی۔

بدھ کے روز عدالت نے اسلام آباد پولیس کے حکام کو کہا کہ وہ اس واقعے سے متعلق دس روز میں رپورٹ دیں تاکہ ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے اس از خود نوٹس کی سماعت کی تو متاثرہ بچی اور اس کے والدین کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ اس کے علاوہ طیبہ کے والدین ہونے کے تین دعوےدار بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے۔

اسلام آباد کی انتظامیہ کی طرف سے طیبہ پر ہونے والے تشدد کے بارے میڈیکل رپورٹ پیش کی گئی جس کے مطابق طیبہ کے جسم پر زخموں کے 22 نشانات پائے گئے ہیں۔ اس پر بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اس رپورٹ میں اس وقت کا تعین نہیں کیا گیا کہ یہ زخم کب لگائے گئے تھے۔

لڑکی کے والد محمد اعظم نے عدالت میں بیان دیا کہ اُنھیں لڑکی سے اس وقت ملوایا گیا جب صلح نامہ متعلقہ عدالت میں جمع کروا دیا تھا جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ایڈیشنل سیشن جج نے کیسے تحقیق کیے بغیر طیبہ کو محمد اعظم کے حوالے کر دیا۔

عدالت نے کمسن بچی پر ہونے والے تشدد میں صلیح نامہ اور ملزمہ کی عبوری ضمانت کی دستاویزات سیل کرنے کا حکم دیا ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت اس معاملے کو بھی دیکھے گی کہ لڑکیوں کو گھروں میں نوکریاں دلوانے کے لیے کوئی گینگ تو متحرک نہیں ہے۔

عدالت نے اسلام آباد پولیس کے ڈی آئی جی کاشف محمود کو حکم دیا کہ وہ کسی بھی دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر اس معاملے کی تحقیقات میں تمام پہلووں کو مدنظر رکھیں اور دس روز میں اس واقعے کی حتمی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کریں۔

دوسری طرف اسلام آباد پولیس نے ایڈیشنل سیشن جج راج خرم علی کی اہلیہ کے خلاف طیبہ پر تشدد سے متعلق درج ہونے والے مقدمے میں انسانی سمگلنگ کی دفعات کا بھی اضافہ کر دیا ہے۔

اس از خودنوٹس کی سماعت اب 18جنوری کو ہو گی۔

اسی بارے میں