فوجی عدالتوں کے باعث مقررہ مدت میں دہشتگردی میں کمی واقع ہوئی: پاکستانی فوج

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR

پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ منگل کو جنرل ہیڈ کوارٹر میں ہونے والے کور کمانڈرز کے اجلاس میں فوجی عدالتوں کی کارکردگی کو سراہا گیا۔

ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر کے مطابق 198ویں کور کمانڈرز کانفرنس آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی صدارت میں ہوئی۔

کانفرنس میں فوجی عدالتوں کی کارکردگی کو سراہا گیا جس کے باعث مقررہ مدت میں دہشتگردی میں کمی واقع ہوئی۔

٭ فوجی عدالتوں کی ایک اور بیساکھی

٭ فوجی عدالتوں میں توسیع کے لیے حکومت کی مشاورت شروع

٭ فوجی عدالتیں اور انصاف کے تقاضے

اس کانفرنس میں ملک کی داخلی اور خارجہ سکیورٹی کی صورتحال اور پاک فوج کی آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔

جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاکستان فوج ملکی سلامتی کے لیے کام کرنے والے تمام ریاستی اداروں کی مکمل حمایت جاری رکھے گی۔

شرکا نے ملک میں جاری فوجی آپریشن 'ضرب عضب' اور اس کے ملک کی داخلی سکیورٹی کی صورتحال پر پڑنے والے مثبت اثرات پر اطمینان کا اظہار کیا۔

آرمی چیف نے دہشت گردی کے خلاف آپریشنز جاری رکھنے اور دہشت گردوں سے خالی کرائے گئے علاقوں کی صورتحال کو مستحکم کرنے کی ہدایت کی۔

انھوں نے فوجی آپریشنز کے باعث عارضی طور پر نقل مکانی کرنے والوں کی واپسی کا عمل بھی تیز کرنے کی ہدایت کی۔

کانفرنس نے ملک کی سکیورٹی کو درپیش ہر خطرے سے نمٹنے کے عزم کو دہرایا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے کروز میزائل 'بابر تھری' کے کامیاب تجربے پر اسٹریٹجک اداروں کو مبارکباد دی۔

واضح رہے کہ پاکستانی فوج کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب وفاقی حکومت نے گذشتہ ہفتے اپنی دو سالہ آئینی مدت مکمل کر کے ختم ہو جانے والی فوجی عدالتوں کی بحالی اور انہیں توسیع دینے کے لیے سیاسی مشاورت شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PM HOUSE

ایوانِ وزیرِ اعظم سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فوجی عدالتوں میں توسیع کا مقصد آپریشنِ ضربِ عضب میں حاصل کی گئی کامیابیوں کو دیرپا بنانا مقصد ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ فوجی عدالتوں کو یہ توسیع ایک محدود مدت کے لیے دی جائے گی جس کا تعین سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد طے کیا جائے گا۔

اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ فوجی عدالتوں نے دہشتگردی کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا۔

اس اجلاس میں وزیرِ خزانہ اسحٰق ڈار، وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان، چیف آف آرمی سٹاف قمر جاوید باجوہ، ڈی جی آئی سی آئی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار، وزیرِ اعظم کے مشیر برائے خارجہ پالیسی طارق فاطمی، قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل ناصر خان جنجوعہ اور دوسرے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے آئینی ترمیم کے تحت بننے والی فوجی عدالتوں نے اپنی مدت مکمل ہونے کے بعد کام کرنا بند کر دیا تھا۔

قانون و انصاف کے بارے میں وزیراعظم کے معاون خصوصی محمد ظفراللہ خان نے بی بی سی کو چند روز قبل دیے گئے انٹرویو میں بتایا تھا کہ حکومت فوجی عدالتوں کو توسیع اور نئے قانون سمیت مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے۔

انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی تھی کہ اس بارے میں سیاسی جماعتوں سے مشاورت کا عمل جاری ہے اور جلد ہی اس بارے میں حتمی فیصلہ کر لیا جائے گا۔

دسمبر 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک سکول پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قومی لائحہ عمل تشکیل دیا گیا تھا، جس کے بعد پاکستان کی پارلیمان نے جنوری 2015 کو آئین میں 21ویں ترمیم اور پاکستان آرمی ایکٹ میں ترمیم کی منظوری دی تھی۔

دو سال کی مدت میں فوجی عدالتوں نے 274 مقدمات کی سماعت مکمل کر کے مجرموں کو سزائیں دیں۔

اس ترمیم کے ذریعے فوجی عدالتوں کو دو سال کے لیے خصوصی اختیارات دیے گئے تھے جس کا مقصد ان سول افراد کا ٹرائل کرنا تھا جن پر دہشت گردی کے الزامات تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں