فوجی عدالتوں کی پہیلی اور ان کا مستقبل

  • 11 جنوری 2017
تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption حکومت نے فوجی عدالتوں کے قیام کی دو سال کی آئنی مدت کے ختم ہونے سے قبل اس مدت میں توسیع کی کوئی کوشش نہیں کی

گذشہ ہفتے ایک وکیل دوست سے فوجی عدالتوں کے بارے میں بحث چھڑ گئی۔ یہ اسی دن کا ذکر ہے جب فوجی عدالتوں کے قیام کی مدت ختم ہوئی تھی۔ میرے وکیل دوست کا کہنا تھا کہ چونکہ سپریم کورٹ اپنے فیصلے میں فوجی عدالتوں کا قیام تسلیم کر چکی ہے، اس لیے اس موضوع پر بحث کی ضرورت نہیں ہے۔

* فوجی عدالتیں کتنی مؤثر؟

* فوجی عدالتیں اور انصاف کے تقاضے

لیکن میرے لیے یہ اس لیے قابلِ قبول نہیں تھا کہ پاکستانی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جب پاکستان کے سیاسی اور معاشرتی حالات سپریم کورٹ کی نفی کرتے دکھائی دیے ہیں۔

میری یہ دلیل بظاہر فوجی عدالتوں کے قیام کے حوالے سے پیش ہونے والے واقعات سے مطابقت نہیں رکھتی، کیوں کہ اب سے دو سال قبل فوجی عدالتوں کا قیام تمام سیاسی جماعتوں کے متفقہ فیصلے کے نتیجے میں عمل میں آیا تھا اور حکومتی ادارے فوجی عدالتوں کے قیام کو کامیاب تجربہ قرار دیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

لیکن دیکھنا یہ پڑے گا کہ پارلیمان میں موجود تمام سیاسی جماعتوں نے اب سے دو سال قبل کس بات پر اتفاق کیا تھا۔

فوجی عدالتوں کے منصف کون؟

بنیادی طور پر انھی فوجی عدالتوں کے قیام پر اتفاق کیا گیا تھا جن کی سربراہی حاضر سروس کرنل اور بریگیڈیئر رینک کے افسران نے کرنی تھی، لیکن آج تک کسی کو معلوم نہیں ہو سکا کہ جو افسران دو سال تک ان عدالتوں کی سربراہی کرتے رہے ان کے نام کیا ہیں، قانون کے حوالے سے ان کی پیشہ ورانہ صلاحیت کیا ہے اور وہ کن مراحل سے گزر کر جج کےعہدے پر فائز ہوئے ہیں۔

سرکاری طور پر اس سلسلے میں دو باتیں سننے کو ملتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ جو فوجی افسران فوجی عدالتوں کے سربراہ بنائے گئے ہیں ان کا تعلق جی ایچ کیو کے شعبۂ قانون سے ہے، اس لیے یہ افسران قانون سے واقفیت رکھتے ہیں۔

دوسری طرف کچھ فوجی افسران اس رائے کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ فوجی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ ہونے سے قبل ہی جی ایچ کیو نے ایسے فوجی افسران کا انتخاب کرنا شروع کر دیا تھا جنھیں فوجی عدالتوں میں تعینات کیا جانا تھا۔

ان افسران کو فوجی قانون کے بارے میں تین سے چار ہفتوں کے کورس کروائے گئے جس کی بنیاد پر ان کو فوجی عدالتوں میں زندگی اور موت کے فیصلے کرنے تھے۔ اور یہ فیصلے انھوں نے کیے، ایک دو نہیں سینکڑوں کی تعداد میں۔

فیصلے اور مقدمے کی کارروائی

اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ فیصلے کس طرح کیے گئے اور کن گواہوں اور ثبوتوں کی بنیاد پر کیے گئے۔ اس بارے میں کچھ نہیں معلوم، کیونکہ قانون کے مطابق عام آدمی یا میڈیا کی اس عدالتی کارروائی تک رسائی نہیں تھی۔

عدالتی فیصلوں کا اعلان آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز کی ذریعے ہوتا تھا۔ اس کے علاوہ ملزمان پر لگائے جانے والے الزامات اُس وقت تک خفیہ رکھے جاتے جب تک عدالت اپنے فیصلوں کا اعلان نہیں کر دیتی تھی۔ سو یہ تھے وہ چند نکات جن پر دو سال قبل پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں نے اتفاق کیا تھا۔

