پاناما لیکس کیس: 'عدالت نہ کوئی ٹرائل کورٹ ہے نہ ہی تحقیقاتی ادارہ'

  • 10 جنوری 2017

سپریم کورٹ میں پاناما لیکس سے متعلق زیر سماعت درخواستوں کی سماعت کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے وکیل نے کہا ہے کہ عدالت پاناما لیکس کو نہیں بلکہ وزیر اعظم کی تقریروں کو مدنظر رکھتے ہوئے اُن کی نااہلی سے متعلق فیصلہ دے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے پاناما لیکس سے متعلق درخواست کی سماعت شروع کی تو پاکستان تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ پانامالیکس کو نکالنے کے باوجود بھی وزیر اعظم کی نااہلی کا مقدمہ بنتا ہے۔

٭ پاناما لیکس کیس: ’نواز شریف کا خاندان ثبوت فراہم کرے‘

٭ پاناما لیکس کیس: ’قطری خط کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا‘

اُنھوں نے کہا کہ میاں نواز شریف کی قوم سے تقریر اور پھر پارلیمنٹ ہاؤس میں کی جانے والی تقاریر میں تضاد موجود ہے اور عدالت اس کو مدنظر رکھتے ہوئے اُن کی درخواست کا فیصلہ دے۔

بینچ میں موجود جج اعجاز افضل خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کی تقاریر کو پاناما لیکس میں آنے والے مبینہ حقائق کے ساتھ کیسے جوڑا جاسکتا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں پیش کی جانے والی دستاویزات کو پرکھنے اور دوسرے فریق کے دلائل سننے کے بعد ہی کسی نتیجے پر پہنچ سکتی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ حقائق کو سامنے رکھے بغیر محض ادھر اُدھر کی باتیں سن کر ایسے معاملات پر فیصلے نہیں دیے جاتے۔

بینچ میں موجود جسٹس عظمت سعید نے پاکستان تحریک انصاف کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اُنھوں نے لندن میں خریدی گئی جائیداد اور پھر دبئی اور جدہ سے متعلق دلائل تو دیے ہیں لیکن اس بات میں وہ ثبوت فراہم نہیں کیے جس سے عدالت مطمئن ہو جس پر نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ ثبوت فراہم کرنے کی ذمہ داری مدعلیہان پر ہے۔

جسٹس عظمت سعید نے نعیم بخاری سے کہا کہ اُنھوں نے اس مقدمے میں رسرچ خوب کی ہے لیکن بظاہر یہ تحقیقات اس مقدمے میں ان کے لیے سودمند ثابت نہیں ہوئی۔

نعیم بخاری نے حدیبیہ پیپرز ملز کے مقدمے میں اسحاق ڈار کے اعترافی بیان کا حوالہ دیا جو شریف برادران کی طرف سے منی لانڈرنگ سے متعلق ہے اس پر بینچ کے سربراہ نے پاکستان تحریک انصاف کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے سامنے وزیر اعظم کی نااہلی سے متعلق درخواستیں زیر سماعت ہیں لہذا وہ اپنے دلائل اسی تک ہی محدود رکھیں۔

نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ مریم نواز شریف لندن میں خریدی گئی جائیداد کی بینیفشری ہیں تاہم عدالت کا کہنا تھا کہ یہ بات آپ پہلے بھی کئی مرتبہ کرچکے ہیں لیکن ثبوت بھی تو لائیں۔

بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ ساری جائیداد قطری باشندے کی نکلی تو پھر درخواست گزار کا سارا معاملہ ختم ہو جائے گا۔

پاکستان تحریک انصاف کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ وہ بےشک فیصلہ دیتے وقت پاناما لیکس کے معاملے کو زیر غور نہ لائے اور صرف وزیر اعظم کی تقریروں کو سامنے رکھتے ہوئے اُن کی نااہلی سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ دے۔

اس سے پہلے ان درخواستوں کی سماعت کے دوران جب پاکستان تحریک انصاف کے وکیل نے وزیر اعظم کے خلاف حدیبہ پیپرز ملز کے مقدمے کی دوبارہ تحقیقات کرنے کے بارے میں قومی احتساب بیورو کو احکامات جاری کرنے کے بارے میں کہا کہ تو بینچ میں موجود جسٹس اعجاز افضل کا کہنا تھا کہ عدالت مفادِ عامہ کے آرٹیکل 184/3 کے دائرہ کار کو مزید وسیع نہیں کر سکتے، ورنہ اُسے سمیٹنا بہت مشکل ہو جاۓ گا۔

اُنھوں نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ماضی میں بھی اس قانون کو وسیع کیا جاتا رہا ہے اور اس حوالے سے سپریم کورٹ نے مختلف فیصلے بھی صادر کیے لیکن اُن کے نتائج سب کے سامنے ہیں، کسی بھی فیصلے پر عمل درآمد نہیں ہوا۔

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ عدالت نہ کوئی ٹرائیل کورٹ ہے اور نہ ہی کوئی تحقیقاتی ادارہ۔

عدالت نے نعیم بخاری کو ایک بار پھر یاد دہانی کرائی کہ وہ جب تک عدالت کی طرف سے پوچھے گئے سوالوں پر بینچ کو مطمئن نہیں کریں گے وہ روسٹرم چھوڑ کر نہیں جا سکتے۔

بظاہر تو پاکستان تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری کے دلائل ختم ہو گئے ہیں لیکن وقفے کے بعد وہ عدالت کے مزید آئنی اور قانونی سوالات کے جواب دیں گے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل گذشتہ روز پاناما لیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے اپنے ریمارکس میں پاکستان تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری کو کیس لندن فلیٹس سے حدیبیہ پیپر ملز کی جانب لے جانے پر تنبیہ کی تھی۔

پاکستان تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے اسحاق ڈار کا مئی 2000 میں دیا گیا منی لانڈرنگ سے متعلق اعترافی بیان پڑھ کر سنایا اور کہا کہ 1999 میں مریم اور حسین نواز حدیبیہ مل میں ڈائریکٹر تھے۔

بینچ نے اپنے ریمارکس میں نعیم بخاری کو کہا تھا کہ حدیبیہ پیپر ملز کے متعلق ریفرینس نیب کے پاس دائر کیے جائیں۔

نعیم بخاری نے اپنے دلائل میں کہا کہ مریم نواز شریف اپنے والد کے زیر کفالت ہیں اور اس بات کو ثابت کرنے کے لیے بہت مواد موجود ہے۔

اسی بارے میں