پاکستان میں گمشدہ بلاگرز کی رہائی کے لیے مظاہرے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

گذشتہ ایک ہفتےکے دوران چار پاکستانی بلاگرز کی گمشدگی کے خلاف منگل کو اسلام آباد ،لاہور، فیصل آباد، کراچی اور پشاور پریس کلب کے باہر احتجاج کیا گیا۔ مظاہرین نےحکومت سے مطالبہ کیا کہ ریاست اِن افراد کی بازیابی کے لیے ٹھوس اور فوری اقدام اُٹھائے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سلمان حیدر کے ساتھی پروفیسر عدنان محسن نے کہا کہ ’ریاست کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ریاست ماں ہوتی ہے تو ریاست کو اپنے بچوں کا خیال رکھنا چاہیے۔‘

انھوں نے کہا کہ سلمان حیدر اس ریاست کا بیٹا ہے اور اس نے عام لوگوں اور اقلیتوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر ہمیشہ آواز اٹھائی ہے۔ ’آج ہم جو لوگ یہاں جمع ہوئے ہیں یہ توقع کرتے ہیں کہ ریاست ان کی محفوظ دستیابی کے لیے ضرور کوئی قدم اٹھائے گی۔ ہمیں مایوسی نہیں ہو گی۔‘

دوسری جانب پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق پریس کلب کے باہر احتجاج کرتے ہوئے مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ گمشدہ افراد کے خلاف اگر کوئی مقدمہ ہے تو انہیں بازیاب کروا کے عدالت کے سامنے پیش ہونے کا موقع دیں۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
لاپتہ بلاگر اور بہت سارے سوالات

سول سوسائٹی کی کارکن ثنا اعجاز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’انسانی حقوق کے کارکن اغوا ہوئے ہیں اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انھیں عدالت میں لایا جائے۔ اس طرح کسی شخص کو غائب کرنا غیر انسانی ہے۔ یہ ان ساری کنوینشز کی خلاف ورزی ہے جن پر پاکستان نے دستخط کیے ہیں۔ بلکہ یہ آئین کے بنیادی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔ '

ہمارے نامہ نگار کے مطابق اسلام آباد پریس کلب کے باہر ہونے والے احتجاج میں سول سوسائٹی کے علاوہ کچھ سینیٹروں نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اب پارلیمان میں بھی یہی آوازیں گونج رہی ہیں۔

’اس سلسلے میں ایک بل سینیٹ کی ہیومن رائٹس کمیٹی سے پاس ہو چکا ہے۔ پورے ایوان نے اسے منظوری دے کر حکومت کو بھیجا ہے۔ میں سمجھتا ہوں اس واقعے سے اس مہم کو تقویت ملے گی کہ ریاست کے اداروں کو پارلیمان کے اور قانون کے تحت لایا جائے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

دوسری جانب جو کنوینشن ُاگینسٹ اینفورسٹ ڈساپیرنسُ ہے اس پر فی الفور دستخط کرنے چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ لوگ غائب ہو جاتے اور پتہ بھی لگ جاتا ہےکہ کہاں سے غائب ہوئے ہیں لیکن کوئی ایکشن نہیں ہوتا۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس امپیونیٹی کوبھی ختم کرنا چاہیے۔ '

کراچی اور فیصل آباد میں بھی بلاگرز کی گمشدگی کے خلاف احتجاج ہوا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن بشری ملک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھایا۔

’مارشل لا نہیں ہے، جمہوری حکومت ہے۔ اس جمہوری حکومت میں اگر پروفیسر، ڈاکٹر اغوا ہو رہے ہیں تو یہ حکومت کی بہت بڑی نااہلی ہے، ناکامی ہے۔‘

ان ملک گیر مظاہروں کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی لوگ فیس بک پیجز اورٹوئٹر ہیش ٹیگ کے ذریعے احتجاج کر رہے ہیں۔ لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر گمشدہ افراد کی جلد بازیابی عمل میں نہ لائی گئی تو وقت کے ساتھ احتجاج میں مزید تیزی آئے گی۔

اسی بارے میں