فوجی عدالتوں میں ہونے والی کارروائیوں کے ضمن میں ایک دلچسپ اور عجیب بات یہ ہے کہ استغاثہ اور عدالتوں کے سرابرہ دونوں کا تعلق فوج سے تھا اور ان دونوں کی ملازمت، پوسٹنگ اور ٹرانسفر پر جی ایچ کیو کا مکمل اختیار تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ RIZWAN TABASSUM
Image caption وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا یہ کہنا تھا کہ فوجی عدالتوں میں صرف بدترین دہشت گردوں کے مقدمے چلائے جائیں گے

خدشات اور اعتراضات

ابتدائی مذاکرات میں اپوزیشن کی بعض جماعتوں نے اس بات پر اعتراض کیا تھا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت فوجی عدالتوں کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کر سکتی ہے۔ لیکن یہ اعتراض اُس وقت دب گیا جب فوجی حکام نے اپوزیشن کو یقین دلایا کہ وہ مقدمات کو عدالتوں کو بھیجنے کے حوالے سے اپنا مکمل اختیار استعمال کریں گے۔

سو یہ فیصلہ بھی جی ایچ کیو کے ہاتھ میں تھا کہ دہشت گردی کے کون سے مقدمات فوجی عدالتوں میں جائیں گے اور کون سے نہیں۔ اس حوالے سے وزارتِ داخلہ کا عمل دخل گذشتہ دو سال سے سرسری نوعیت کا رہا ہے۔ چناچہ یہ بات آرام سے کہی جا سکتی ہے کہ دہشت گردی کے حوالے سے بننے والے مقدمات میں تفتیش استغاثہ اور عدالتی اختیارات مکمل طور پر جی ایچ کیو کے ہاتھ میں تھے۔

اب سے دو سال قبل جب پاکستانی پارلیمان نے فوجی عدالتوں کے حوالے سے قانون منظور کیا تھا تو وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا یہ کہنا تھا کہ فوجی عدالتوں میں صرف بدترین دہشت گردوں کے مقدمے چلائے جائیں گے۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جہاں فوجی عدالتوں میں ہونے والی کارروائی کو اس حد تک خفیہ رکھا جاتا رہا ہو، وہاں یہ فیصلہ کون کرے گا کہ جن ملزمان کے مقامات چلائے جا رہے ہیں وہ بدترین دہشت گرد ہی ہیں۔ یہ فیصلہ کرنا اس وقت اور مشکل ہو جاتا ہے جب سنگین نوعیت کے جبری گمشدگی کے کیسوں کو پیش نظر رکھا جائے۔

گذشتہ دو سالوں کے دوران انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے بھی پاکستان کو فوجی عدالتوں کی وجہ سے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ لیکن پاکستان حکومت اس تنقید کو یہ کہہ کر مسترد کرتی رہی ہے کہ دہشت گردی کے مقدمات پر جلد کارروائی کے لیے فوجی عدالتوں کا قیام ضروری تھا۔

Image caption گذشتہ دو سالوں کے دوران انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے بھی پاکستان کو فوجی عدالتوں کی وجہ سے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے

بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکومت خود بھی فوجی عدالتوں کے قیام کی مدت میں توسیع میں خاصی دلچسپی نہیں رکھتی یہ بات اس وقت ظاہر ہوئی جب حکومت نے فوجی عدالتوں کے قیام کی دو سال کی آئنی مدت کے ختم ہونے سے قبل اس مدت میں توسیع کی کوئی کوشش نہیں کی۔ اب حکومت نے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ وہ اس ایشو پر تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کرے گی۔

پیپلز پارٹی کے ایک رہنما کا کہنا ہے کہ وہ اس ایشو پر حکومت کا ساتھ دینے کے لیے بالکل تیار نہیں۔ اسی رائے کا اظہار پی ٹی آئی کے رہنما بھی کر چکے ہیں۔

لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستانی سیاست میں کوئی چیز ناممکن نہیں، خاص طور پر ایسی صورتحال میں جب اپوزیشن کی جماعتیں فوج کو ناراض کرنے سے اجتناب کرتی ہیں، اور فوجی قیادت اس بات کا واضح اشارہ دے چکی ہے کہ وہ فوجی عدالتوں کے قیام کی مدت میں توسیع میں دلچسپی رکھتی ہے۔

اسی بارے میں