طیبہ کے جسم پر تشدد کے نشانات واضح ہیں: رپورٹ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ڈسٹرک اینڈ سیشن جج کی اہلیہ جن پرکم سن ملازمہ کو تشدد کا نشانہ بنانے کے الزامات کا سامنا ہے

اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج کی اہلیہ کے ہاتھوں مبینہ طور پر تشدد کا شکار ہونے والی دس سالہ کمسن گھریلو ملازمہ طیبہ کے طبی معائنے کی ابتدائی رپورٹ جاری کر دی گئی ہے۔

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے چار ڈاکٹروں پر مشتمل بورڈ نے طیبہ کے طبی معائنے کے بعد رپورٹ اسلام آباد پولیس کے حوالے کر دی۔

مقامی پولیس کے مطابق میڈیکل لیگل رپورٹ (ایم ایل آر) کے مطابق طیبہ کے جسم کے مختلف حصوں پر زخموں کے گیارہ نشانات ہیں۔ جس میں کنپٹی کے دائیں حصے اور ہاتھ پر زخموں کے نشانات واضح ہیں۔ اس کے علاوہ بازو، ٹانگوں اور کمر پر بھی تشدد کے نشانات پائے گئے ہیں۔

پولیس کے مطابق اس میڈیکل رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ طیبہ کی ذہنی حالت درست ہے۔ تاہم ابھی وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہے جس میں بتدریج کمی آنے کا امکان ہے۔

ڈاکٹروں پر مشتمل اس چار رکنی ٹیم نے طیبہ کے بالوں اور خون کے نمونے بھی حاصل کیے ہیں جنہیں ٹیسٹ کے لیے لیبارٹری بھجوا دیا گیا ہے۔

دوسری جانب اسلام آباد پولیس بدھ کو طیبہ کو سپریم کورٹ میں پیش کرے گی۔ اس کے علاوہ پولیس کی طرف سے اس مقدمے کی تفتیش میں ہونے والی پیش رفت کے بارے میں بھی عدالت عظمٰی کو آگاہ کیا جائے گا۔

پولیس کے مطابق دس سالہ طیبہ کے والدین ہونے کے پانچ دعویدار ابھی تک سامنے آئے ہیں جن کے خون کے نمونے ڈی این اے ٹسیٹ کے لیے بھجوا دیے گئے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز سپریم کورٹ میں اس از خود نوٹس کی سماعت کے دوران محمد اعظم کو پیش کیا جائے گا جنہوں نے اس مقدمے میں نامزد ملزمہ جو ایڈیشنل سیشن ج کی اہلیہ ہیں، کے ساتھ صلح نامے پر دستخط کیے تھے۔

پولیس کا کہنا تھا کہ حالات و واقعات کی روشنی میں محمد اعظم ہی طیبہ کے والد معلوم ہوتے ہیں۔

اسی بارے میں